ایران کے خلیجی ممالک پر حملےجاری، سعودی آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی

ایران کی جانب سے کویت، بحرین، قطر اور دبئی پر تازہ حملے کیے گئے، جن میں کئی امریکی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔جبکہ سعودی آئل ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی۔
عرب میڈیا کے مطابق کویت میں امریکی سفارتخانے سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ کچھ دیر قبل ایران نے کویت پر ڈرون حملہ کیا تھا۔ کویتی وزارت دفاع کے حکام نے کہا کہ وہ امریکی افواج کے ساتھ رابطے میں ہیں اور حادثات کی وجوہات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ امریکا کے متعدد طیارے گر چکے ہیں، تاہم پائلٹس محفوظ ہیں۔
کویتی حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز کا ملبہ مینا الاحمدی ریفائنری کے قریب گرا، جس سے دو افراد زخمی ہوئے۔ قبل ازیں کویت نے ایرانی ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔
شپنگ ذرائع کے مطابق سعودی عرب پی این ایس سی چارٹر جہاز کی تیل لوڈنگ کے دوران راس تنورہ پورٹ پر ڈرون حملہ ہوا، پورٹ پر موجود پی این ایس سی چارٹر جہاز پر ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔
بحرین میں ایک بار پھر سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ قطری دارالحکومت دوحہ میں زوردار دھماکے سنائی دیے اور فضاؤں میں چھ دھماکے محسوس کیے گئے۔
امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دوحہ اور دبئی میں متعدد زوردار دھماکوں کے ساتھ ساتھ جنگی طیاروں کی پروازوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ایران نے صدر ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش مسترد…
یاد رہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لارلجانی نے امریکی میڈیا میں زیرِ گردش مذاکرات کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت نہیں کرے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں علی لاریجانی نے واضح کیا، "ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔”
یہ بیان امریکی اخبار کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا سے جوہری مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی تھی۔
