چینی بحران: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایف بی آر سے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کر لیں

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے چینی کی درآمد، قیمتوں میں اضافے، اور ٹیکس ریلیف سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایف بی آر سے شوگر ملز مالکان اور ڈائریکٹرز کے نام فوری طور پر فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

پی اے سی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر خان کی زیر صدارت ہوا، جس میں چینی بحران، برآمدات، اور قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے پر بحث کی گئی۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چینی کی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ہے، جبکہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ شوگر انڈسٹری کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں۔

رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے ذریعے قوم کو 287 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، اور اس کی نشاندہی کرنے والے پنجاب کے کین کمشنر زمان وٹو کو ہٹا کر کھڈے لائن لگا دیا گیا۔

اجلاس میں سوالات اٹھے کہ جب چینی سرپلس ہے تو کبھی شارٹ فال اور کبھی برآمدات کی اجازت کیوں دی گئی؟ چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ شوگر ملز کو سبسڈی کس بنیاد پر دی گئی، اور ایس آر او کے ذریعے راتوں رات ٹیکس چھوٹ کیوں دی گئی؟

رکن کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے الزام عائد کیا کہ شوگر مافیا خود حکومتوں کا حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں عوامی نمائندوں کو شامل ہونا چاہیے، کیونکہ یہی بورڈ سارے فساد کی جڑ ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے بتایا کہ رواں سال چینی کی 13 لاکھ میٹرک ٹن سرپلس پیداوار رہی، جس میں سے 7 لاکھ 90 ہزار ٹن چینی تین مراحل میں برآمد کی گئی، جس سے ملک کو 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔

5 اگست کا احتجاج اس نظام سے بیزاری کےلیے کیا جارہا ہے : سلمان اکرم راجہ

 

تاہم برآمدات کے دوران مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 143 روپے فی کلو تھی، جو اب 173 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ قیمتوں میں اضافے پر وزیراعظم کی ہدایت پر اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی گئی ہے۔

رکن ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ چینی کی قیمت میں صرف ایک روپے اضافے سے 44 ارب روپے کا فائدہ کمایا جاتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا: "برسوں سے چوہے بلی کا کھیل چل رہا ہے، خدارا ہمیں معاف کر دیں، اگر آپ نہیں چلا سکتے تو شوگر ملز عوام کے حوالے کر دیں، ہم چلا لیں گے!”

کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر نے ایف بی آر حکام کو یاد دلایا کہ مالکان کے ناموں کی فہرست طلب کی جا چکی ہے، مگر تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ "جب حکم ہوگا ہم تفصیلات فراہم کر دیں گے”، جس پر چیئرمین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ تمام شوگر ملز مالکان اور ڈائریکٹرز کی مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔

 

Back to top button