سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں پانچ مزید نان عمرانڈو ججز شامل

سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بینچ میں عمران خان اور ان کی تحریک انصاف سے ذہنی مطابقت نہ رکھنے والے نان عمرانڈو ججز کی تعداد میں 5 مزید منصفوں کا اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد اڈیالہ جیل میں بند سابق وزیراعظم اور ان کی جماعت کو ریلیف ملنے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے عمرانڈو ججز 28 فروری کو تب مزید اقلیت میں چلے گئے جب 28 فروری کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں آئینی بینچ میں مزید 5 ججز کو شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی،  یوں آئینی بینچ میں ججز کی کل تعداد 13 ہو گئی ہے۔ اجلاس کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس عامر فاروق، جسٹس شکیل احمد، جسٹس اشتیاق ابراہیم، اور جسٹس صلاح الدین پنہور کو آئینی بینچ میں شامل کر دیا گیا۔ آئینی بینچ میں مزید 5 ججز کو شامل کرنے کی منظوری کثرت رائے سے دی گئی، حسب معمول، اعلی عدلیہ میں عمراندار ججوں کے قائدین، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر کے علاوہ جوڈیشل کمیشن کے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے دو ممبرز بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے ان 5 ججز کو آئینی بینچ میں شامل کرنے کی مخالفت کی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کے ان چاروں ممبرز نے یہ عجیب رائے دی کہ سپریم کورٹ کے تمام ججز کو آئینی بینچ میں شامل کیا جائے۔ تاہم اس تجویز کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے لیے بھی تین مزید ججز نامزد کر دیے گئے۔ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں جسٹس ریاضت سحر، جسٹس نثار احمد بھمبھرو اور جسٹس عبدالحامد شامل ہوں گے۔

جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے تین اجلاسوں کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں چار اضافی ججز کی تعیناتی اور سپریم کورٹ آئینی بینچ میں مزید پانچ ججز کی شمولیت کی بھی منظوری دی۔

اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے پہلے اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ میں اضافی ججز کی تعیناتی کا معاملہ زیر غور آیا، جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائی کورٹ میں اضافی ججز کے لیے 4 ناموں کی منظوری دی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز ججز راجا غضنفر علی خان، تنویر احمد شیخ، طارق محمود باجوہ اور عبہر گل خان کی لاہور ہائی کورٹ میں تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اضافی ججز کی تعیناتی کی منظوری اکثریت رائے سے دی گئی۔

طالبان دہشت گردوں نے بابائے طالبان کے بیٹے کو کیوں ٹارگٹ کیا؟

جوڈیشل کمیشن کے دوسرے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں ججز کی شمولیت کا معاملہ زیر غور آیا، جوڈیشل کمیشن نے تین ججز کی سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں شمولیت کی منظوری دی۔ اعلامیے کے مطابق جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس جسٹس عبد الحامد بھرگری، جسٹس نثار احمد بھمبھرو کی آئینی بینچ میں شمولیت کی منظوری دی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ آئینی بینچ میں مزید ججز کی شمولیت کی منظوری بھی اکثریت رائے سے دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے تیسرے اجلاس میں سپریم کورٹ آئینی بینچ میں ججز کی شمولیت کا معاملہ زیر غور آیا، جوڈیشل کمیشن نے سپریم کورٹ کے پانچ ججز کی آئینی بینچ میں شمولیت کی منظوری دی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس شکیل احمد، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس اشتیاق اِبراہیم کی بھی آئینی بینچ میں شمولیت کی منظوری دی گئی۔

Back to top button