شوگرمافیا کی300ارب کی لوٹ مار،لیٹرے بھی حکومت کاحصہ نکلے

گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال بھی شوگر مافیا کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے تاہم آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے شوگر ملز مافیا کے گٹھ جوڑ کر کے 300ارب روپے کمانے کے الزامات نے معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس ساری صورتحال کا مضخکہ ترین پہلو یہ ہے کہ چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف مسلسل یہ دعوے کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ شوگر مل مافیا کے خلاف جہاد کر رہے ہیں حالانکہ شریف فیملی سمیت اکثریتی شوگر ملز مالکان کسی نہ کسی حیثیت میں اتحادی حکومت میں شامل ہیں۔ناقدین کے مطابق پاکستان میں شوگر مافیا ہر سال عوام کو چینی کی قیمتوں کے ذریعے دونوں ہاتھوں سے لوٹتا ہے اور حکومت ہر بار سخت اقدامات کا دعویٰ کر کے معاملے کو وقتی طور پر دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ تازہ ترین الزامات میں شوگر ملز مافیا کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعے 300 ارب روپے کمانے کے الزامات کے دوران شہباز شریف کا شوگر مافیا کے خلاف "جنگ” کا دعویٰ محض تضاد اور خود فریبی محسوس ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ پبلک اکاؤٹس کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے انکشاف کیا ہے کہ چینی کے بحران اور قیمتوں میں حالیہ ردوبدل سے شوگر مل مالکان نے 300 ارب روپے زیادہ کمائے،دوران اجلاس بتایا گیا کہجولائی 2024 سے جون 2025 کے درمیان چینی برآمد کرنے والی شوگر ملز کی فہرست کے مطابق سات کروڑ 30 لاکھ 90 ہزار کلو چینی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے برآمد کی۔ تاندلیاںوالا شوگر ملز نے 4 کروڑ 14 لاکھ 12ہزار دو سو کلو چینی برآمد کی۔ حمزہ شوگر ملز نے تین کروڑ 24 لاکھ 86 ہزار کلو چینی برآمد کی۔اسی طرح تھل انڈسٹریز کارپوریشن لمٹیڈ نے دو کروڑ 91 لاکھ سات ہزار کلو چینی برآمد کی ۔ المعیز انڈسٹریز نے دو کروڑ 94 لاکھ 52ہزار چینی برآمد کی۔ مجموعی طور پر 67 شوگر ملوں نے 40 کروڑ ڈالر مالیت کی چینی برآمد کی۔اجلاس میں ارکان کی جانب سے حکومت، شوگر مافیا اور ایڈوائزری بورڈ پر سخت تنقید کی گئی۔ اس دوران آڈیٹر جنرل پاکستان نے بتایا کہ چینی کی قیمتوں میں حالیہ ردوبدل سے شوگر ملز نے اربوں روپے کمائے۔ جس پر چینی بحران کے معاملے پر پی اے سی نے شوگر ملز مالکان اور برآمد کنندگان کے نام مانگ لیے۔

مبصرین کے مطابق ہر سال کی طرح اس سال بھی چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ شوگر ملز مافیا کے بڑے کھلاڑی حکومت کا حصہ ہیں، شہباز شریف کے اپنے خاندان سمیت اتحادی جماعتوں کے کئی بااثر افراد اس صنعت سے وابستہ ہیں۔ شہباز شریف دعویٰ تو کرتے ہیں کہ وہ عوام کے مفاد میں اس مافیا کے خلاف کمر بستہ ہیں لیکن ماضی کا ریکارڈ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔ شوگر مافیا ہر سال منافع کماتا ہے، عوام کو مہنگی چینی خریدنی پڑتی ہے، حکومت مذمتی بیانات دیتی ہے، اور اگلے سال یہی چکر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر واقعی حکومت شوگر مافیا کے خلاف کارروائیوں میں مخلص ہوتی، تو اب تک عملی اقدامات سے اس کا ثبوت سامنے آ چکا ہوتا۔شہباز شریف کا شوگر مافیا کے خلاف جہاد محض سیاسی بیانیہ لگتا ہے، حقیقت میں حکومتی صفوں میں چھپے مفاد پرست عناصر خود اس لوٹ مار کا حصہ ہیں۔ ناقدین کے مطابق گزشتہ 10 سال سے یہی ڈرامہ چل رہا ہے: کبھی چینی ایکسپورٹ کی جاتی ہے اور کبھی امپورٹ، تاہم ہر بار اس سارے عمل کی قیمت عوام  کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں سب سے بڑا شوگر گروپ جہانگیر ترین کا ہے، جس کا مارکیٹ شیئر 15 فیصد ہے، اس کے بعد اومنی گروپ کا مارکیٹ شئیر (12 فیصد) ہے جبکہ وزیرِ صنعت، شریف خاندان، اور دیگر جماعتوں کے افراد بھی شوگر ملز کے مالک ہیں۔ یعنی شوگر انڈسٹری صرف اقتصادی نہیں، بلکہ سیاسی طاقت کا بھی منبع ہے۔ یہ لابی اتنی طاقتور ہے کہ اب ریاستی رٹ کے خلاف منظم مزاحمت کر رہی ہے۔

تاہم دوسری جانب مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی مافیا کیخلاف ٹیکس کے سخت نفاذ کے ذریعے پہلا بڑا وار کیا ہے، لیکن مافیا نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے ملکی مارکیٹس کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں چینی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔تاہم حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم، جن کے اپنے خاندان کی چینی کی صنعت سے پرانی وابستگی رہی ہے، نے سیاسی اور مالی لحاظ سے مضبوط سمجھے جانے والے شوگر مافیا سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کے حکامات پر  ایف بی آر نے شوگر ملز کی جانب سے چینی کی فروخت کو دستاویزی شکل دینے اور ان سے ٹیکس وصولی میں ریکارڈ کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن صارفین کی سطح پر اس کے اثرات برعکس رہے اور ریٹیل مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے ریونیو ریکوری مہم سے حاصل ہونے والے سیاسی نیک نیتی کے اثرات زائل ہوگئے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چینی کارٹیل کا قیمتوں میں ہیراپھیری سے کیا گیا ردعمل ایک گہری جنگ کو بے نقاب کرتا ہے۔ انفورسمنٹ کے نتیجے میں حاصل کامیابیوں کے باوجود، حکومت چینی کی قیمتوں کو قابو میں لانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، جو عام پاکستانیوں کی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ مبصرین کے مطابق حکومت نے بطور طاقت سپر ٹیکس عائد کر کے جو رقم شوگر ملز مالکان سے اکٹھی کی تھی شوگر مافیا اس سے دوگنا رقم اب چینی مہنگی کر کے مارکیٹ کے ذریعے عوام سے واپس لے رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق وزیراعظم اس وقت ایک سیاسی اور معاشی مخمصے کا شکار ہیں کیونکہ اگر حکومت دباؤ میں آ کر پسپائی اختیار کرتی ہے تو پیغام واضح ہو گا: اعداد و شمار چاہے کچھ بھی ہوں، مارکیٹ پر کارٹیل کی گرفت برقرار ہے۔ لیکن اگر ریاست اپنا دباؤ برقرار اور قیمتوں کو قابو میں لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو طاقتور شوگر انڈسٹری کیخلاف یہ ایک نادر کامیابی ہوگی۔

Back to top button