کپتان کے اتحادیوں نے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

حکومت کی تین بڑی اتحادی جماعتیں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے تین روز پہلے حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کا اعلان کر دیں گی۔ انتہائی بااعتماد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ان تین اتحادی جماعتوں میں قومی اسمبلی میں سات نشستوں والی ایم کیو ایم، پانچ سیٹوں والی قاف لیگ اور پانچ نشستوں والی بلوچستان عوامی پارٹی شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں تین سیٹیں رکھنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی قیادت سے اپوزیشن کے مذاکرات ابھی جاری ہیں لیکن حتمی نتیجہ آنا باقی ہے۔ دوسری جانب تین بڑی اتحادی جماعتوں یعنی ایم کیو ایم، قاف لیگ اور باپ کے 17 اراکین حکومت چھوڑ کر اپوزیشن سے مل گئے تو قومی اسمبلی میں ان کی تعداد 162 سے بڑھ کر 179 ہو جائے گی جبکہ حکومتی اتحاد کی تعداد 179 سے کم ہوکر 162 رہ جائے گی، یوں بھنور میں پھنسی کپتان کے اقتدار کی کشتی ڈوب جائے گی۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف حکومتی اتحادی جماعتوں پر ہی انحصار نہیں کر رہے بلکہ اپنی نمبرز گیم کو 200 اراکین اسمبلی تک لے جانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تحریک انصاف کے کم از کم 21 اراکین قومی اسمبلی بھی اپوزیشن کے ساتھ چلنے کا وعدہ کر چکے ہیں جو عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن سامنے آ جائیں گے۔

اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں اتحادی جماعتوں نے اپنے ساتھ کیے جانے والے وعدوں کی ضمانت آصف علی زرداری اور شہباز شریف سے حاصل کی ہے، لہذا ان دو شخصیات کو اگلے سیاسی سیٹ اپ میں اہم ترین عہدے مل سکتے ہیں تاکہ وہ نئے حکومتی اتحاد کو برقرار رکھ سکیں۔ اس بات کا واضح امکان بھی موجود ہے کہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے بعد اگلا سیاسی سیٹ اپ حکومت کی بقیہ ڈیڑھ سالہ مدت پوری کرے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے سیٹ اپ میں آصف زرداری صدر، شہباز شریف وزیر اعظم، پرویز الہی وزیر اعلی پنجاب، اور یوسف رضا گیلانی چئیرمین سینیٹ ہو سکتے ہیں، مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسد رحمان سپیکر یا ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہو سکتے ہیں اور ایم کیو ایم گورنر سندھ کا عہدہ حاصل کر سکتی ہے۔ گورنر پنجاب اور سپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدوں میں سے ایک نواز لیگ کو اور دوسرا پیپلزپارٹی کو ملے گا۔ اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو وفاقی وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی تبدیلی کے بعد پہلے پنجاب، پھر بلوچستان اور اسکے بعد خیبر پختون خواہ کی حکومتیں الٹائی جائیں گی۔

بتایا جا رہاہے کہ حکومت کی تینوں بڑی اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور باپ نے مشترکہ طور پر حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا اعلان بھی وہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کریں گی۔ لیکن جب تک قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا جاتا، تب تک اس فیصلے کو خفیہ رکھا جائے گا۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے تین روز پہلے کپتان کی تینوں اتحادی جماعتیں حکومت سے علیحدگی کا اعلان کریں گی جس کے بعد اس بات کا بھی قوی امکان موجود ہے کہ عمران خان تحریک کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی کے اراکین کی تعداد 341 ہے، جبکہ ایک نشست خالی ہے۔ حکومتی اتحاد کے پاس 179 ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کے ارکان کی تعداد 162ہے۔

لیکن اتحادیوں کی جانب سے اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کے بعد انکے 17 ووٹ حکومتی اتحاد سے الگ ہو جائیں گے، یوں حکومتی اتحاد کی تعداد 179 سے کم ہو کر 162 رہ جائیگی، جو اپوزیشن اتحاد کی موجودہ تعداد ہے۔ لیکن اپوزیشن اتحاد کی تعداد 179 پر چلی جائے گی جو اس وقت حکومتی تعداد ہے، یوں اپوزیشن کی نمبرز گیم پوری ہو جائے گی اور کپتان فارغ ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے موجودہ اتحاد میں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ تین مزید اتحادی جی ڈی اے کے 3، جبکہ جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کا ایک ایک رکن شامل ہے، اسکے علاوہ 2 آزاد ارکان بھی حکومتی بنچوں پر موجود ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی اپوزیشن کے ساتھ چلے جائیں گے۔ دوسری جانب اپوزیشن بنچوں پر اس وقت مسلم لیگ ن کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، ایم ایم اے کے 15، بی این پی مینگل کے 4، اے این پی کا ایک اور 2 آزاد ارکان شامل ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے تیزی سے بدلتی سیاسی صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنے تینوں بڑے اتحادیوں کو دوبارہ سے اعتماد میں لینے کے لئے وزراء کو رابطوں کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ لیکن اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر قاف لیگ، باپ اور ایم کیو ایم کی قیادت سے حکومت کے رابطے ہو بھی جائیں تو ان کی واپسی ممکن نہیں چونکہ حزب اختلاف کی قیادت کے ساتھ انکے معاملات حتمی طور پر طے پا چکے ہیں۔

The captain’s allies decided to leave the government Urdu

Back to top button