تحریک انصاف کی انتخابی مہم چلنے سے پہلے ہی ٹھس ھوچکی؟

بیرسٹر گوہر ایسی سیاسی شخصیت نہیں ہیں کہ وہ تحریک انصاف کی ملک گیر انتخابی مہم چلا سکیں حالانکہ ان کو مکمل آزادی نظر آرہی ہے، میڈیا ان کو کور کرتا ہے، ان پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے، لیکن وہ عوامی سیاستدان نہیں ہیں ملک گیر انتخابی مہم چلانا اور انتخابی ماحول بنانا ان کے بس کی بات نہیں۔ پی ٹی آئی کی انتخابی سیاست میں کچھ رنگ شیر افضل مروت نے بھرا تھا۔ لیکن وہ تحریک انصاف کے اندر چل ر ہی سیاست کا شکار ہو کر آؤٹ ہو گئے ہیں۔ اب وہاں کوئی بھی ایسا نہیں جو ماحول بنائے۔ تحریک انصاف نے ایسے ہی انتخابات مین حصہ لینا ہے، ان کا مظلومیت کا کارڈ ہی ان کی مہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور کالم نگار مزمل سہروری نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک سوال سب کر رہے ہیں کہ انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے لیکن ملک میں انتخابی گہما گہمی نظر نہیں آرھی ۔ یہ ماحول نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں انتخابات کے انعقاد پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ جب تک لوگوں کو سڑکوں پر گلیوں بازاروں میں انتخابی ماحول نظر نہیں آئے گا، لوگ کیسے یقین کریں کہ واقعی انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ رائے بھی موجود ہے کہ نواز شریف تو جاتی عمرہ سے نکل ہی نہیں رہے ۔ وہ جب سے آئے ہیں انھوں نے صرف ایک استقبالی جلسے سے ایک رسمی قومی خطاب کیا ہے، اس کے علاوہ ان کی کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہے۔
پارلیمانی بورڈز کے اجلاس تو کوئی سیاسی سرگرمی نہیں۔ لوگوں کی رائے میں نواز شریف گھر سے نکل ہی نہیں رہے، اس وجہ سے بھی انتخابی ماحول نہیں بن رہا۔ جو جماعت انتخابات میں سب سے پسندیدہ جماعت کا درجہ رکھتی ہے وہ ہی خاموش ہے تو انتخابات پر شکوک و شبہات کیوں نہ ہوں۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ بلاول پورے ملک میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ روزانہ جلسوں، ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ ملک بھر کے طوفانی دورے کر رہے ہیں، بلاول کی سیاسی سرگرمیاں دیکھ کر عوام کو یقین کیوں نہیں کہ واقعی انتخابات ہو رہے ہیں۔ جب بلاول یہ کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ کیا، اقوام متحدہ سے بھی قرارداد منظو ر کرالیں تب بھی انتخابات آٹھ فروری کو ہی ہوںگے، اس کے باوجود ملک میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا۔
ایک رائے یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن روز کہتے ہیں کہ انتخابات میں تاخیر ہونی چاہیے۔ ان کے بیانات کی وجہ سے ملک میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا۔ لیکن مولانا کو عام انتخابات کا اتنے بڑے کھلاڑی نہیں کہ وہ ملک میں انتخابی ماحول بننے میں رکاوٹ بن جائیں۔ کے پی اور بلوچستان کی حد تک تو کہا جاسکتا ھے کہ مولانا انتخابی ماحول نہیں بنا رہے۔ لیکن پنجاب، کراچی اور سندھ میں تو انھوں نے انتخابی ماحول نہیں بنانا۔
