بلوچستان میں دہشت گردی:8عسکری گروپس کو ٹارگٹ کرنے کا فیصلہ

بلوچستان گزشتہ کئی سالوں سے شورش اور بدامنی کا شکار ہے۔ تاہم حالیہ شرپسندانہ کارروائیوں کے دوران 26 اگست کا دن بلوچستان میں بہت خون ریز رہا، جب نواب اکبر بگٹی کی 18ویں برسی کے موقعے پر کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حملوں میں 54 افراد جان سے چلے گئے۔بی ایل اے نے ان حملوں کو ’آپریشن ہیروف‘ کا نام دیا ہے۔ بلوچستان میں حالیہ کچھ عرصے میں شرپسند تنظیموں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔ جس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان میں متحرک شرپسند علیحدگی پسند تنظیمیں کون سی ہیں اور ان کا طریقہ واردات کیا ہے؟ یہ کیسے کام کرتی ہیں اور کن کن علاقوں میں اپنا دائرہ کار پھیلائے ہوئے ہیں۔

 پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبے میں آٹھ عسکری گروہ برسر پیکار ہیں لیکن بی ایل اے اور بی ایل ایف سب سے بڑے گروہ کے طور پر موجود ہیں۔

کالعدم بلوچ علیحدگی پسند گروہ بی ایل اے پاکستان، ایران اور افغانستان کے بلوچ علاقوں پر مشتمل ایک الگ ریاست کے لیے سرگرم ہے۔ اس کے دو دھڑے ہیں، ایک کی قیادت حرب یار مری جبکہ دوسرے کی بشیر زیب کے پاس ہے۔بشیر زیب گروہ بلوچ راجی اجوئی سانگڑ (براس) نامی چار عسکری تنظیموں پر مشتمل اتحاد کا بھی حصہ ہے۔ بشیر زیب بی ایل اے کی مجید بریگیڈ کے بھی سربراہ ہیں، جسے اسلم بلوچ نے منظم کیا تھا۔حمال بلوچ، بشیر زیب کے پیش رو کے طور پر متحرک ہیں۔ اس گروہ کے دوسرے اہم کمانڈروں میں نور بخش مینگل، رحیم گل اور آغا شیر دل شامل ہیں۔بزدار خان لاجسٹک یونٹ کے سربراہ ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کے تین ذیلی یونٹ ہیں۔ ایک آپریشنل، دوسرا لاجسٹک اور تیسرا انٹیلی جنس۔جیوند بلوچ تنظیم کے ترجمان ہیں۔ بی ایل اے کی زیادہ تر کارروائیوں کا محور بلوچ آبادی کے علاقے ہیں لیکن یہ گروہ کراچی کے کچھ علاقوں میں بھی سرگرم ہے۔بی ایل اے مری گروپ اسفال گئی، مستونگ کے اضلاع کے ساتھ ساتھ مچھ، ہرنائی، نصیر آباد، جعفر آباد، لورا لائی، کوئٹہ اور آواران کے اضلاع میں سرگرم ہے۔دوسری جانب بی ایل اے زیب گروپ بلوچستان کی ساحلی پٹی اور مشرقی بلوچستان پر اپنی نظریں گاڑے ہوئے ہے۔گذشتہ دو سالوں کے دوران بی ایل اے کی کارروائیوں کا دائرہ کار بلوچستان کے 22 اضلاع تک پھیل گیا ہے۔تاہم یہ گروہ بولان، ہرنائی، قلات، کیچ، خضدار، پنجگور، کوئٹہ، سبی، نوشکی اور مستونگ میں تواتر کے ساتھ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔بی ایل اے کا نشانہ سکیورٹی ادارے، بڑے ترقیاتی منصوبے اور ان میں کام کرنے والے غیر بلوچ ملازم بالخصوص چینی اور پنجابی ہیں۔

