تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، فیصل واوڈا

آزاد حیثیت میں منتخب ہونیوالے سینیٹرز فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
سینیٹر فیصل واوڈا کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹرفیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا صرف احترام ہی کرسکتے ہیں کیونکہ اس فیصلےکےبعد بھی پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی۔
فیصل واوڈا کےدعوے پرردعمل دیتے ہوئےصارف نے کہا کہ اگر ان کا بیان درست ہے تو ججز کو عدالتیں بند کر دینی چاہیے۔
رانا شفقت حیات لکھتے ہیں کہ فیصل واوڈا آزاد حیثیت سےسپریم کورٹ کے فیصلےکوکیسےروندسکتے ہیں؟
گزشتہ روزسینیٹ فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بننےکا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کی طرح پی ٹی آئی پاکستان بھی بنے گی اور سمجھنا چاہیےکہ9مئی والی جماعت سےبات کرنے کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دو اقلیتی ججوں نےمخصوص نشستوں پراپنے اقلیتی فیصلے میں کہا ہے کہ کیس کا حتمی فیصلہ ہواہی نہیں اس لیےاس پرعملدرآمد’بائنڈنگ‘ نہیں اورفیصلےپرعملدرآمد نہ ہونےپرتوہین عدالت کی کارروائی بھی نہیں ہوسکتی۔
پی ٹی آئی نےپارلیمانی کمیٹی کا بائیکاٹ کیوں کیا؟اندرونی کہانی سامنے آگئی
مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججز نے اپنا اقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اورجسٹس جمال خان مندوخیل نےاقلیتی تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نےاقلیتی فیصلے میں14 صفحات پرمشتمل اضافی نوٹ بھی لکھا ہے۔اضافی نوٹ میں لکھا کہ فیصلےمیں آئینی خلاف ورزیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی میرا فرض ہےاور توقع ہےکہ اکثریتی ججزاپنی غلطیوں پرغورکرکےانہیں درست کریں گے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا آئین تحریری اورآسان زبان میں ہےلہٰذا امیدکرتا ہوں کہ اکثریتی ججزاپنی غلطیوں کی تصیح کریں گے۔
چیف جسٹس نےتفصیلی فیصلےمیں لکھا کہ بدقسمتی سےاکثریتی مختصرفیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستیں سماعت کے لیےمقرر نہیں ہو سکی اورکمیٹی کے اجلاس میں جسٹس منیب اختراور سٹس منصور علی شاہ نے نظرثانی مقررنہ کرنے کا موقف اپنایا۔
