جیل میں قیدیوں سےسیاسی گفتگوپرپابندی کی شق کالعدم قرار

اسلام آباد ہائیکورٹ نےجیل میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی آئین کی شقوں سے متصادم قرار دے دی۔
شیرافضل مروت کی درخواست پر فیصلہ جاری
جسٹس سرداراعجاز اسحاق خان نےپی ٹی آئی کےرکن قومی اسمبلی ایم این اےشیر افضل مروت کی درخواست پرفیصلہ جاری کیا جس میں قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی آئین کی شقوں سےمتصادم قرار دےدی گئی۔
پی آئی اےکی نجکاری،85 ارب کی جگہ10ارب کی بولی،انتظامیہ سرپکڑ کر بیٹھ گی
سیاسی گفتگو پر پابندی آئین سے متصادم قرار
عدالت عالیہ کے فیصلےکےمطابق قیدیوں کی سیاسی گفتگو پر پابندی آئین اور اظہار رائے کی آزادی کی شقوں سے متصادم ہے، بانی پی ٹی آئی کی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں پر پابندی کی وجہ سے جیل رولز کی یہ شق بتائی گئی تھی اور ملاقاتوں پر پابندی کےبعد شق 265 کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
بیرسٹر زینب جنجوعہ عدالتی معاون
ہائیکورٹ کی جانب سےکہا گیا کہ بیرسٹر زینب جنجوعہ کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا جنہوں نے بہترین معاونت کی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل نے پنجاب کےجیل رولز سے متعلق درخواست قابلِ سماعت ہونےپراعتراض اٹھایا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد کی عدالتوں کےقیدی بھی اڈیالہ جیل میں قید ہونےکےباعث عدالت کا دائرہ اختیاربنتا ہے اورپنجاب حکومت نےجواب طلب کرنےکے3 ماہ بعد تک بھی جواب جمع نہیں کرایا۔
