ایران اور امریکہ میں جنگ بندی فوری نافذ ہو چکی ہے: شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے اور اسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام دانشمندی اور دور اندیشی کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیرِ اعظم نے مزید بتایا کہ ایران اور امریکا کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے غیر معمولی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پائیدار امن کے قیام میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر ایک جانب اپنی کامیابی کا اظہار کیا، تو دوسری جانب انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا سرکاری بیان بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کر دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان میں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کامیاب سفارتکاری اور مشرقِ وسطیٰ کو بحران سے بچانے میں اہم کردار ادا کرنے پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے شیئر کیے گئے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ بیان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف کی درخواست اور امریکا کی جانب سے 15 نکاتی مذاکراتی تجویز کے تناظر میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے یہ مؤقف اختیار کیا۔

ایران نے واضح کیا کہ اگر اس کے خلاف حملے بند کیے جائیں تو اس کی مسلح افواج بھی دفاعی کارروائیاں روک دیں گی۔مزید یہ کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ رابطے اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے ممکن بنائی جائے گی۔ایران کے مطابق یہ اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی جانب ایک مثبت قدم ہیں۔

Back to top button