دل کادورہ پڑنے سے قبل جسم کےوارننگ دینےکاانکشاف

ماہرین امراضِ قلب کا کہنا ہے کہ دل کا دورہ اکثر اچانک اور ڈرامائی انداز میں تصور کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جسم عام طور پر اس سے پہلے ہی خطرے کے اشارے دینا شروع کر دیتا ہے۔
بھارتی کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر روی پرکاش کہتے ہیں کہ زیادہ تر مریض بڑے کارڈیک ایونٹ سے 24 سے 48 گھنٹے پہلے ایسی علامات محسوس کرتے ہیں جنہیں اگر بروقت پہچانا جائے تو جان بچائی جا سکتی ہے۔ اس اہم مرحلے کو پروڈرومل ونڈو کہا جاتا ہے۔
کاڈیالوجسٹ کے مطابق دل کا دورہ شاذ و نادر ہی بالکل اچانک ہوتا ہے۔ اس دوران دل کو خون کی فراہمی پہلے ہی متاثر ہو رہی ہوتی ہے اور اگر مریض بروقت طبی امداد حاصل کر لیں تو بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔
معمولی کام یا مختصر فاصلے پر چلنے کے بعد شدید تھکن محسوس ہونا۔ یہ عام تھکن نہیں بلکہ دل کی کمزور پمپنگ کی وجہ سے جسم کو توانائی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ درد ہمیشہ تیز نہیں ہوتا بلکہ دباؤ، بھاری پن، جکڑن یا جلنے جیسا احساس ہو سکتا ہے۔ اکثر یہ آرام کے بعد کم ہو جاتا ہے، جسے لوگ گیس یا پٹھوں کی تکلیف سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
