کپتان کا جانا ٹھہر چکا ہے، صبح گیا کہ شام گیا

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ امریکا اور روس کو مذاکرات کا مشورہ دینے والے وزیر اعظم عمران خان خود کسی بھی مسئلے پر اپنی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکاری ہیں۔ اسی لیے جب خان صاحب ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پوتن کی میزبانی کا لطف اٹھا رہے تھے تو لاہور میں ان کے حکومتی اتحادی چودھری پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ، طارق بشیر چیمہ اور مسلم لیگ (ق) کے دیگر ارکانِ پارلیمان آصف زرداری کے گھر کھانے پر مسکراہٹوں کا تبادلہ کر رہے تھے۔
حامد میر یاد دلاتے ہیں کہ ابھی کچھ ہی روز پہلے شہباز شریف اور آصف علی زرداری کی چوہدریوں کے گھر آمد کے بعد مونس الہی نے عمران خان کو یقین دہانی کروائی تھی کہ گھبرانے کی بات نہیں، ہم ڈٹ کر آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے نواز لیگ کو مشورہ دیا ہے کہ تبدیلی کا آغاز پنجاب سے کرتے ہوئے سب سے پہلے وزیر اعلی عثمان بزدار کی جگہ چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلی بنایا جائے تاکہ مرکز میں عمران حکومت گرانے کے لیے قاف لیگ کی مدد لی جا سکے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کی قیادت نے وفاق میں تبدیلی کے بعد شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی تجویز دی ہے۔ اسی دوران اپوزیشن ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے انہوں نے 172 کی بجائے 186 اراکین قومی اسمبلی کی حمایت حاصل کرلی ہے جن میں 24 ممبران حکومتی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
بقول حامد میر، ایسے میں لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن کو مطلوبہ ارکان قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہو چکی ہے تو پھر دیر کس بات کی؟ انکا کہنا ہے کہ یہ سوال بہت اہم ہے اور اس خاکسار نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے یہ سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ معاملہ کہاں پھنسا ہوا ہے؟ معلوم یہ ہوا کہ لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری ایک دوسرے کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔
دونوں میں بہت سے معاملات طے ہو چکے ہیں۔ دونوں کو کسی تھرڈ پارٹی نے ایجنڈا نہیں دیا بلکہ یہ دونوں احتیاط کے ساتھ آہستہ آہستہ مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر ایک ایکشن پلان بنا رہے ہیں، جس میں صرف مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم پاکستان نہیں بلکہ جہانگیر ترین گروپ کے لیے بھی گنجائش نکالی جا رہی ہے۔
زرداری صاحب چاہتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ مسلم لیگ (ن) سنبھالے۔ لیکن ن لیگ کا اصل مقصد وزارت عظمیٰ لینا نہیں بلکہ 2022ء میں نئے انتخابات کرانا ہے۔ عمران خان کا خیال تھا کہ نواز شریف اور آ صف علی زرداری میں کبھی مفاہمت نہیں ہو گی لیکن نواز شریف اور زرداری صاحب نے اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے، جس کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمان کو بھی جاتا ہے۔ مولانا صاحب نے مسلم لیگ (ن) کو تحریک عدم اعتماد کے لیے اس بنیاد پر راضی کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو چکی ہے۔
مسلم لیگ ن نے پیکاآرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا
حامد میر کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) میں کچھ دوست اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو چکی ہے۔ انکا خیال ہے کہ اراکین قومی اسمبلی کو عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کے لیے ٹیلی فون کالوں کا سلسلہ ابھی بند نہیں ہوا۔ لیکن دوسری رائے یہ ہے کہ ٹیلی فون کالیں کسی خفیہ ادارے کی جانب سے نہیں آ رہی ہیں بلکہ پشاور میں بیٹھے ایک شخص انفرادی طور پر سیاست میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ نون کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب چند روز پہلے یہ الزام عائد کرچکی ہیں کہ پشاور کی ایک غیر سیاسی شخصیت اپوزیشن کی عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کو کاؤنٹر کرنے کے لئے اراکین اسمبلی پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام لیے بغیر مریم نے کہا کہ اگر وہ صاحبان اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کا نام دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔
