سائبرکرائم کے افسران کو اندرکروانے والاڈکی بھائی خودباہرآگیا

مشکلات سے دوچار،آن لائن جوئے کی تشہیر کے الزام میں گرفتار معروف یوٹیوبر سعد الرحمان، المعروف ڈکی بھائی، کو بالآخر ساڑھے تین ماہ بعد عدالت سے ریلیف مل گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ڈکی بھائی کی 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے اُن کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد مبینہ رشوت خوری کے الزامات پر سائبر کرائم ایجنسی کے متعدد افسران کو گھر بھجوانے والے ڈکی بھائی کے بھی جلد گھر واپس آنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
خیال رہے کہ این سی سی آئی اے لاہور نے 17 اگست، 2025 کو علامہ اقبال ایئر پورٹ سے سعد کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ لاہور سے ملائیشیا جا رہے تھے۔ حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ملزم پر الزام ہے کہ انہوں نے مختلف غیر قانونی جوا ایپس کی بڑے پیمانے پر ’تشہیر‘ کی، جو خاص طور پر نوجوانوں اور نابالغوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ گرفتاری کے فوری بعد ملزم سے دو موبائل فونز اور ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوئے۔ ایف آئی اے کی فرانزک اور تکنیکی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ان ڈیوائسز میں جوا ایپس کی پروموشنل ویڈیوز، ایپ انتظامیہ کے ساتھ خفیہ وائس چیٹس اور مالی ٹرانزیکشنز کا مکمل ریکارڈ موجود تھا۔ جس کے بعد ڈکی بھائی سے کروڑوں روپے کی برآمدگی کا دعویٰ بھی کیا گیا تاہم کیس نے اس وقت دوسرا رخ اختیار کر لیا جب ڈکی بھائی کی اہلیہ نے این سی سی آئی اے افسران پر کروڑوں روپے رشوت لینے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا جس کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی میں موجود متعدد کالی بھیڑیں نہ صرف بےنقاب ہوئیں بلکہ کئی افسران کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ جن سے کروڑوں روپے بھی برآمد ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے، نے جوئے کی ایپس کی مبینہ تشہیر کے معاملے میں گرفتار ہونے والے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے ملزم اور اُن کی اہلیہ کو ریلیف دینے کے عوض رشوت لینے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دیگر الزامات کے تحت نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی کے جن چھ افسران سمیت نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔اُن میں این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، ڈپٹی ڈائریکٹر زوار احمد، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز شعیب ریاض اور مجتبیٰ ظفر جبکہ این سی سی آئی اے ہیڈکوارٹر میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن محمد عثمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان شامل ہیں۔ اِس کے علاوہ دو سب انسپکٹرز علی رضا اور یاسر رمضان اور ایک شہری عثمان عزیز جنھیں شعیب ریاض کا مبینہ فرنٹ مین قرار دیا گیا ہے، بھی اس مقدمے میں نامزد ہیں۔ سرفراز چودھری وہ آفیسر ہیں جنہوں نے ڈکی بھائی کو گرفتار کیا تھا تاہم قدرت کا نظام دیکھیں کہ ڈکی بھائی کو گرفتار کرنے والا سرفراز چودھری آج جیل میں بند ہے جبکہ ڈکی بھائی کو لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کا شمار پاکستان کے ان یو ٹیوبرز میں ہوتا ہے جن کے فالوورز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر اپنی مزاحیہ ویڈیوز اور فیملی وی لاگز کےلیے جانے جاتے ہیں۔ان کی جانب سے پوسٹ کیا جانے والا مواد ماضی میں بھی متنازعہ رہا ہے۔ رواں برس کے آغاز میں بھی انھیں اس وقت قانونی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی موٹروے پر لاپرواہی سے ڈرائیونگ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے انھیں اس مقدمے میں حفاظتی ضمانت دے دی تھی۔تاہم اس مرتبہ سعد الرحمان کو جس معاملے کا سامنا ہے وہ اپنے پلیٹ فارمز پر غیرقانونی جوئے کی ایپس کی تشہیر سے متعلق تھا۔
سعدالرحمان پر الزام تھا کہ وہ ان چند پاکستانی یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئینسرز میں شامل ہیں جنھوں نے اپنی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور مالی فائدے حاصل کرنے کی غرض سے عام پاکستانی شہریوں کو جوئے کی ایپس میں سرمایہ کاری کرنے پر اُکسایا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یاد رہے کہ اس ضمن میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں خاص طور پر ’بائنومو‘ نامی ایپ کا ذکر کیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر بیٹنگ کے لیے استعمال ہونے والی یہ ایپ پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر کے مطابق ایجنسی کی جانب سے 13 جون 2025 کو قابل اعتماد ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر ایک انکوائری کا آغاز کیا گیا تھا۔ اطلاعات یہ تھیں کہ چند سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یو ٹیوبرز اپنی فالووئنگ اور شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور اپنے مالی فائدے کی غرض سے صارفین کو جوئے کی ایپس میں سرمایہ کاری کے لیے اُکسا رہے ہیں۔مقدمے کے مطابق اِن یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئینسرز کے اُکسانے پر بہت سے عام افراد نے اِن پروموٹیڈ ایپلی کیشنز یعنی ایپس پر سرمایہ کاری کی لیکن بعدازاں پیسہ لگانے والے اِن صارفین کے ساتھ دھوکہ ہوا، اُن کی سرمایہ کاری ڈوبی اور وہ اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہوئے۔ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ صارفین کو ان ایپس میں سرمایہ کاری کے لیے اُکسانے والے افراد میں سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے یوٹیوب چینلز کے ذریعے بیٹنگ ایپس بشمول ’بائنومو‘ ’بیٹ 365‘، ’39 گیم‘ وغیرہ کی تشہیر کی۔ جس سے پاکستانی نوجوانوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
تاہم اب ڈکی بھائی کے وکلاء نے عدالت میں موقف اپنایا ہے کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ یوٹیوبر کی اہلیہ نے بھی رشوت طلب کرنے پر ایف آئی اے اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کرایا ہے جبکہ ڈکی بھائی کے مقدمے میں شریک ملزموں کی ضمانت پہلے ہی منظور ہوچکی ہیں۔ ڈکی بھائی اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، مقدمے کی دفعات کی زیادہ سے زیادہ سزا تین برس ہے اور یہ جرم قابل ضمانت ہے۔ وکیل کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دئیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسے نوعیت کے کیسز میں ضمانت نہ ہونا غیر معمولی بات ہے۔ جس کے بعد عدالت نے ڈکی بھائی کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
دوغلی پالیسی PTIکی شکست فاش کی وجہ کیسے بنی؟
یاد رہے کہ اس سے قبل عدالتوں نے دو بار ملزم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ ’ڈکی بھائی کی سرگرمیاں معاشرے میں بڑے پیمانے پر اثرانداز ہوئیں۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو اپنے مشوروں کی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔‘ اس لئے ڈکی بھائی ضمانت پر رہائی کے حقدار نہیں ہیں۔
