FATFاجلاس کے دوران پاکستان کے TTP سے مذاکرات

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے جاری اجلاس کے دوران حکومت پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان کے دہشت گردوں سے مذاکرات بحالی کے لیے گفت و شنید نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا امکان ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ
ایف اے ٹی ایف کا بنیادی مطالبہ یہی ہے کہ شدت پسندوں اور دہشت گردوں کو ریاستی طاقت سے ختم کیا جائے
۔
لیکن ریاست پاکستان ان عناصر کو نشان عبرت بنانے کی بجائے بار بار ان سے مذاکرات کرتی ہے اور نتیجہ پھر ناکامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس سے پہلے حکومت پاکستان نے شدت پسند تنظیم تحریک لبیک پر بھی پابندی عائد کرنے کے بعد اہنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ اب تحریک طالبان کی جانب سے یکطرفہ طور پر مذاکراتی عمل ختم کرنے کے بعد کپتان حکومت ٹی ٹی پی کی منتوں پر اتری ہوئی ہے اور امن جرگوں کے ذریعے مذاکرات بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یوں نا صرف ریاست کی ریٹ ختم ہو رہی ہے بلکہ دہشت گردوں کے حوصلے بھی مزید بلند ہو رہے ہیں۔
لاکھوں پاکستانیوں کو شہید کرنے والی دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درپردہ مذاکرات شروع کئے جانے کی باقاعدہ تصدیق کے بعد ناقدین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 21 فروری سے جاری اجلاس میں ٹی ٹی پی سے مزاکرات کی خبروں کا برا اثر پڑے گا اور ان خدشات کو تقویت ملے گی کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ صورتحال میں نہ صرف پاکستان کی گرے لسٹ سے نکلنے کی خواہش دم توڑ گئی ہے بلکہ بلیک لسٹ میں دھکیلے جانے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ صلح اور امن معاہدے کے لیے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل جرگوں کے ذریعے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس ضمن میں شمالی اور جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل دو علیحدہ جرگے سرحد پار افغانستان میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو کمانڈروں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کالعدم ٹی ٹی پی سے امن معاہدے کے لیے کوششوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام لوگوں کو بھی اس سلسلے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور دہشت گردی سے ملک و قوم کا بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ان کے بقول وفاقی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے قیام امن کے لیے کوشاں ہے اور امید ہے کہ حالیہ کاوشیں بہت جلد نتیجہ خیز ثابت ہوں گی۔
یاد رہے کہ اگست 2021 کے وسط میں افغان طالبان کے افغانستان میں برسر اقتدار آنے کے بعد ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان مصالحت کے لیے مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ ٹی ٹی پی نے لگ بھگ 100 جنگجوؤں کی رہائی کی یقین دہانی پر یکم نومبر 2021 سے ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا مگر نو دسمبر کو ٹی ٹی پی نے ازخود حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا کر جنگ بندی ختم کردی تھی۔
بعدازاں خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان کا 10 رکنی جرگہ حقانی نیٹ ورک کی وساطت سے افغانستان میں روپوش شدت پسند کمانڈر حافظ گل بہادر جب کہ جنوبی وزیرستان کے محسود قبائل کا جرگہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ بیرسٹر سیف نے کالعدم ٹی ٹی پی سے مصالحت کے لیے افغان طالبان اور شمالی و جنوبی وزیرستان کے رہنماؤں پر مشتمل روایتی جرگوں کے ارکان کے کردار کو سراہا ہے۔
خیال رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ مصالحت کے لیے حکومتی کوششیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بالخصوص قبائلی علاقوں میں تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی 21 فروری کو ہی ٹی ٹی پی نے ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے علاقے مڈی میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس وین کو نشانہ بنانے کی ذمے داری قبول کی ہے۔
معروف افغان صحافی سمیع یوسفزئی نے بھی تحریک طالبان پاکستان اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برسر اقتدار طالبان رہنماؤں نے پاکستانی طالبان سے کہا ہے کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرکے مسائل کو حل کریں۔حکومتِ پاکستان نے اعلان کر رکھا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جو جنگجو مزاحمت چھوڑ کر ملکی آئین کو تسلیم کریں گے، اُنہیں عام معافی دے دی جائے گی۔
اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی طالبان اپنے مطالبات میں کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہیں اور وہ اسلامی نظام کے نفاذ اور قبائلی علاقوں کی خود مختاری کے اپنے مطالبات پر قائم ہیں۔ قبائلی عمائدین کے جرگے کے ذریعے تحریک طالبان کے ساتھ مصالحت کی کوششوں کے بار ے میں حکومتِ پاکستان کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن ماضیٔ قریب میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید سمیت کئی عہدے داروں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کی تھی۔
پاکستانی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ بات چیت پاکستان کے آئین کے دائرہ کار کے اندر ہی ہو سکتی ہے اور حکومت ان شدت پسند عناصر کو عام معافی دینے پر تیار ہے جو عسکریت پسندی چھوڑ کر مرکزی دھارے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے ایک ایسے وقت میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مزاکرات کی تصدیق کی گئی ہے جب پاکستان کا کیس سننے کے لئے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹی ٹی پی کے ساتھ مزاکرات سے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا لیکن اس حکمت عملی سے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