مزمل سہروری کے مطابق چونکہ پنجاب میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا لہذا یہی ملک میں انتخابی ماحول نہ بننے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کراچی میں تو ایم کیو ایم نے ٹکٹیں تقسیم کر دی ہیں، ان کے مقابلے میں پیپلزپارٹی نے بھی ٹکٹیں تقسیم کر دی ہیں۔ کافی حد تک کراچی میں امیدواروں نے انتخابی مہم شروع بھی کر دی ہے۔ یہاں تحریک انصا ف کے امیدوار بھی نظر آرہے ہیں اور صدر مملکت عارف علوی کا بیٹا کراچی سے انتخابی مہم چلا رہا ہے۔جہاں تک اندرون سندھ کی بات ہے تو وہاں اکیلی پیپلزپارٹی ہے۔ وہ پندرہ سال سے مسلسل اقتدار میں ہے، ان کی سندھ کی گرفت بہت مضبوط ہے۔ انھوں نے سندھ میں ٹکٹیں بھی تقسیم کر دی ہیں، ان کے مقابلے میں گزشتہ انتخابات میں بھی کوئی نہیں تھا، اب بھی کوئی نہیں ہے۔ جی ڈے اے نہ پہلے ان کا مقابلہ کرنے کے قابل تھی نہ اب اس میں اتنی سیاسی طاقت ہے کہ ان کا مقابلہ کر سکے۔ فنکشنل لیگ نے کبھی پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ سیاسی موڈ نہیں دکھایا جس کی ضرورت ہے۔ خیر سے اس پارٹی سربراہ پیر صاحب پگارا گھر سے ہی نہیں نکلتے۔ پیپلزپارٹی سندھ کی حد تک اپنی اسٹبلشمنٹ سے ڈیل بنا ہی لیتی ہے۔ جے یو آئی نے سندھ میں کچھ زور پکڑا ہے۔ لیکن جب مولانا فضل الرحمان بھی گھر بیٹھے ہیں اور پیر صاحب بھی گھر بیٹھے ہیں تو سندھ میں انتخابی ماحول کیسے بنے۔لیکن پیپلزپارٹی سندھ میں مہم چلا رہی ہے اور اکیلے جتنا ماحول بنا سکتی ہے، بنا رہی ہے۔
مزمل سہروری کہتے ہیں کہ تحریک انصا ف کی سیاسی مجبوریاں سب کے سامنے ہیں۔ وہ تو ماحول بنانے کی پوزیشن میں ہے ہی نہیں۔ پارٹی کے بانی کو سزا ہو چکی ہے، وہ نا اہل بھی ہو گئے ہیں،ا ن کے کاغذات بھی مسترد ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ایک نہایت غیر سیاسی شخصیت کو اپنی جگہ چیئرمین بنایا۔ بیرسٹر گوہر ایسی سیاسی شخصیت نہیں ہیں کہ وہ ملک گیر انتخابی مہم چلا سکیں اگرچہ بلاول بھٹو لاہور سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ لیکن لاہور میں انتخابی ماحول نہیں بن رہا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے کاغذات منظور ہو گئے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف کا کارکن باہر نہیں نکل رہا۔ پنجاب اور پورے ملک میں انتخابی ماحو ل تب بنے گا جب میاں نواز شریف باہر نکلیں گے۔ ان کی غیرفعالیت کی وجہ سے ماحول نہیں بن رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کیو ں نہیں نکل رہے؟ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے اہل ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ الیکشن لڑنے کے اہل بھی ہو گئے ہیں۔ ان کے کاغذات بھی منظور ہو گئے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) پنجاب نے ٹکٹیں بھی جاری کر دی ہیں اور پنجاب کی ہر سیٹ پر امیدوار کھڑا کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پندرہ جنوری سے ملک بھر میں ساٹھ جلسوں کا ایک پروگرام بھی بنا لیا ہے۔ نواز شریف زیادہ جلسے کریں گے۔ ان کے ساتھ مریم نواز اور شہباز شریف بھی جلسے کریں گے۔ حمزہ شہباز بھی کچھ جلسے کریں گے۔ اس طرح پوری شریف فیملی انتخابی میدان میں نظر آئے گی۔ میڈیا میں بھی نظر آئے گی۔اس لیے لگتا ہے کہ پندرہ فروری کے بعد ملک بھر میں انتخابی گہما گہمی شروع ہو جائے گی۔
