المناک مری سانحے کے تین اصل ذمہ دار کون ہیں؟

معروف اینکر پرسن اور لکھاری جاوید چودھری نے کہا ہے کہ سانحہ مری کے تین اصل ذمے دار ہیں، سیاح، مری کے لوگ اور حکومت۔ ہم سب سے پہلے سیاحوں کی کوتاہیاں ڈسکس کرتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہوگا ہماری آبادی کا نوے فیصد حصہ گرم علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم برف اور پہاڑی علاقوں کے ایشوز سے سرے سے واقف نہیں ہیں۔ پاکستان میں پچھلے بیس برسوں میں سڑکوں کا جال بچھ گیا اور لوگوں کے پاس گاڑیاں بھی آ گئیں لیکن قوم ابھی ذہنی طور پر گاڑیوں اور سڑکوں کے قابل نہیں ہوئی چناں چہ لوگ اچانک پورے خاندان کو گاڑیوں میں ٹھونستے ہیں اور کسی تیاری اور انفارمیشن کے بغیر مری، کاغان، سوات اور گلگت بلتستان کی طرف نکل جاتے ہیں اور گرمی ہو یا سردی کسی نہ کسی آفت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جاوید کہتے ہیں کہ میرا ہر ویک اینڈ مری میں گزرتا ہے لہٰذا میں سات برسوں سے لوگوں کو بچوں سمیت سڑکوں پر خوار ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ لوگ سلیپر، کھلے جوتوں اور ہلکے پھلکے کپڑوں میں چھوٹی گاڑیوں اور ویگنوں میں سوار ہوتے ہیں اور جگہ جگہ پھنستے اور دھنستے چلے جاتے ہیں۔ بچے سڑکوں پر رو رہے ہوتے ہیں۔ خواتین قے کر رہی ہوتی ہیں اور بزرگ سر پکڑ کر کناروں پر بیٹھے ہوتے ہیں چناںچہ میں اس سانحے کا سب سے بڑا ذمے دار عام لوگوں کو سمجھتا ہوں۔ آپ خود سوچیے جس شہر میں صرف اڑھائی تین ہزار گاڑیوں کی پارکنگ ہو اس میں اچانک لاکھ گاڑیاں آ جائیں گی اور شہر میں صرف دو ہزار کمرے ہوں گے اور وہاں چار لاکھ لوگ آ جائیں گے تو اس شہر کا کیا بنے گا؟ یہ اتنے لوگوں کی کیسے ٹیک کیئر کرے گا؟
جاوید چوہدری کے بقول برف کا بھینایک پروٹو کول ہوتا ہے۔ آپ کے پاس جب تک فور بائی فور جیپ نہ ہو یا گاڑی کے چاروں پہیوں پر زنجیر نہ چڑھی ہو، آپ کے پاس اضافی پٹرول، برف ہٹانے کے لیے بیلچہ، دو دن کی تیار خوراک، پانی، دودھ‘ کمبل، واٹر پروف جیکٹس، اونی ٹوپیاں، مفلر، دو دو سویٹر‘ واٹر پروف دستانے، واٹر پروف اینٹی سلیپری لانگ شوز، ٹارچ اور ٹریکنگ اسٹکس نہ ہوں آپ کو کسی قیمت پر برفانی علاقے کا رخ نہیں کرنا چاہیے بالخصوص اس وقت جب آپ کے ساتھ بارہ سال سے کم عمر بچے یا ستر سال سے بڑے بزرگ بھی ہوں۔ تیسری بات ویک اینڈز یا چھٹیوں کے دن برفانی علاقوں یا سیاحتی مقامات کی وزٹ کے لیے بدترین دن ہوتے ہیں۔ کسی سمجھ دار شخص کو ان دنوں میں فیملی کے ساتھ کسی سیاحتی مقام کا رخ نہیں کرنا چاہیے اور آپ کو اگر زیادہ ہی شوق ہو تو پھر کمرے، ہوٹل اور باقی تمام تر ضروریات کا بندوبست کریں اور پھر گھر سے نکلیں ورنہ یہ سیدھی سادی خودکشی ہو گی۔
