ہرجانہ کیس: سپریم کورٹ نے عمران خان کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہرجانہ کیس میں عمران خان کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روک دیا۔ جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حکم امتناع جاری کیا اور سابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ کیس کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔
اس کیس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ 2017 میں شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے کا ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کا موقف تھا کہ پاناما کیس پر خاموش رہنے کے لیے انہیں 10 ارب روپے کی پیشکش کی گئی، جس پر شہباز شریف نے الزامات کو جھوٹا قرار دیا اور ہتک عزت کا دعویٰ کیا۔
لاہور کی سیشن کورٹ میں ٹرائل جاری تھا، تاہم ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے جواب جمع کرانے میں تاخیر کو بنیاد بنا کر ان کا حقِ دفاع ختم کر دیا، اور لاہور ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ برقرار رکھا۔ مئی 2025 میں شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کروایا جبکہ گواہان عطا تارڑ اور ملک احمد خان پر وکلاء کی جانب سے جرح مکمل ہو چکی تھی۔
عمران خان کیخلاف فارن فنڈنگ کیس:بینکنگ کورٹ کا چالان جمع کرانے کا حکم
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی اپیل خارج کر کے حقِ دفاع ختم کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان نے اکثریتی رائے دی کہ بانی پی ٹی آئی کا رویہ دانستہ نافرمانی اور عدالتی عمل میں تاخیر والا تھا۔
تاہم، جسٹس عائشہ ملک نے اختلافی نوٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ کسی فریق کا حقِ دفاع ختم نہیں ہونا چاہیے اور بانی پی ٹی آئی کو اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
یہ اقدام عدالتی عمل میں انصاف اور حقِ دفاع کے تحفظ کی اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔
