ففتھ جنریشن وار شروع کرنے والی فوج کو سکستھ جنریشن وار کا سامنا

عمران دور حکومت میں پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ریاست مخالف عناصر کو کاؤنٹر کرنے کے لیے جو ففتھ جنریشن وار شروع کی تھی اب وہ اگلے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو سکستھ جنریشن وار کے تحت شروع کردہ تحریک انصاف کے ریاست مخالف بیانیے کا چیلنج درپیش ہے جس کا بنیادی ٹارگٹ فوج ہے۔

 معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی اردو نیوز کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ بعض اصطلاحات مختلف وجوہات کی بنا پر اتنی متنازع ہو جاتی ہیں کہ ان پر بات ہی نہیں ہو سکتی۔ ایسا ہی کچھ ففتھ جنریشن وارفیئر کی اصطلاح کے ساتھ ہوا۔ چند برس پہلے فوج کی جانب سے  فروغ دی جانے والی اس اصطلاح کو سب سے پہلے طالبان کے لیے استعمال کیا گیا لیکن عمران خان کے دور حکومت میں یہ اصطلاح ان کے سیاسی مخالفین کو کاؤنٹر کرنے کے لیے بھی استعمال کی جاتی رہی کیونکہ تب نون لیگ، اور پیپلزپارٹی زیر عتاب تھیں۔ چنانچہ ان دونوں جماعتوں نے ففتھ جنریشن وارفیئر کی اصطلاح کو شدت سے تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدل گئے، اور پوزیشنیں الٹ ہو گئیں۔ تب کی حکومت اپوزیشن میں چلی گئی، اور اپوزیشن کو حکومت مل گئی۔ چنانچہ اب ففتھ جنریشن وار فیئر کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری تحریک انصاف نے لے لی۔ خاص کر ان کے وہ اینکر، ولاگر، یوٹیوبر جو آج کل پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں۔ وہ سب بڑے زور شور سے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور فوجی قیادت کو نشانہ بناتے ہوئے نت نئی سازشی تھیوریز تخلیق کر رہے ہیں۔

عامر خاکوانی بتاتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وارفئیر آسان لفظوں میں کسی غیرملکی دشمن ریاست یا نان سٹیٹ ایکٹر کی شروع کردہ آئیڈیاز کی ایسی جنگ ہے جس میں کسی ملک کے عوام کو کنفیوز اور فکری طور پر منتشر اور تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ یہ سائبر وار ہے، جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ فیک ویڈیوز، فساد پھیلانے والی فیس بک پوسٹیں، شرانگیز ٹویٹس، اداروں کو متنازع بنانے کی سوچی سمجھی تحریر، مسلکی، لسانی اور علاقائی فساد پھیلانے کی سازشیں۔ دشمن پر حملہ میزائل پھینکے بغیر۔ صرف فتنہ پھیلانے، شکوک پیدا کرنے والی تحریریں، ویڈیوز، سٹیٹس مختلف فیک آئی ڈی کی مدد سے ڈال کر وائرل کر دی جائیں اور قوم کا مورال ڈاؤن ہو۔

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ اب تو معاملہ ففتھ جنریشن وارفیئر سے بھی آگے جا چکا۔ اب تو سکستھ جنریشن وارفیئر کا زمانہ ہے جس میں اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت سے ایسا فیک مواد تشکیل دیا جا رہا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی سے فالٹ لائنز موجود ہوں، اور صوبے عدم تحفظ کا شکار ہیں، وہاں آگ جلدی بھڑ ک اٹھتی ہے۔ انکے مطابق جب ہر حکومتی اور ریاستی ادارہ تنقید کی زد میں ہو، میڈیا ساکھ کھو چکا ہو،  فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کھلم کھلا ہو، عدلیہ پر جانبداری کے الزامات ہوں، سیاست میں شدید پولرائزیشن موجود ہو، اور ایک جماعت کے ہیرو، دوسری پارٹی کے ولن ہوں، تو ایسے میں دلوں میں جلتے ناپسندیدگی کے الاؤ معمولی سی کوشش سے نفرت کے بھانبھڑ بن جاتے ہیں۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ففتھ یا سکستھ جنریشن وارفئیر صرف حکومت، فوجی اسٹیبلشمنٹ یا ایجنسیوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ سب پاکستانیوں کا مسئلہ ہے۔ کیعنکہ ملک ہمارا ہے، خدانخواستہ اسے کوئی نقصان پہنچا تو وہ ہمارا نقصان ہے۔ ہم سب اس کے سٹیک ہولڈر ہیں۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ ملکوں پر مشکل وقت آتے ہیں، سخت گیر، متنازع حکمران بھی کبھی الیکشن کے ذریعے اور کبھی مارشل لا لگا کر حکمران بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی مخالفین کی عددی اکثریت نہ بنے تو صبر ہی کرنا پڑتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والے دنیا کے دوسرے ممالک میں عوام اپنے ناپسندیدہ حکمران کی وجہ سے اپنے ملک کو داؤ پر نہیں لگا دیتے۔

عامر خاکوانی کے مطابق ضیا سے مشرف تک کئی آئے، اور چلے گئے، آج وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان ڈکٹیٹرز کے دور میں نشانۂ ستم بننے والوں کی ذہنی کیفیت، اور ان کے کرب کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، لیکن انہیں اپنے غصے اور نفرت کا مرکز ڈکٹیٹرز کو بنانا چاہیے بجائے کہ فوج کو جو اس ملک کے دفاع کی ضامن ہے اور اس نے حالیہ پاک بھر جنگ میں بھی یہ ثابت کیا ہے۔ فوج بطور ادارہ ہماری سپورٹ کی حق دار ہے۔

عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی خوابوں کی تعبیر کے لیے سیاسی جدوجہد کرے، لیکن اگر ایسا نہ ہو پائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک ہی کے خلاف مہم چلانی شروع کر دی جائے اور ہر خرابی کا الزام فوج کے سر تھوپ دیا جائے۔ حالیہ جنگ میں عبرت ناک شکست کا بدلہ انڈین فوج پراکسی وار کے ذریعے ہی لے گی۔ بلوچستان اس کا اصل محاذ ہے لہذا اس کی کوشش ہوگی کہ اس محاذ پر پاکستانی فوج کے لیے مزید مشکلات پیدا کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے سوشل میڈیا کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے، آرٹی فیشل انٹیلی جنس بھی بروئے کار لائی جا رہی یے، لیکن اس سے کئی گنا زیادہ جھوٹا پروپگینڈا ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔ اس لیے ہوشیار، سمجھدار اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ سکستھ جنریشن وارفیئر ایسے ہی بظاہر بے ضرر نظر آنے والے فقروں، جھوٹی کہانیوں اور فیک ویڈیوز کی مدد سے لڑی جاتی ہے۔ اسے کاونٹر کرنے کے لیے عوام تک حقائق پہنچانا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومتی ادارے اپنی ساکھ بہتر بنائیں، تاکہ عوام ان کی کہی ہوئی بات پر یقین کریں۔ اگر ایسا ہو گیا تو دشمن کی تمام سازشیں ناکام ہو جائیں گی۔

Back to top button