تحریک انصاف 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کرے گی یا نہیں؟

قیدی نمبر 804 عمران خان کی جانب سے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی فائنل کال دینے کے باوجود انکی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی خواہش اور کوششوں نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے اور پارٹی قائدین ایک دوسرے سے یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا 24 نومبر کو احتجاج ہوگا بھی یا نہیں؟
یہ سوال اس لیے بھی زیر بحث ہے کہ عمران کی بہن علیمہ خان نے اڈیالا جیل میں بھائی سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا ہے کہ خان صاحب نے علی امین گنڈا پور کو 21 نومبر تک کا وقت دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر تب تک ان کے سارے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو وہ 24 نومبر کے احتجاج کو جشن فتح میں تبدیل کرنے کے لیے تیار ہیں، لہذا 21 نومبر تک مذاکرات کا نتیجہ نکال لیں۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی خواہش دیوانے کا خواب ہے اور ان کے مطالبات غیر حقیقی ہیں جن کے تسلیم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے احتجاج کی فائنل کال کئی لحاظ سے کافی مختلف ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کا آغاز بھی بالکل ہی منفرد تھا۔ انکے مطابق نہ تو تحریک انصاف کی قیادت، بشمول پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے یہ کال عمران خان سے ملاقات کے بعد باہر جا کر دی اور نہ ہی پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرام راجہ نے۔ یہ کال عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے ان سے ملاقات کے بعد 13 نومبر کو اڈیالہ جیل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دی۔
اس سے پہلے کبھی بھی ایسی صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی۔ لیکن یہ ضرور ہوا کہ گذشتہ جتنے بھی احتجاج ہوئے ان میں سوشل میڈیا پر پارٹی لیڈرشپ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے براہ راست اپنے کارکنوں کو کال دی۔
14 نومبر کو جب بیرسٹر گوہر علی خان سے صحافیوں نے پوچھا کہ احتجاج کی کال پر ان کی کیا رائے ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بانی پی ٹی آئی کا حکم ہے تو ہم اس کو حکم کے طور پر ہی لے رہے ہیں۔ اس پر اپنی رائے نہیں دے سکتے۔‘
تاہم اس کال کے بعد 15 نومبر کو تحریک انصاف کی دستیاب قیادت کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے سینیئر صحافیوں سےآف دی ریکارڈ گفتگو میں کہا کہ ’یہ کال مناسب وقت پر نہیں دی گئی۔ وہ کوشش کریں گے کہ یہ کال واپس لے لی جائے اور اس حوالے سے وہ جیل میں جا کر عمران خان کو منانے کی کوشش بھی کریں گے۔‘ اس آف دی ریکارڈ گفتگو کے حصے اخبارات میں بھی چھپے، جس سے عمومی تاثر ملا کہ یہ کال بھی نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ عمران خان نے جلدی کی ہے اور مشاورت نہیں کی۔
لیکن اس حتمی کال کے بعد بشری بی بی نے وزیراعلٰی ہاؤس پشاور میں 16 نومبر کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی سے ایک طویل ملاقات کی اور تیاریوں کے حوالے سے ٹاسک سونپے۔ انہوں نے کہا اگر ہر ایم این اے 10 ہزار اور ایم پی اے پانچ ہزار افراد کو لے کر نہ آئے تو ان کو اگلے انتخابات میں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ دو روز بعد ان کے مبینہ خطاب کی آڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو گئی۔ ایسی کال جس پر پہلے دن سے تحریک انصاف کے اپنے رہنما خوش نہیں تھے۔ لیکن 19 نومبر کو ہونے والے کئی ایک واقعات نے صورتحال کو اور بھی کنفیوز کر دیا ہے۔
توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم
سب سے پہلے وزیراعلٰی خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دن کے آغاز میں ہی دوگھنٹے تک عمران خان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد علی امین گنڈا پور ایپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اسی روز سینیٹر فیصل واوڈا نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ احتجاج کی کال محض شور شرابا ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں۔ تاہم گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ خبر دے رہے ہیں کہ عمران خان کئی وجوہات کی بنیاد پر احتجاج کی کال واپس لے لیں گے۔ اور یہ کال 23 نومبر کو واپس لے لی جائے گی۔ اسی شام کو علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر اور وزیراعلٰی علی امین گنڈا پور کی عمران خان سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان سے مذاکرات کرنے کی اجازت لینے گئے تھے اور خان نے انہیں 21 نومبر تک کا وقت دیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کر لیں۔ اگر تو یہ مذاکرات کامیاب ہوئے تو 24 کی کال کو جشن میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ یوں اب بھی 24 نومبر کی حتمی کال پر خود تحریک انصاف میں بھی پوری طرح یکسوئی نہیں کہ احتجاج ہو گا یا نہیں؟