بلوچستان میں ہونے والی شرپسندانہ کارروائیوں میں ملوث دوسری بڑی تںطیم بلوچستان لبریشن فرنٹ ہے۔اس گروہ کو نوجوان قوم پرست رہنما ڈکٹر اللہ نذر، غلام محمد بلوچ اور واحد قمبر نے 2003 میں قائم کیا تھا۔شروع میں اس نے بی ایل اے سے تربیت اور مدد حاصل کی۔ سیاسی طور پر یہ گروہ بلوچستان نیشنل موومنٹ سے تعلق رکھتا ہے جس کے زیادہ طور لوگ پاکستان سے باہر مغربی ممالک میں قیام پزیر ہیں۔گروہ کو بی این ایم اور بی ایس او آزاد کی بھی مدد حاصل ہے۔ یہ گروہ قوم پرست بلوچوں کے متوسط طبقے کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کا حمال حیدر بلوچ کے ساتھ بھی قریبی تعلق ہے جو عالمی سطح پر متحرک ہیں۔اللہ نذر ایک دور میں ڈاکٹر مالک بلوچ، جو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں، کی نیشنل پارٹی سے بھی وابستہ رہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر کے بارے میں خیال ہے کہ ان کے پاکستان ایران سرحد کے دونوں اطراف ٹھکانے ہیں۔ بعض مبصرین کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان میں ہیں۔پاکستان میں بی ایل ایف کے دیگر اہم رہنماؤں میں اختر ندیم اور خلیل بلوچ شامل ہیں۔ گورام بلوچ اس گروپ کے ترجمان ہیں۔ایران کی سرحد سے متصل ضلع کیچ کی وادی نما تحصیل بلیدہ اس گروپ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔ یہ گروہ مشکیل (خاران )، آواران ، پنجگور کے اضلاع کے ساتھ، بسیمہ، واشک، جیوانی اور پسنی کے ساحلی علاقوں میں بھی متحرک ہے۔

گذشتہ دو سالوں میں اس گروہ نے پانچ جنوبی اضلاع کو تواتر کے ساتھ نشانہ بنایا جن میں گوادر، کیچ، لسبیلہ، پنجگور اور آواران شامل ہیں۔چین اور سی پیک کے مخالف یہ گروہ کوئٹہ اور کراچی کے کچھ حملوں میں بھی ملوث پایا گیا۔

براس یعنی بلوچ راجی اجوئی سانگڑ پر مشتمل بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کا یہ اتحاد 2018 میں قائم ہوا تھا جس میں بی ایل اے، بی ایل ایف، بلوچ ریپبلکن گارڈز اور بی این اے شامل تھے۔اس کا مقصد پاکستان میں چینی منصوبوں کو نشانہ بنانا تھا۔ اگلے سالوں میں یہ اتحاد بڑے خطرے کے طور پر ابھرا۔ تاہم بی این اے کے امام گلزار کی گرفتاری کے بعد اس اتحاد کو دھچکا پہنچا۔اس اتحاد نے 2024 کی انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا تھا اور پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعدادو شمار کے مطابق جنوری اور فروری 2024 کے دو ماہ کے دوران اس نے 18 حملوں میں سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔

بلوچ ریپبلکن آرمی یعنی بی آر اے کو بگٹی ملیشیا بھی کہا جاتا ہے جو نواب اکبر بگٹی کے قبیلے پر مشتمل ہے۔گذشتہ پانچ سالوں میں اس نے بلوچستان کے دیگر اضلاع تک اپنا نیٹ ورک پھیلا کر نوجوانوں کو بھرتی کیا، جن میں گوادر اور کیچ کے اضلاع سرفہرست ہیں۔اس کے جنگجوؤں کو بی ایل ایف کی مدد حاصل ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا خیال ہے کہ بلوچستان ریپبلکن آرمی، بلوچ ریپبلکن پارٹی کا عسکری ونگ ہے اور براہمداغ بگٹی اس گروہ کو چلا رہے ہیں۔

