27 ویں ترمیم کے بعد 26ویں ترمیم کا کیس ٹھپ ہونے کا امکان

 

 

 

27ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سامنے زیر التوا 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف اپیل ٹھپ ہو جائے گی چونکہ یہ کیس پاکستان کی پہلی آئینی عدالت کو ٹرانسفر ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر کردہ  درخواست کی سماعت فل کورٹ کے سامنے لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے دائرہ کار سے نکل کر وفاقی آئینی عدالت کے پاس چلا جائے گا۔

 

یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست 2 نومبر 2024 کو جمع کروائی تھی، جس میں کئی شقّوں کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس کے بعد 25 جنوری 2023 کو تحریک انصاف نے بھی اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کر دی تھی۔ سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے 25 جنوری 2025 کو ان درخواستوں پر نوٹس جاری کیے اور کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ یہ کیس فل کورٹ کے سامنے لگایا جائے کیونکہ متعلقہ ترامیم عدلیہ کی آزادی اور آئینی توازن کے بنیادی اصولوں کو متاثر کرنے کے مترادف ہیں۔

 

کئی ماہ کے وقفے کے بعد 22 اکتوبر 2025 کو اس کیس کی سماعت آئینی بینچ کے سامنے دوبارہ شروع کی، اس دوران یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ اسے فل کورٹ کے سامنے سنا جائے یا موجودہ آئینی بینچ کے ذریعے آگے بڑھا جائے۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے ججوں کی تقرری کے عمل کے حوالے سے آئینی طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔  درخواست میں کہا گیا کہ پارلیمان کو آئین کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ ترمیم کرنے کا اختیار ضرور ہے، مگر وہ عدالتی معاملات میں بلااجازت مداخلت نہیں کر سکتی۔  یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ اس ترمیم نے چیف جسٹس کے انتخاب کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے سینیارٹی کی جگہ ایک پارلیمانی کمیٹی کو یہ اختیار دے دیا ہے۔  مزید یہ اعتراض کیا گیا کہ 26 ویں ترمیم نے ججوں کی کارکردگی کے جائزے، عدلیہ کے خود مختاری کے اصول اور عدالتی اختیار کے دائرہ کار (مثلاً سُوؤ موٹو اختیار) پر اثر ڈالنے والے شقّیں متعارف کروائی ہیں۔

 

26ویں آئینی ترمیم کے خلاف آخری عدالتی کارروائی کے دوران 22 اکتوبر 2025 کو سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے یہ ریمارکس دیئے کہ ترمیم کے تحت متعارف ہونے والا آرٹیکل 191-A ایک آئینی بینچ کی تشکیل کا جواز فراہم کرتا ہے، لہذا سوال یہ ہے کہ اس کیس کو فل کوٹ کے سامنے لگایا جائے یا کہ آئینی بینچ اسے سنے۔ درخواست گزاروں نے یہ استدعا کی کہ یہ کیس فل کورٹ کے سامنے سنا جائے، کیونکہ اس معاملے میں عدلیہ کی آزادی اور آئینی توازن دونوں بنیادی نوعیت کے معاملات ہیں۔  اس پر سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کیا یہ کیس سننے کے لیے فل کورٹ کی تشکیل ممکن ہے اور کیا اس سے 26ویں ترمیم کی شقّوں کے تحت بننے والا آئینی بینچ متاثر نہیں ہو جائے گا، اس  کے بعد عدالت نے مزید دلائل کے لیے سماعت معطل کردی۔

27 ویں ترمیم کے بعد کن ججز کے تبادلوں کا منصوبہ تیار ہے

تاہم اب 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کی بجائے ایک نئی آئینی عدالت قائم کر دی گئی ہے جس میں اب 26ویں ترمیم کو چیلنج کرنے کا کیس سنا جائے گا اور فیصلہ واضح طور پر حکومت کے حق میں آنے کا امکان ہے۔

 

 

 

Back to top button