تحریک لبیک کے اربوں روپے کے اثاثے منجمد، امداد کرنے والے بھی ریڈارپر

مریم نواز کی پنجاب حکومت نے تحریکِ لبیک کے زیرِ انتظام چلنے والی مساجد اور مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کے بعد اب تنظیم کے عہدیداروں کے اربوں روپے کے اثاثے بھی منجمد کر دئیے ہیں، جبکہ 90 فنانسرز کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں تحریکِ لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تحریکِ لبیک کو کالعدم قرار دینے کے بعد پنجاب حکومت نے اس کے زیرِ انتظام 330 مساجد اور 177 دینی مدارس اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔ تاہم بعد ازاں ایک حکمتِ عملی کے تحت یہ تمام مساجد اور مدارس تنظیم المدارس اہلِ سنت پاکستان کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک باقاعدہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان اداروں کو دوبارہ انتہا پسندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔
ادھر حکومت نے تحریکِ لبیک کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر کے تنظیم کی فنڈنگ مکمل طور پر روک دی ہے۔ اس کے علاوہ 4ہزار سے زائد ایسے اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے جن کے ذریعے ٹی ایل پی کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ہدایات پر تنظیم کے عہدیداران کے 23 ارب 40 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں، جبکہ 90 فنانسرز کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی شروع ہو چکی ہے اور نفرت انگیز مواد پھیلانے پر مزید 31 کیسز درج کر دئیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک سے جدید اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس اور شیلز کی بڑی تعدادبھی برآمد کر لی گئی ۔
پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم کے 92 بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر ڈیجیٹل اکاؤنٹس کو بھی بلاک کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تنظیم کی مالی سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر معطل ہو گئی ہیں۔ ۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت نے باقی صوبوں میں بھی کالعدم انتہا پسند جماعت ٹی ایل پی کے خلاف پنجاب جیسی یکساں کارروائی کے لئے وفاقی حکومت سے درخواست کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹی ایل پی جیسی تنظیمیں برسوں سے ریاستی اداروں کے لیے دباؤ، بے یقینی اور سیکورٹی چیلنجز کا سبب بنتی رہی ہیں۔ مگر تحریک لبیک کے خلاف حالیہ حکومتی کریک ڈاؤن نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ریاست اب مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے پس قدمی یا سمجھوتے کے موڈ میں نہیں۔ پنجاب حکومت کے اقدامات نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ شدت پسندی کو محض انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی استحکام کے بنیادی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تحریک لبیک کے خلاف حکومتی کارروائیاں پاکستان میں انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگرچہ ان کا مقصد ریاستی رٹ کی مضبوطی ظاہر ہوتا ہے، لیکن اس عمل نے سیاسی، مذہبی اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہےکہ آیا سخت اقدامات مسئلے کا مستقل حل ثابت ہوں گے یا مزید نظریاتی مزاحمت کو جنم دیں گے۔ اس کے باوجود کئی مبصرین پنجاب حکومت کی کوشش کو ایک بڑے نظریاتی اور سماجی عمل کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق مدارس، مساجد اور مذہبی اداروں کو قومی دھارے میں لانا اور انہیں مثبت اور ذمہ دار کردار دینے کی کوشش پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کی سمت ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، اگر یہ پالیسی تسلسل کے ساتھ جاری رہی تو یہ نہ صرف شدت پسند بیانیے کی گرفت کم کرے گی بلکہ مذہبی و سماجی ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنائے گی۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے تحریک لبیک کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم جماعت قرار دے دیا ہے۔ تنظیم پر پابندی کی ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس کی قیادت نے عمران دورِ حکومت میں لگائی گئی پابندی ختم کروانے کے لیے جو بھی ضمانتیں دیں، ان کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لیا گیا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا۔ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اور ان کے چھوٹے بھائی انس رضوی 13 اکتوبر کو سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے بعد سے روپوش ہیں۔ دونوں بھائیوں کے خلاف ایک پولیس اہلکار کے قتل کا کیس درج ہو چکا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے ملک بھر میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج 72 کیسز میں دونوں مفرور بھائیوں کے خلاف اقدامِ قتل اور دہشت گردی کی سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
