سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے سکتی ہے : جسٹس محمد علی مظہر

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں ایک مقدمےکی سماعت کےدوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیےکہ 26ویں آئینی ترمیم کےبعد صرف پروسیجر تبدیل ہوا ہے،سپریم کورٹ اب بھی ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ نےآج مختلف 16 مقدمات کی سماعت کی۔

بینچ میں جسٹس جمال خان مندو خیل،جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

کنونشن سینٹر کےنجی استعمال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کےدوران جسٹس امین الدین خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب اس معاملہ پر شاید واجبات بعد میں ادا کردیے گئے تھے،

جسٹس محمد علی مظہر نےریمارکس دیے اس سوموٹو کیس میں سابق وزیر اعظم کو بھی نوٹس کیاگیا تھا۔

جسٹس جمال خان مندو خیل نےریمارکس دیے کنونشن سینٹر کو ادارہ کی پالیسی کےمطابق چلائیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نےمؤقف اختیار کیاکہ مجھے واجبات ادائیگی کی معلومات لےلینے دیں،

عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل آفس سے جواب طلب کرتےہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آئینی بینچ : آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست سماعت کےلیے مقرر

 

اس کے علاوہ غیرملکی بینک اکاؤنٹس خفیہ رکھنے اور لوٹی رقم ریکوری کیس کی سماعت کےدوران وکیل حافظ احسان نے مؤقف اختیار کیاکہ انکم ٹیکس قانون میں ترمیم ہو چکی ہے،

قانونی طریقہ کےتحت خفیہ اکاؤنٹس اور ریکوری پر کارروائی چل رہی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیےکہ کیس میں ایف آئی اے،ایف بی آر سمیت تمام ایجنسیوں کو رپورٹ کےاحکامات جاری ہوئے۔

وکیل ایف بی آر نےمؤقف اختیار کیایہ معاملہ ایف بی آر اور ایف آئی اے کا ہے، ایجنسیوں کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ کیس کو ختم کرنا ہےتو رپورٹ دےدیں۔

عدالت نے ایف آئی اے اور ایف بی آر کو غیرملکی خفیہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ طلب کرلی, عدالت نے لوٹی رقم واپسی پر بھی متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں کےلیے ملتوی کردی۔

Back to top button