یونائٹیڈ بلوچ آرمی بلوچستان لبریشن آرمی سے الگ ہونے والا دھڑا ہے۔ عبدالنبی بنگل زئی نامی ایک سخت گیر بلوچ کمانڈر جنھیں شہریوں اور بلوچ تاجروں کو لوٹنے کے الزام پر بی ایل اے سے نکال دیا گیا تھا، اس خطرناک گروپ کے سرغنہ ہیں۔عام طور پر بلوچ باغی گروہ شہریوں بالخصوص بلوچوں پر حملے نہیں کرتے مگر بنگل زئی کا خیال ہے کہ جو بلوچ علیحدگی کے حامی نہیں وہ بھی سزا کے حق دار ہیں۔بنگل زئی نے بعد ازاں بی ایل ایف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ اس گروہ کے دوسرے حصے کے رہنما مہران مری ہیں جو لندن میں قیام پزیر ہیں اور پاکستان کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس گروہ میں زیادہ تر مری قبیلے کے جنگجو شامل ہیں، مگر ساراوان اور بولان کے جنگجو بھی اس کا حصہ ہیں۔یہ گروہ چاغی، نوشکی، بولان، لسبیلہ، بسیمہ اور واشک کے اضلاع میں سرگرم ہے۔

بلوچ ریپبلکن گارڈز نامی تنظیم کو بختیار ڈومکی نے 2012 میں کراچی میں اپنی بیوی اور بیٹی کے قتل کے بعد قائم کیا تھا۔ڈومکی کی شادی براہمداغ بگٹی کی بہن سے ہوئی تھی۔ یہ گروہ اب سرگرم نہیں رہا لیکن نصیر آباد کے ضلعے میں اس کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔2023 میں اس گروہ نے دو حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی، جن میں سے ایک کوئٹہ اور دوسرا صحبت پور میں کیا گیا۔ یہ گروہ بھی براس اتحاد کا حصہ ہے۔

2008 میں وجود میں آنے والے لشکر بلوچستان کا ہدف زیادہ تر مکران ڈویژن تھا۔ تاہم حالیہ سالوں میں یہ غیر فعال نظر آتا ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس میں مینگل قبیلہ اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے حامی شامل ہیں۔تاہم بی این پی مینگل گروپ خود کو عسکری مزاحمت کا حصہ نہیں سمجھتا۔ لشکر بلوچستان کے سربراہ میر جاوید مینگل ہیں جو بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کے بڑے بھائی ہیں۔میر جاوید مینگل لندن اور دبئی میں قیام پذیر ہیں اور وہ لشکر بلوچستان سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکاری ہیں۔لشکر بلوچستان لسبیلہ، مکران، خضدار اور پنجگور میں متحرک ہے۔

بلوچ نیشنل آرمی یعنی بی این اے کو حال ہی میں اس کے دو اہم رہنماؤں کی جانب سے پرتشدد کارروائیاں چھوڑنے کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا۔یہ گروہ 2022 میں دو باغی بلوچ گروہوں کے ادغام کی وجہ سے بنا تھا جن میں یو بی اے، بی آر اے اور بی این اے سے الگ ہونے والے عسکریت پسند شامل تھے۔اس کے قیام کا مقصد بلوچ مزاحمتی تحریک کو بڑھانا تھا۔ تاہم اس کے رہنما گلزار امام نے، جو شامبے کے نام سے بھی معروف ہیں، 23 مئی، 2023 کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں ماضی میں اپنی عسکری کارروائیوں پر پشیمانی ظاہر کی تھی۔اس پریس کانفرنس کو انٹیلی جنس اداروں کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دسمبر میں بی این اے کے کمانڈر اور ترجمان سرفرازاحمد بنگل زئی نے، جنھیں مرید بلوچ کے نام سے جانا جاتا تھا، اپنے 70 ساتھیوں کے ساتھ ہتھیار ڈال دیے تھے۔

Back to top button