حامد میر کے بقول اس دعوے میں کتنی حقیقت ہے، ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور بتایا جا رہا ہے کہ کچھ اپوزیشن رہنماؤں کے پاس ثبوت موجود ہیں، جو بوقت ضرورت پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اپوزیشن کے کچھ دوست یہ سوچ سوچ کر بھی پریشان ہیں کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل رہی اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو اس کے بعد کیا ہو گا؟خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک کی کامیابی کے بعد عوام کے مسائل کا فوری حل کسی کی ترجیح نہیں ہو گا کیونکہ نئی حکومت نئے انتخابات کی تیاری شروع کر دے گی اور کہا جائے گا کہ نئے مینڈیٹ کے بعد عوام کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
ایسے میں حامد میر سوال کرتے ہیں کہ کیا نئے انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ایک دفعہ پھر آمنے سامنے آ جائیں گی؟ اگر ان دو بڑی جماعتوں کی قیادت نے ایک دفعہ پھر آپس میں لڑنا شروع کر دیا تو عمران خان فائدہ اٹھانے کے لیے میدان میں آ جائیں گے لیکن یاد رہے کہ آنے والے وقت میں عمران خان کی اصل اپوزیشن مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی نہیں ہو گی بلکہ پاکستان کا میڈیا ہو گا، جس سے خان صاحب پوٹن بن کر نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔
بقول حامد میر، کہنے کو تو عمران پاکستان کو ریاست مدینہ بنانا چاہتے ہیں لیکن ھال ہی میں انہوں نے جو دو صدارتی آرڈی نینس جاری کروائے ہیں وہ تو کچھ اور ہی بتا رہے تھے۔ ان صدارتی آرڈی نینسوں کے ذریعے ایک طرف تو فیک نیوز روکنے کے نام پر آزادی اظہار کا گلا دبانے کی کوشش کی گئی اور دوسری طرف الیکشن کمیشن کے اختیارات پر ہاتھ مارا گیا۔
سوال یہ یے کہ اتوار کو چھٹی کے روز پارلیمان کو بائی پاس کر کے صدارتی آرڈی نینس جاری کرنے کے پیچھے کیا جلدی تھی؟ کیا کوئی بہت بڑا سکینڈل منظرِعام پر آنے والا ہے، جسے روکنے کے لیے چُھٹی کے دن صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا یا عمران خان پاکستان میں روس جیسا نیم صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتے تھے؟
حامد میر بتاتے ہیں کہ جس دن عمران خان روس کے دورے پر روانہ ہو رہے تھے، اسی صبح اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر جی ایم جمالی اور سیکرٹری رانا عظیم کی طرف سے رضوان فیض قاضی کے ذریعے پیکا آرڈی نینس 2022ء کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت تھی۔ ہم صبح صبح اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پہنچے تو مطیع اللہ جان اور طارق عثمانی ہم سے پہلے وہاں موجود تھے۔ پہلا کیس محسن بیگ سے متعلق تھا۔ مختصر سماعت کے بعد اس کیس میں تاریخ دے دی گئی۔
دوسرا کیس پیکا آرڈی نینس 2022ء کے خلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر تھا۔ پی ایف یو جے کے وکیل عادل عزیز قاضی نے عدالت کو بتایا کہ پیکا ایکٹ 2016ء میں ترامیم کر کے ایف آئی اے کو کسی شکایت کی انکوائری کے بغیر گرفتاری کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ کون سا سیکشن ہے؟ وکیل صاحب نے سیکشن 20 کو تفصیل سے پڑھ دیا اور عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے کو انکوائری کے بغیر گرفتاری سے یہ عدالت خود روک چکی ہے اور وہ کیس ابھی زیرِسماعت ہے۔ لہذا چیف جسٹس نے پیکا آرڈینینس 2022ء کے سیکشن 20 کے تحت ایف آئی اے کو گرفتاریوں سے روک دیا۔ چیف جسٹس نے 24 فروری کو اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا۔
عدالت کا حکم صرف میڈیا نہیں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی ایک بڑا ریلیف تھا۔ عمران خان نے اس صدارتی حکم نامے کے تحت فیک نیوز کا راستہ نہیں روکا تھا بلکہ ایف آئی اے کو گرفتاریوں کے لامحدود اختیارات دے دیے تھے۔ یہ ویسے ہی اختیارات تھے، جیسے روس میں صدر پوٹن کی حکومت میڈیا اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
