سپریم کورٹ نے عمران خان کی ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دیدیا

سپریم کور ٹ نے عمران خان کی ذاتی معالجین تک رسائی کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت اچھے موڈ میں ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے دوران سماعت عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی، جس کے دوران عدالت میں متعلقہ حکام کی رپورٹ پیش کی گئی۔ جس میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور ماہر امراضِ چشم ڈاکٹروں تک رسائی کی درخواست کی ہے۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت ماہر آنکھوں کے ڈاکٹروں تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چونکہ عمران خان ریاستی تحویل میں ہیں، اس لیے انہیں مناسب طبی سہولیات ملنی چاہئیں۔
26 نومبر احتجاج کیس : علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری، گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ عمران خان سمیت تمام قیدیوں کو یکساں سہولیات فراہم کی جائیں، کسی کو اضافی یا نمایاں مراعات نہ دی جائیں بلکہ سب کے ساتھ مساوی سلوک ہو۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا رویہ مثبت ہے اور عمران خان کو اپنے بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی اجازت بھی دی جانی چاہیے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مطابقت ہے۔عدالت نے عمران خان کی آنکھوں کا طبی معائنہ کرانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جائے اور یہ اقدامات 16 فروری سے پہلے مکمل کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کا معاملہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس پر مداخلت ضروری ہے، جبکہ اس حوالے سے حکومت کا مؤقف بھی جاننا چاہا گیا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات کرادی گئی
اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور اگر کوئی قیدی مطمئن نہیں تو ریاست مناسب اقدامات کرے گی۔
چیف جسٹس نے بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کو اپنے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے، جبکہ اصل کیس کی سماعت کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
