رہنما تحریک انصاف شیرافضل مروت رہا

اسلام آباد پولیس نے رہنماتحریک انصاف شیرافضل مروت کورہا کردیا

 تفصیلات کے مطابق رہنماتحریک انصاف شیرافضل مروت رہائی کے بعد اپنے دفترپہنچ گئے۔کارکنوں نے بھرپورانداز میں شیرافضل مروت کا استقبال کیا۔شیرافضل مروت کو پہلے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا پھر رہائی کی پریس ریلیز بھی جاری کردی۔شیرافضل مروت کے بھائی نے رہائی کی تردید کی تھی ۔

پولیس نے الزام عائد کیا کہ شیرافضل مروت نے گرفتاری کے وقت پولیس اہلکاروں پرحملہ کیا اور وردی بھی پھاڑ دی تھی ۔

اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری نے تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کو حراست میں لے کر تھانہ گولڑہ منتقل کردیا جبکہ شیر افضل مروت کی گرفتاری کی تصدیق ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی۔

بعد ازاں ترجمان پولیس نے بتایا کہ پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کو رہا کردیا گیا ہے، شیرافضل مروت کو انتشار نہ پھیلانے کی یقین دہانی پر رہا کیا گیا۔

چھاپے کے وقت اسلام آباد پولیس کے افسر ایس ایچ او میاں خرم کی شرٹ اتار لی گئی، گرفتاری کی فوٹیج میں شیر افضل مروت وہی پولیس کی شرٹ پہنے نظر آرہے ہیں۔

جبکہ شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ پولیس نے اسلحہ سمیت ہم پر حملہ کیا ہے۔ شیرافضل مروت نے کارکنان کو احتجاج کی کال دے دی۔

لیکن کچھ دیر بعد شیر افضل خان مروت اپنے دفتر پہنچ گئے۔

شیر افضل مروت نے رہائی کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا ارادہ تھا میں ترنول جاؤں اور جو لوگ دور دراز کے علاقوں سے وہاں آئے تھے ان کا شکریہ ادا کروں، کیونکہ میرے پاس دو آپشن تھے، یا خان کا حکم نہ مانتا اور جلسے کی کال دے دیتا اور یا پھر جا کر شکریہ ادا کرتا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس والوں نے گرفتار کرنا ہے تو وردی پہن کر آئیں میں خود گرفتاری دوں گا لیکن ایجنسی والے مجھے گرفتار نہیں کر سکتے، اسلحہ اور بندوق کسی اور کو دکھاؤ میں نہیں ڈرتا ان چیزوں سے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے پیش نظر دو دن سے انڈر گراؤنڈ تھا، کل رات کو میں نے جگہ تبدیل کی اور ای-11 کے سائیڈ پر رات گزاری۔ میں صبح اٹھا تو بیرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کی پریس کانفرنس کا علم نہیں تھا، خان کا حکم عوام سے شیئر کیا البتہ جو شخص میرا میزبان تھا وہ میرے پاس آیا کہ ان کے گھر کی سی سی ٹی وی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ مشکوک گاڑیاں ہیں اور اس گلی میں کھڑی ہیں کافی عرصے سے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ میرا یہ ارادہ تھا کہ خان صاحب کا حکم مان کر جلسہ گاہ کی مقام پہنچتا اور کارکنوں کا شکریہ ادا کرتا۔ لیکن 12 بجے کے قریب کچھ نامعلوم شخص کمرے میں اندر ہوئے آئے اور انہوں نے پستول نکال کر میرے محافظ کو تھپڑ مارا، اس دوران ہی ہماری ہاتھاپائی شروع ہوئی اور ان سے پستول چیھن لیا، اس کے بعد پولیس اہلکار پہنچ گئے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1لاکھ میٹرک  ٹن چینی برآمد کرنیکی منظوری دیدی

انہوں نے کہا کہ میں کسی کیس میں مطلوب نہیں تھا مجھے میرے اپنے میزبان نے گرفتار کروایا ہے۔

Back to top button