بلوچ لبریشن آرمی پشتونوں اور بلوچوں کو بھی مارنے لگی

بلوچستان کی آزادی کی نام نہاد جنگ لڑنے والے بلوچ قوم پرست دہشت گرد اب صرف مقامی پنجابیوں کو ہی قتل نہیں کر رہے بلکہ پشتونوں اور بلوچوں کی جانیں بھی لے رہے ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر برسوں سے یہ بیانیہ پھیلا رہے ہیں کہ ان کی مسلح جدوجہد کا ہدف صرف فوج یا بلوچستان میں موجود غیر مقامی، بالخصوص پنجابی آبادی ہے۔ تاہم تازہ سرکاری اعداد و شمار اور حالیہ پرتشدد واقعات اس دعوے کو یکسر جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں آزادی کے نام پر لڑی جانے والی اس نام نہاد جنگ میں اب نہ صرف پنجابی بلکہ خود مقامی بلوچ اور پختون عوام بھی بڑی تعداد میں اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔
سال 2025 کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق، بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ مقامی آبادی بنی۔ بلوچستان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران دہشت گردوں نے مقامی بلوچ اور پختون شہریوں پر 126 حملے کیے، جن میں 35 افراد شہید اور 51 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار اس تاثر کے بالکل برعکس ہیں جو بلوچ علیحدگی پسند گروہ عوام کے سامنے پیش کرتے رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں آبادکاروں، خصوصاً پنجابیوں کے خلاف 16 حملے کیے گئے، جن میں 52 افراد شہید اور 12 زخمی ہوئے۔ اگرچہ پنجابی شہریوں پر حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ رہی، لیکن مجموعی طور پر حملوں کی تعداد اور تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشت گردی کی آگ سب سے زیادہ مقامی بلوچ اور پختون آبادی کو ہی جلا رہی ہے۔
دہشت گرد حملوں کی زد میں صوبہ بلوچستان کا اہم سفری اور مواصلاتی ڈھانچہ بھی آیا۔ ریلوے سروس پر 10 حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 29 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ ان حملوں سے نہ صرف رابطے کا اہم نظام متاثر ہوا بلکہ روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے سفر کرنے والے عام شہریوں کی زندگیاں بھی مسلسل خطرے میں رہیں۔
سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق، فرنٹیئر کور پر 2025ء کے دوران 330 حملے کیے گئے، جن میں 184 اہلکار شہید اور 327 زخمی ہوئے۔ پولیس کو 134 حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 32 اہلکار شہید اور 123 زخمی ہوئے، جبکہ لیویز فورس پر 84 حملوں میں 17 اہلکار شہید اور 27 زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی یہ لہر بلا امتیاز ہر اس فرد کو نشانہ بنا رہی ہے جو صوبے میں امن و امان کے قیام سے وابستہ ہے۔
ذرائع کے مطابق، حملوں کا یہ انداز بلوچ دہشت گرد گروہوں کے اس جھوٹے نظریاتی دعوے کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ وہ بلوچ عوام کے حقوق کے محافظ ہیں۔ ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار واضح طور پر ثابت کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی وہ کسی نسلی یا علاقائی شناخت میں تمیز کرتے ہیں۔ ان کے بقول، دہشت گرد یکساں سفاکی کے ساتھ بلوچوں، پختونوں، پنجابیوں، مزدوروں، مسافروں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
دوسری جانب، بلوچستان کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے معدنیات سے مالا مال مگر غریب ترین صوبے میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں نے اسلام آباد کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 مختلف علاقوں میں سکولوں، بینکوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بیک وقت مسلح حملوں اور خودکش دھماکوں میں دونوں جانب سے ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچوں سمیت اکثریت عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی تھی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کو بھارت کی حمایت حاصل ہے، جبکہ نئی دہلی نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے باوجود، ان الزامات کے تناظر میں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب گزشتہ برس مئی میں دونوں ممالک دہائیوں کے بدترین مسلح تنازع کا سامنا کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا مگر معاشی طور پر پسماندہ صوبہ ہے۔ پہاڑی اور صحرائی جغرافیے کے حامل اس خطے میں آبادی کم ہے، مگر یہاں کے عوام طویل عرصے سے مرکزی حکومت کی جانب سے محرومی، امتیازی سلوک اور وسائل کے استحصال کی شکایات کرتے آ رہے ہیں۔ یہی احساسات علیحدگی پسند شورش کو تقویت دیتے رہے ہیں، جس میں زیادہ خودمختاری یا مکمل آزادی اور قدرتی وسائل میں بڑے حصے کا مطالبہ شامل ہے۔ ریاستی ادارے کئی دہائیوں سے ان مطالبات کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔
بی ایل اے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں میں سب سے طاقتور مسلح گروہ سمجھی جاتی ہے، جو اکثر پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور پاک چین سی پیک پراجیکٹ سے منسلک منصوبوں کو نشانہ بناتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بلوچ علیحدگی پسند تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2025ء کے دوران پرتشدد واقعات اور ہلاکتوں میں 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اسے اب تک کا سب سے مہلک سال بناتا ہے۔ ایسے میں 31 جنوری کو بلوچستان کے 12 شہروں میں بیک وقت حملوں کو ایک بڑا انٹیلی جنس فیلیئر قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، مقامی آبادی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلسل حملوں نے دہشت گرد تنظیموں کے اس دعوے کو مزید کمزور کر دیا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کی نمائندہ ہیں۔ اس کے برعکس، ان حملوں نے صوبے بھر میں خوف کی فضا کو گہرا کیا، روزگار کو متاثر کیا اور ترقیاتی منصوبوں میں شدید تاخیر پیدا کی ہے۔
