اپنا درد بھگانے کیلئے پرانی تصاویر نکال کر دیکھیں

اکثر لوگ سر درد یا جسم میں درد سے چھٹکارے کے لیے مختلف دوائیاں یا کریمیں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اب ایسے لوگوں کے لیے خوش خبری ہے کہ وہ اپنی درد ایک نہایت آسان طریقے سے دور بھگا سکتے ہیں، ایک تازہ تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ آپ اپنی پرانی یادگار تصاویر دیکھ کر بھی جسم اور سر درد سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔
چین میں ہونے والی طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر آپ کو درد یا تکلیف کا سامنا ہو تو آپ بروفن کا استعمال کرنے کی بجائے اپنی خوشگوار یادوں ہر مبنی پرانی تصویر دیکھ لیں، کیونکہ پرانی یادیں یا ماضی سے جڑے جذبات آپ کی تکلیف کے احساس کو کم کر سکتے ہیں۔ چائینیز اکیڈمی آف سائنسز اور لیاوننگ نارمل یونیورسٹی کی تحقیق میں شامل افراد کو کہا گیا کہ وہ حرارت سے پہنچنے والی تکلیف کی سطح کے بارے میں تب بتائیں جب وہ پرانی یادیں ذہن میں تازہ کرنے والی تصویر کو دیکھ رہے ہوں۔
تحقیق کے دوران درد میں مبتلا افراد کو بچپن کے کارٹونز، کھیل یا ٹافیوں وغیرہ کی تصاویر دکھائی گئیں اور انکا موازنہ ایک دوسرے گروپ کے ساتھ کیا گیا جن کو حال کی تصاویر دکھائی گئیں، اس مرحلے کے دوران رضاکاروں کا ایم آر آئی سکین بھی کیا گیا۔
چنانچہ محققین نے دریافت کیا کہ بچپن کی یادیں متحرک کرنے والی تصاویر کو دیکھنے والے افراد نے کم تکلیف محسوس کی، لہذا اب یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اپنی تکلیف کو کم یا ختم کرنے کے لیے ادویات کی بجائے لوگ اپنی پرانی یادوں کا سہارا لیں، محققین کا کہنا یے کہ ناسٹلجیا ایک مثبت جذبہ ہے جس کو لوگ اپنی زندگیوں میں آسانی سے محفوظ کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر لوگ اپنے گھر والوں یا دوستوں کی تصاویر دیکھ کر خوشی اور سکون محسوس کرتے ہیں۔
آوازکی لہروں سے گردوں کی پتھریوں کا کامیاب تجربہ
کچھ سابقہ تحقیقی رپورٹس سے بھی معلوم ہوا تھا کہ ناسٹلجیا سے نفسیاتی اور جذباتی فوائد حاصل ہوتے ہیں، بالخصوص دائمی درد کے شکار افراد کی تکلیف میں کمی آتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پرانی تصاویر ہی نہیں بلکہ موسیقی، فلمیں یا مخصوص کہانیاں بھی اس طرح کے مثبت جذبات کو متحرک کرتی ہیں، ایسا ہی بچپن کے عہد کی خوشبوؤں یا مخصوص غذاؤں کے ذائقے سے بھی ہوتا ہے۔
اس طرح کا ناسٹلجیا مستقبل میں تکلیف کے شکار افراد کے لیے سستے اور آسانی سے دستیاب ٹولز کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، محققین کی جانب سے اب مختلف عمروں کے گروپس میں اس تحقیق کو آگے بڑھایا جائے گا، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل JNeurosci میں شائع ہوئے ہیں۔
