تحریک لبیک ٹوٹ پھوٹ کا شکار: حقیقی دھڑا سامنے آنے کا امکان

 

 

 

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ روایت رہی ہے کہ جب کسی سیاسی جماعت کا ریاستی یا اسٹیبلشمنٹ سے تصادم بڑھتا ہے تو اس جماعت کے اندر سے ایک "حقیقی” دھڑا نکالا جاتا ہے جیسا کہ ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے ساتھ ماضی میں دیکھا گیا۔ اب یہی منظرنامہ تحریک لبیک پاکستان کے گرد بنتا دکھائی دے رہا ہے، جو کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کلعدم قرار دی جا چکی ہے۔

 

ٹی ایل پی، جو علامہ خادم حسین رضوی مرحوم کی قیادت میں مذہبی و سیاسی قوت کے طور پر ابھری تھی، اب اندرونی خلفشار اور قیادت کے بحران کا شکار ہے۔ مرکزی امیر سعد رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی مفرور بتائے جاتے ہیں، جبکہ پارٹی میں پالیسی اختلافات، تشدد کی سیاست، اور مالی شفافیت کے امور پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔

 

تحریک لبیک کی ٹوٹ پھوٹ کا سب سے نمایاں مظہر وہ پریس کانفرنسیں ہیں جن میں جماعت کے سابق رہنماؤں اور ٹکٹ ہولڈرز نے اعلانیہ لاتعلقی کا اعلان کیا۔ لاہور پریس کلب میں بیرسٹر عثمان مانگٹ اور ایک سو سے زائد سابق امیدواروں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس جماعت کی پالیسیوں کے حامی نہیں رہے۔ بیرسٹر عثمان مانگٹ، جو جماعت کی اصلاحات کمیٹی کے رکن اور قانونی محاذ پر سرگرم رہ چکے ہیں، نے واضح الفاظ میں کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت ہمارا ایمان ہے، لیکن اسے تشدد اور انتشار کا ذریعہ بنانا دین کے پیغام کی توہین ہے۔ ان کے مطابق ٹی ایل پی نے ایسے اقدامات کیے جن سے ریاست کی رٹ چیلنج ہوئی، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا، اور حتیٰ کہ اسکول وین جیسے افسوسناک واقعات پیش آئے۔ ان کے بقول، یہ راستہ ایمان و وطن پرستی کا نہیں، بلکہ سیدھی سیدھی انارکی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق علیحدگی اختیار کرنے والے اکثر رہنما اب ایک نئے پلیٹ فارم "ٹی ایل پی حقیقی” کے قیام کے لیے سرگرم ہیں۔ یہ نیا دھڑا مبینہ طور پر پُرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتا ہے، مذہبی نعروں کے پرتشدد استعمال کی مخالفت کرتا ہے، اور تنظیمی شفافیت و قانونی دائرہ کار میں رہ کر سیاست کا حامی ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ تحریک لبیک کے اندر ایک فکری تقسیم پیدا ہو چکی ہے یعنی ایک طرف پرتشدد بیانیے کے حامی، اور دوسری طرف اصلاح پسند، جو اس بیانیے سے لاتعلقی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

 

اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں کا خیال ہے کہ اگر "ٹی ایل پی حقیقی” باقاعدہ طور پر وجود میں آتی ہے تو یہ مذہبی سیاست کے منظرنامے میں ایک نیا متوازن چہرہ بن سکتی ہے، جو ختم نبوت کے بیانیے کو پرامن اور آئینی طریقے سے آگے بڑھائے گی۔ دوسری طرف، یہ عمل اصل ٹی ایل پی کی سیاسی کمزوری اور سٹریٹ پاور کے زوال کا باعث بھی بن سکتا ہے، کیونکہ اس کے کارکنان اور ٹکٹ ہولڈرز کی بڑی تعداد اب مختلف سمتوں میں بٹ رہی ہے۔

ظہران ممدانی کو نیویارک کا بھٹو کیوں کہا جا رہا ہے؟

تحریک لبیک سے منحرف ہونے والے بیرسٹر عثمان مانگٹ کے انکشافات کے مطابق، ٹی ایل پی کے اندر مالی شفافیت کا فقدان رہا۔ خادم حسین رضوی کی برسی پر جمع ہونے والی خطیر رقوم کے قانونی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے، تاہم قیادت نے انہیں ٹیکس اور تنظیمی شفافیت کے دائرے میں لانے سے گریز کیا۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی کا عمل غیر جمہوری تھا اور شوریٰ کو اکثر اہم فیصلوں سے لاعلم رکھا گیا۔

تحریک لبیک کی موجودہ صورت حال پاکستان کی مذہبی و سیاسی حرکیات میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماضی کی طرح، ریاستی پالیسی، جماعتی اختلافات اور پرتشدد بیانیے کا بوجھ ایک ایسے دھڑے کو جنم دے رہا ہے جو خود کو ’’اصلاح پسند‘‘ یا ’’حقیقی‘‘ قرار دیتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ٹی ایل پی حقیقی واقعی پرامن سیاست کی راہ اختیار کرتی ہے یا یہ بھی محض سیاسی و انتظامی ضرورت کے تحت وجود میں آنے والا ایک اور وقتی تجربہ ثابت ہوگا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک لبیک کے موجودہ حالات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی سیاست اب ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ شدت پسندی کے بیانیے سے نکل کر پرامن سیاسی عمل کی طرف جانا نہ صرف اس جماعت بلکہ مجموعی مذہبی سیاست کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اگر ’’ٹی ایل پی حقیقی‘‘ واقعی اس سمت میں قدم بڑھاتی ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے خلوص اور خودمختاری کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوگا جب اسے ریاستی دباؤ سے الگ رہ کر اپنی پالیسی وضع کرنی پڑے گی۔ لیکن بظاہر ایسا نظر نہیں آتا چونکہ پاکستانی سیاست میں جب بھی کسی جماعت کا حقیقی دھڑا بنتا ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھتا ہے۔

 

Back to top button