مغلیہ سلطنت پر بنی متانزع سیریز ’’تاج ڈیوائڈ بائے بلڈ‘‘ ریلیز

بھارت کے معروف سٹریمنگ پلیٹ فارم ’’زی فائیو‘‘ نے مغل بادشاہوں اور مغلیہ سلطنت پر بنائی گئی متنازع ویب سیریز ’تاج ڈیوائڈ بائے بلڈ‘ کو ریلیز کر دیا ہے، ویب سیریز کی کہانی مغل بادشاہوں، ان کے شہزدوں، کنیزوں اور مغل بادشاہوں کے محلات میں ہونے والی سازشوں اور خون خرابے کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔

ویب سیریز میں مغلیہ سلطنت کے آخری دور کو دکھایا گیا ہے اور اس میں انار کلی سمیت دیگر کرداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جن کی پرفارمنس کو سراہا گیا ہے، ویب سیریز کے جاری کیے گئے ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ اس میں بھی مغلیہ سلطنت اور بادشاہوں کو روایتی بولی وڈ فلموں کی طرح دکھایا گیا ہے، یعنی انہیں جنگجو، ظالم، لٹیروں اور بادشاہت کے بھوکے افراد کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

ویب سیریز کی ریلیز کے بعد ایک بار پھر ہندوستان بھر میں مغل بادشاہوں کی تاریخ اور بادشاہت پر بحث ہونے لگی ہے اور لوگ انہیں ظالم قرار دیتے دکھائی دیتے ہیں، ویب سیریز میں مغل شہزادوں کو کنیزوں اور دولت کی خاطر اپنے بڑوں سے سازشیں کرتے اور محلات میں خون خرابا کرتے دکھایا گیا ہے۔

ویب سیریز میں روایتی بالی وڈ فلموں کی طرح مسلمان بادشاہوں یعنی مغل بادشاہوں کو اقتدار کا بھوکا، کنیزوں پر ریاستیں اور ملکیتیں لٹانے والے بادشاہوں کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ویب سیریز میں نصیر الدین شاہ کو اہم کردار میں دکھایا گیا ہے جب کہ انارکلی کا کردار ادیتی راؤ حیدری نے ادا کیا ہے اور شہزادہ سلیم کا روپ عاشم گلاٹی نے دھارا ہے۔

نصیر الدین شاہ، دھرمیندر، ادیتی راؤ حیدری، عاشم گلاٹی، طحہٰ شاہ اور سندھیا مریدل سمیت دیگر کاسٹ پر مبنی ویب سیریز کے پہلے سیزن کو رواں ماہ مارچ کے آغاز میں جاری کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بالی ووڈ سٹار رنویر کپور کی فلموں ’’پدماوت‘‘ میں بھی مغل بادشاہوں کو لے کر فلمی کہانی کا روپ دیا گیا تھا جس میں مسلم بادشاہ کو ایک جابر، ظالم حکمران کے طور پر پیش کیا گیا تھا جبکہ یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ وہ کس طرح اپنی کنیزوں کو ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔

فلم ’’پدماوت‘‘ کی ریلیز پر بھی بھارت میں مغلم بادشاہوں، راجائوں پر تنقید کا مسلم برادری نے بُرا منایا تھا، جس کا اظہار سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ عوام سطح پر احتجاج کی صورت میں بھی کیا گیا تھا۔

مفت ٹوئیٹر استعمال کرنیوالے صارفین کے اکائونٹس خطرے میں

Back to top button