روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات شروع

روسی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ وزارت کی جانب سے تصاویر جاری کی گئی ہیں جس میں دونوں فریقوں کے وفود ایک بڑی میز پر آمنے سامنے بیٹھے ہیں، مذاکرات کے آغاز سے قبل یوکرین کی طرف سے بھی بات چیت کا عندیہ دیا گیا تھا، یوکرائن کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات سے اس کا مقصد فوری جنگ بندی اور یوکرین سے روسی فوج کی واپسی ہے، دوسری جانب روس کا انداز محتاط ہے اور اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ وہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات میں کیا چاہتا ہے۔
بیلاروس کے سرکاری خبر رساں ادارے بیلتا نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے بار بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق: ’روس اور یوکرین پہلی بار مذاکرات کر رہے ہیں۔‘بات چیت کے آغاز سے قبل یوکرین کے صدارتی دفتر نے مطالبہ کیا تھا کہ روس سے فوری جنگ بندی اور روسی فوج کے یوکرین سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔
ادھر پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے روس کے یوکرین پر حملے کا معاملہ فوری طور پر زیر بحث لانے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس سے ماسکو مزید الگ تھلگ ہو گا جس نے جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں وضاحت کرنے کی یوکرین کی کوشش کی مخالفت کی۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا انتہائی غیرمعمولی اور ہنگامی اجلاس آج (پیر کو) طلب کر لیا گیا ہے جس میں یوکرین پر روسی حملے کا معاملہ زیر بحث آئے گا۔
روس اور یوکرین کی جنگ پاکستانیوں کو کتنی مہنگی پڑے گی؟
اقوام متحدہ کے پناہگزینوں سے متعلق ادارے (یو این ایچ سی آر) کے سربراہ فلیپوگرینڈی نے کہا ہے کہ روس کے حملے کے بعد یوکرین سے فرار ہو ہر ہمسایہ ملکوں میں پہنچنے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ ہو گئی ہے۔یوکرین پر روسی حملے کے پانچویں دن یوکرینی فوج نے کہا کہ روسی فوجیوں نے ’حملے کی شدت‘ کو کم کردیا ہے۔مسلح افواج کے سٹاف جنرل نے کہا: ’روسی قابضین نے حملے کی شدت کو کم کر دیا ہے لیکن وہ اب بھی بعض علاقوں میں کامیاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشرقی یورپی ملک بیلاروس نے پیر کو کہا کہ یوکرین اور روس کے وفود کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے جگہ تیار کرلی ہے۔یوکرین نے ماسکو کے اہم اتحادی ہمسایہ ملک بیلاروس میں روسی نمائندوں سے ملاقات کے لیے ایک وفد بھیجنے پر اتفاق کیا ہے، بیلاروس نے یوکرین پر حملے کے لیے روسی فوجیوں کو راستہ فراہم کیا تھا، بیلاروس کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر ایک لمبی میز کی تصویر شیئر کی جس پر روسی اور یوکرینی پرچم رکھے ہوئے ہیں۔ پوسٹ میں کہا گیا، ’بیلاروس میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کے لیے جگہ تیار کرلی گئی ہے ،وفود کی آمد متوقع ہے۔
بیلاروسی وزارت خارجہ کے ترجمان اناتولی گلیز نے کہا: ’تمام وفود کے پہنچتے ہی مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ روس نے گذشتہ جمعرات کو یوکرین پر حملہ کیا تھا۔ یوکرین پر روس کے حملے میں سہولت کار کے کردار کے پیش نظر کیئف ابتدا میں بیلاروس میں وفد بھیجنے سے گریزاں تھا۔یوکرینی افواج کی روسی جارحیت کے خلاف سخت مزاحمت اور ولادی میر پوتن کی جانب سے جوہری افواج کو ہائی الرٹ کرنے کا حکم دینے کے ایک دن بعد یوکرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مذاکرات کے دوران پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یوکرین میں ہونے والی لڑائی میں بچوں سمیت درجنوں شہری ہلاک ہو چکے ہیں. کیئف کے مطابق مذاکرات کی کوئی پیشگی شرائط نہیں ہیں۔یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے کہا کہ وہ بیلاروس میں بات چیت کے امکانات کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح، میں اس ملاقات کے نتائج پر واقعی یقین نہیں رکھتا لیکن انہیں کوشش کرنے دیں۔