ادارے بند گلی سے نکلنے کا فارمولا بنانے میں بھی ناکام
جاوید چوہدری ایک اور مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ برسات کے موسم میں کسی بھی پہاڑی علاقے میں ہرگز نہ جائیں۔ بارش میں دنیا کے تمام پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے اور پہاڑی تودے اور چٹانیں گرنے سے ہر سال سیکڑوں خاندان دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ وہاں گاڑیاں بھی ہفتہ ہفتہ لینڈ سلائیڈنگ میں پھنسی رہتی ہیں۔ آپ اس پروٹوکول کو بھی پلے باندھ لیں۔ اسکے علاوہ آپ اگر برف باری میں پھنس گئے ہیں تو گاڑی میں محصور نہ رہیں۔ گاڑی سائیڈ پر لگائیں اور خاندان کو لے کر پیدل نکل جائیں، آپکو جہاں بھی پناہ ملتی ہے آپ فوراً لے لیں، گاڑی کی قربانی دے دیں لیکن اپنے آپ اور خاندان کو بچا لیں اور یہ اگر ممکن نہ ہو تو ہر پندرہ منٹ بعد گاڑی سے اتر کر اس کے تمام دروازوں کی سائیڈز اور سائیلنسر سے برف ہٹا دیں ورنہ دروازوں کے باہر برف جمع ہو جائے گی۔ یہ مکمل بند ہو جائیں گے اور آپ گاڑی سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔
بقول جاوید چوہدری، یہ بھی یاد رکھیں مسلسل ہیٹر چلنے سے گاڑی کے اندر آکسیجن کم ہو جاتی ہے اور اگر اس دوران سائیلنسر کے سامنے برف جمع ہو جائے تو زہریلی کاربن مونو آکسائیڈ واپس گاڑی کے اندر آ جاتی ہے، یہ گیس خاموش قاتل ہے۔ اس کی بو یا ذائقہ نہیں ہوتا۔ یہ جب آتی ہے تو گاڑی میں موجود لوگوں کو محسوس ہوتا ہے ہمیں نیند آ رہی ہے جب کہ یہ بڑی تیزی سے موت کی وادی میں گر رہے ہوتے ہیں لہٰذا گاڑی کا ہیٹر چلائیں تو شیشے ہلکے سے نیچے ضرور رکھیں اور اگر برف میں پھنس جائیں تو ہر دس پندرہ منٹ بعد نیچے اتر کر دروازوں کے ساتھ ساتھ سائیلنسر کے سامنے سے بھی برف ہٹاتے رہیں اور آخری بات آپ جہاں بھی جا رہے ہیں خدا کے لیے جانے سے پہلے موسم کا حال ضرور جان لیا کریں۔ گوگل نے موسم کو اب راز نہیں رہنے دیا‘ یہ آپ کو منٹ بائی منٹ کا حساب بھی دے دیتا ہے۔ آپ یہ حساب ضرور دیکھ لیا کریں۔ آپ کو اگر راستے میں پولیس یا انتظامیہ بھی روکے تو اسے قدرت کی طرف سے اشارہ سمجھ کر رک جایا کریں۔ آپ جب ضد کرتے ہیں تو یہ ضد آپ اور آپ کے خاندان کی جان لے لیتی ہے۔
جاوید چودہری بتاتے ہیں کہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مری میں بہت اچھا گھر دے رکھا ہے لیکن میں درجنوں مرتبہ راستے سے واپس آیا ہوں۔ مجھے اگر مری پہنچ کر بھی رش محسوس ہو تو میں چپ چاپ واپس آ جاتا ہوں یا گاڑی سائیڈ پر لگا کر پیدل گھر چلا جاتا ہوں۔ آپ پوچھیں گے کیوں؟ کیوں کہ میں سمجھتا ہوں دنیا میں قدرت کے اشاروں سے ٹکرانے سے بڑی بدبختی کوئی اور نہیں ہوتی۔
