بلوچستان میں دہشتگردوں کے ساتھ سیلفیاں بنانا ریاست دشمنی قرار

بلوچستان میں شدت پسندی صرف بارود اور بندوق تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا پر بننے والی سیلفیوں، ویڈیوز اور تحسین آمیز پوسٹس نے دہشتگردی کو ایک نئی، خطرناک شکل دے دی ہے۔ تاہم بلوچستان حکومت نے اس سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے شدت پسندوں کے ساتھ سیلفیز، ویڈیوز اور شرپسندوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ستائشی پوسٹوں پر مکمل پابندی لگا دی ہےاور اسے محض جذباتی غلطی کی بجائے ریاست دشمنی قرار دے دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ بنائی گئی تصاویر یا ویڈیوز بظاہر کیمرے کے لینز سے بے ضرر لگتی ہے، مگر حقیقت میں توصیفی اور ستائشی ویڈیوز دہشتگردوں کے بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔ کیونکہ ایسی ویڈیوز سے جہاں دہشتگردوں کے خالف ہمدردی کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے وہیں دوسری جانب عوامی میں بغاوت کو بھی ہوا ملتی ہے تاہم اب شدت پسندوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے اور سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر پر مکمل حکومتی پابندی کے بعد ایسی کوئی بھی حرکت صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ ریاست سے غداری کے زمرے میں آئے گی۔ بلوچستان حکومت کے مطابق دہشتگردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی بصری یا ابلاغی معاونت، چاہے وہ سیلفی ہو یا ویڈیو، اب قابلِ سزا جرم تصور کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے بقول بلوچستان حکومت کا یہ اعلان نہ صرف ریاستی رٹ کی بحالی کا پیغام ہے بلکہ اُن عناصر کے لیے کھلا انتباہ بھی ہے جو دہشتگردی کو رومانس یا مقبولیت کا لبادہ پہنانا کیلئے مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان حکومت نے شدت پسندوں کی عوامی سطح پر تائید، تصویری تشہیر اور سوشل میڈیا پر موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ سیلفی، ویڈیوز یا تصاویر بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس حوالے سے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حالیہ مہینوں کے دوران بعض بلوچ شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ چھوٹے شہروں یا شاہراہوں پر مختصر وقت کے لیے نمودار ہو کر مقامی کنٹرول سنبھالتے ہیں اور اس موقع پر متعدد شہری ان کے ساتھ تصاویر یا ویڈیوز بنا کر انہیں فیس بک، ٹک ٹاک یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے عمران کی احتجاجی کال کا ستیاناس کر دیا
تاہم اب بلوچستان حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ’دہشت گردوں کے ساتھ سیلفیاں یا ویڈیوز بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘ محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق حکومت نے دہشت گردی کی کسی بھی انداز میں تائید و تعریف کرنے والوں کے خلاف سخت پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے افراد کو نہ صرف معاونِ جرم سمجھا جائے گا بلکہ ان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’دہشت گردوں کی لاشوں، قبروں یا جنازوں پر کالعدم تنظیموں کے جھنڈے لگانے، تصاویر کھینچنے یا انہیں پھیلانے جیسے اقدامات بھی قابلِ تعزیر سمجھے جائیں گے۔‘ محکمہ اطلاعات بلوچستان نے اس سلسلے میں ’دہشت گردوں کا کسی بھی طرح کا ساتھ عام عوام کے لیے بن سکتا ہے وبال جان‘ کے عنوان سے باقاعدہ اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کر دیا ہے۔ جاری کردہ اشتہارات میں عوام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ’بلوچستان کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کے دوران بعض شہری، دہشت گردوں کے ہمراہ سیلفی، ویڈیوز اور تصاویر بناتے ہیں یہ عمل نہ صرف غیرذمہ دارانہ بلکہ ایسے افراد تعزیرات پاکستان کے تحت ’معاون جرم‘ تصور کیے جائیں گے۔‘ اشتہار میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’دہشت گردی کے واقعات کے دوران یا بعدازاں کسی بھی مشتبہ مقام پر موجودگی، ہجوم لگانا یا ویڈیو اور فوٹو بنانا نہ صرف قانونی کارروائی کا موجب بن سکتا ہے بلکہ فورسز کے فوری ردعمل کے دوران ایسے افراد گولی کا نشانہ بن کر اپنی جان بھی گنوا سکتے ہیں۔‘ سرکاری اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اگر رسپانس میکنزم کے دوران کی جانے والی کارروائیوں میں کسی فرد کو جانی یا مالی نقصان ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری اسی فرد پر عائد ہوگی۔‘ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ یا غیرضروری سرگرمی سے مکمل طور پر گریز کریں۔
مبصرین کے مطابق حکومت نے ان سرگرمیوں کو دہشت گردی کی "غیر اعلانیہ تشہیر” اور ریاست کے خلاف نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب ایسی کسی بھی کارروائی کو محض غیر ذمہ دارانہ حرکت نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ قانون کی نظر میں یہ معاونتِ جرم شمار ہوگی، اور ایسے افراد کے خلاف تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد شدت پسندوں کی لاشوں کو سول اسپتال کوئٹہ سے زبردستی لے جانے کی کوشش اور انھیں ہیرا بنا کر پیش کرنے پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھااور اس وقت وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس تناظر میں ایک سخت مؤقف اختیار کیا، ان کا کہنا تھا کہ ریاست کسی صورت کسی دہشت گرد کو ہیرو بنانے کی اجازت نہیں دے گی، ایسے اقدامات نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ عام شہریوں کے ذہنوں میں شدت پسندی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی ایک منظم کوشش بھی ہیں، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جس کے بعد اب حکومت نے ایسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ مبصرین کے بقول بلوچستان حکومت کی یہ نئی پالیسی ریاستی رٹ کی بحالی اور شدت پسندی کے بیانیے کو کاؤنٹر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔ جس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔
