فوجی حکومت اور عمرانی عدلیہ کا دنگل فیصلہ کن مرحلے میں داخل

اسلام آباد میں فوج کی حمایت یافتہ حکومت اور عمران خان کی حمایتی عدلیہ کے مابین جاری دنگل اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس کا حتمی نتیجہ ایک فریق کےلیے تخت اور دوسرے کےلیے تختے کی صورت میں نکلے گا۔ حالانکہ اس وقت دونوں فریقین کا پلڑا برابر نظر آتا ہے لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اونٹ اسی کروٹ بیٹھے گا جس طرف فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہے گی، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑا حملہ ہونے والا ہے اور مولانا فضل الرحمن کی حمایت کے بغیر ہی دو تہائی اکثریت کے ساتھ عدالتی ریفارمز پر مبنی آئینی ترامیم کا پیکج پاس کروانے کی کوشش کی جائے گی۔
یاد رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے علم میں لائے بغیر عدالتی قواعد کے برخلاف الیکشن کمیشن کے نام ایک دھمکی آمیز خط لکھنے والے 8 عمراندار ججز نے جسٹس منصور علی شاہ کی زیر قیادت مخصوص نشستوں کے کیس کا تفصیلی فیصلہ بالاخر ڈھائی ماہ کی سوچ بچار کے بعد جاری کر دیا ہے لیکن اس سے صورت حال واضح ہونے کی بجائے اور بھی پیچیدہ ہوگئی ہے۔ نئی صورت حال میں یہ تفصیلی فیصلہ بظاہر غیر موثر نظر آ رہا ہے کیوں کہ الیکشن کمیشن اب بھی اس پر عمل درامد کرنے کے موڈ میں نہیں۔ وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ نے بھی واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اس فیصلے میں مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی گئی کیوں کہ پٹیشنر سنی اتحاد کونسل تھی۔ دوسری جانب پارلیمنٹ کے ذریعے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نئے قانون کے تحت سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کو فارغ کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا وجود ہی باقی نہیں رہا، اسپیکر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں قومی اسمبلی کی 80 سیٹوں کو سنی اتحاد کونسل کی نشستیں ظاہر کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسپیکر کو پارلیمانی استثنیٰ حاصل ہے، یعنی سپریم کورٹ کے متعلقہ 8 ججز ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ پچھلی تاریخوں کے تحت جو قانون رائج ہو چکا ہے اس کے مطابق 80 ارکان قومی اسمبلی کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں بلکہ سنی اتحاد کونسل سے ہے اور اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر کہا کہ وہ بھی اس قانون پر عمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے منسوب قومی اسمبلی کی 23 مخصوص سیٹیں دیگر پارٹیوں میں تقسیم کر دے، یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ سیٹیں نون لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کو دے دی گئی تھیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو قومی اسمبلی میں حکومتی اتحاد کی دو تہائی اکثریت بحال ہو جاتی ہے۔
کراچی کے روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ایسے میں صاف نظر آ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کے فیصلے پر نہیں بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے پر عمل کرے گا۔ یوں حکومت کو قومی اسمبلی میں ترامیم کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ آئینی ترامیم کا پیکج پاس ہونے کی صورت میں سپریم کورٹ کا مخصوص سیٹوں کے حوالے سے 8 ججز کا حکم نامہ خودبخود غیر موثر ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں ایک آئینی عدالت کا قیام پہلی ترجیح ہے جس کی سربراہی قاضی فائز عیسی کو دینے کا سوچا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سیاسی ہو جانے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام سیاسی کیسز اب آئینی عدالت میں چلائے جائیں گے اور سپریم کورٹ صرف پبلک انٹرسٹ کیسز یعنی مفاد عامہ کے مقدمات سنے گی۔ اگر آئینی عدالت بن جاتی ہے تو مخصوص نشستوں کے کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کردہ حکومتی نظر ثانی پٹیشن بھی آئینی عدالت ہی سنے گے۔
یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آئینی عدالت کے قیام کے بعد فوجی عدالتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس بھی آئینی عدالت کو منتقل ہوجائے گا، جو یقینا پی ٹی آئی اور اس کے بانی عمران خان کےلیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپیکر قومی اسمبلی کے خط کے جواب میں الیکشن کمیشن پاکستان مخصوص سیٹوں سے متعلق اپنا پرانا نوٹی فکیشن بحال کر دیتا ہے تو پھر پی ٹی آئی سے منسوب مخصوص سیٹوں کی بڑی تعداد حکمراں اتحادی پارٹیوں کو واپس مل جائے گی۔ یوں حکومت کو آئینی ترامیم کے لئے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے گی۔ اس کے بعد صرف سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لئے حکومت کو پانچ ووٹ درکار ہوں گے جن کے حصول کےلیے آزاد اراکین سے بات ہو چکی ہے۔
دوسری جانب اب چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی بھی کھل کر کھیل رہے ہیں خصوصا صدر آصف زرداری کی جانب سے ایک صدارتی ارڈیننس جاری ہونے کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس آرڈیننس نینس پر فوری عمل کرتے ہوئے بینچ بنانے کا اختیار رکھنے والی سپریم کورٹ کی تین رکنی کمیٹی کی ساخت تبدیل کر دی ہے۔ انہوں نے جسٹس منیب اختر کو اس کمیٹی سے نکال باہر کیا ہے اور جسٹس امین الدین خان کو اس کا رکن بنا دیا ہے۔ ردعمل میں جسٹس منصور علی شاہ نے بھی کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت سے انکار کر دیا ہے، لیکن اب کیسز سننے کےلیے بینچز بنانے والی کمیٹی میں چیف جسٹس پاکستان کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔ اب 8 رکنی عمراندار ججز اپنے طور پر عدالت نہیں لگا سکتے۔ اگر ایسا کیا گیا تو یہ عمل جوڈیشل مس کنڈکٹ کے زمرے میں آئے گا اور معاملہ کارروائی کے لئے سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں عمران خان کے حق میں مہم تیز کیوں ہو گئی؟
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کی ستتر سالہ تاریخ میں جب بھی عدلیہ اور پارلیمینٹ آمنے سامنے آئے ہیں تو زیادہ تر عدلیہ کو فتح حاصل ہوئی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ تب فوجی اسٹیبلشمنٹ کا وزن عدلیہ کے پلڑے میں ہوتا تھا جو اسے پارلیمنٹ یا وزیراعظم کے خلاف سرخرو کرانے میں بنیادی رول ادا کرتی تھی۔ لیکن آج شاید یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں اور سپریم کورٹ کے موجودہ ججز کی زیادہ تعداد فی الوقت دوسری طرف کھڑی ہے۔ لہٰذا جو سیاسی دنگل فیصلہ کن معرکے کی طرف بڑھ رہا ہے اس میں تخت یا تختہ کی ’’جنگ ‘‘ میں کامیابی بظاہر تخت یعنی حکومت کی ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں حتمی طور پر واضح ہوجائے گا کہ تخت یا تختہ کے معرکے میں سرخرو کون ہوتا ہے؟
