بلوچستان میں دہشت گردوں کے بینکوں پر حملے اور لوٹ مار

 

 

 

بلوچستان میں دہشت گردوں کے حوصلے اس حد تک بلند ہو گئے ہیں کہ وہ دن دہاڑے کسی شہر پر حملہ کر کے وہاں قابض ہو جاتے ہیں، شام تک ڈکیتیاں کرتے ہیں اور پھر لاکھوں روپے لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں خاران شہر میں جمعرات کے روز مسلح افراد نے ایک منظم کارروائی کے ذریعے شہر کے مختلف علاقوں میں دھاوا بول دیا، جس نے شہریوں کے درمیان خوف و ہراس پھیلا دیا اور کاروباری سرگرمیوں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔

 

فوجی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران شدت پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے 12 حملہ آور ہلاک کر دیے گئے۔ فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی تب ہوئی جب خاران میں مسلح افراد نے نہ صرف بینکوں پر حملے کیے بلکہ شہر میں املاک کو بھی نقصان پہنچایا اور شہریوں کے لیے شدید خطرہ پیدا کیا۔ بی بی سی اردو کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ ساڑھے تین بجے کے قریب شہر میں ایک بڑی تعداد میں مسلح افراد داخل ہوئے۔ ان میں کچھ گاڑیوں پر سوار تھے جبکہ دیگر موٹر سائیکلوں پر حرکت کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے اپنے چہرے مفلر اور چادروں سے چھپائے ہوئے تھے اور مخصوص پرچم بھی اوڑھ رکھا تھا، جو ان کی تنظیمی شناخت ظاہر کرتا ہے۔

 

ان مسلح افراد نے نیشنل بینک، میزان بینک اور بینک الحبیب کو نشانہ بنایا اور بینکوں سے 34 لاکھ روپے کی رقم لوٹ لی۔ دہشت گرد دیگر نجی بینکوں میں داخل نہ ہو سکے، تاہم ان کے اے ٹی ایمز توڑ کر رقوم نکالنے کی کوشش کی گئی۔

حملہ آوروں نے شہر میں موجود سٹی پولیس سٹیشن پر بھی دھاوا بول دیا اور وہاں موجود گاڑیوں اور اسلحہ کو نقصان پہنچایا۔ حوالات کے دروازوں کے تالے توڑ کر انڈر ٹرائل قیدی فرار ہو گئے، جس سے شہر میں ایک اور پیچیدہ صورتحال پیدا ہو گئی۔ خاران سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق نے بتایا کہ اس حملے کے دوران پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا اور چار بچے دھماکہ خیز مواد کے اثرات سے متاثر ہوئے۔

خاران کے شہریوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے آنے اور فائرنگ کے بعد شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تمام کاروباری مراکز بند ہو گئے۔

 

فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں شام تک خاران شہر کے مختلف علاقوں میں سنائی دیتی رہیں اور بازار اور تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ نے بعض علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کر کے لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعے کی شام کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ خاران شہر میں تقریباً 20 سے 25 مسلح افراد مختلف راستوں سے داخل ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا بنیادی مقصد بینک لوٹنا تھا، تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے حالات پر قابو پا لیا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق گذشتہ سال بھی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سینکڑوں شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں آپریشن اب بھی جاری ہے اور پولیس اسٹیشن میں یرغمال بنانے کی کوشش ناکام بنائی گئی۔

 

پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دیا گیا ہے اور حکومت کا الزام ہے کہ بھارت ان گروہوں کو پشت پناہی فراہم کرتا ہے۔ نئی دہلی نے ماضی میں اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔

خاران شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع طویل عرصے سے شورش اور بدامنی کا شکار رہا ہے۔ تاہم جمعرات کو دن دہاڑے شہر میں اس نوعیت کا مسلح حملہ پہلی بار پیش آیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گرد نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ ریاستی رٹ کی کمزوری کا بھی بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

یہ واقعہ بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال پر سوالات کو مزید تقویت دیتا ہے، اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مقامی حکومت اور سکیورٹی ادارے شہری تحفظ فراہم کرنے میں کس حد تک ناکام ہیں۔

400 کلو سونے کی چوری میں ملوث پاکستانی کینیڈا میں گرفتار

مسلح گروہوں کی یہ کارروائی شہری زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے، جبکہ بینکوں، پولیس سٹیشنز اور عام شہریوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

Back to top button