آبنائے ہرمز کی”بندش” اور آرٹیکل 19 اے کا تقاضہ

 

 

 

 

تحریر : نصرت جاوید

بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت

 

صحافت کا دھندا اختیار کرنے کے پہلے ہی روز سے میں نے ہمیشہ برجستہ لکھا۔ خبر ہو یا کالم ایک ہی نشست میں روانی سے لکھ ڈالا۔ لکھنے کے بعد زبان کی درستگی اور مشکل الفاظ کے آسان متبادل ڈھونڈے اورمدیران کے حوالے کردیتا۔ میری تحریروں کی وجہ سے سیاست دان اگرحکومت کے وزیر ہوتے تو عموماََ خفا یا کھچے کھچے رہتے۔ اپوزیشن کا حصہ بن جانے کے بعد مگر ان ہی کی نگاہ میں صوفی منش حق گو شمار ہونا شروع ہوجاتا۔ تین سے زیادہ دہائیوں تک گزاری یہ زندگی اب رائیگاں کا سفر محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ صبح اٹھتے ہی قلم اٹھالینے کے بعد لکھنے کی میز پر بیٹھے موضوع اور اس کا ابتدائیہ طے کرنے میں بہت وقت صرف ہوجاتا ہے۔ ابتدائی فقرے لکھ لینے کے بعدبھی کئی بار ہاتھ روک کر خود کو تسلی دینا لازمی ہے کہ ’’اس گلی‘‘ میں تو نہیں گھس گیا جہاں جانے سے بقول غالب دین ودل عزیز رکھنے والے کو گریز کرنا چاہیے۔
انجانے خوف سے مائوف ہوئے ذہن کو تسلی دینے کے بجائے مزید گھبرانے کے لئے چند دن قبل دو وفاقی وزراء اور ایک وزیر مملکت نے طولانی پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ صاحب اس کے دوران بارہا یاد دلاتے رہے کہ ہر ملک کی صحافت کے لئے وہاں کے آئین اور قانون کا احترام لازمی ہے۔ آزادی اظہار کسی معاشرے کی اجتماعی ثقافت بھی نظرانداز نہیں کرسکتی۔ اس ضمن میں تارڑ صاحب نے جو مثال دی مجھ بے وقوف کو بے تکی سنائی دی۔ انہوں نے فرمایا کہ یورپ کے کئی ممالک میں شہریوں کو بے لباس گھومنے کی آزادی ہے۔ پاکستان میں لیکن یہ عمل معاشرے کیلئے مخرب اخلاق ہی نہیں بلکہ غیر قانونی بھی شمار ہوگا۔ ان کا فرمان سنتے ہی مجھے بے شمار یورپی ممالک یاد آگئے جہاں پیشہ وارانہ تقاضوں کی بدولت بارہا جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ دس سے زیادہ ممالک میں ان کی حکومتوں کی دعوت پر دارلحکومتوں کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی اوسطاََ 12سے 15دنوں تک قیام کیا۔ سرکاری ملاقاتوں سے فارغ ہوجانے کے بعد رات گئے تک ان شہروں میں اپنے تئیں آوارہ گردی میں بھی مصروف رہتا۔ جتنے بھی سفر کئے ان کے دوران کسی بھی جگہ بے لباس افراد نظر نہیں آئے۔ چند ساحلی مقامات کا ذکر ضرور سنا جو لباس کے بغیر ریت پر لیٹنے اور چلنے والوں کیلئے مختص تھے۔ وہاں جانے کو دل مگر کبھی مائل نہ ہوا۔ پاکستان اور بھارت کے اکثر شہروں میں البتہ ’’الف‘‘ ہوئے ’’سائیں‘‘ بازاروں میں گھوتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس انہیں گرفتار کرنے میں دلچسپی نہیں لیتی۔
لفظِ بے لباس کی یاد نے موضوع سے بھٹکادیا ہے۔ معافی کی درخواست کے بعد اعتراف کرنا ہے کہ جس پریس کانفرنس کا ذکر ہورہا ہے اسے کمرے میں اکیلے بیٹھ کر غور سے سننے کے بعد میں دن میں ایک دوبار سرہانے رکھی کتابوں کی میز سے آئینِ پاکستان اٹھاکر اس کا آرٹیکل 19نہایت غور سے پڑھتا ہوں۔ ’’آزادی￿ اظہار وغیرہ‘‘ اس کا عنوان ہے۔ ’’فریڈم آف سپیچ‘‘ کے ساتھ انگریزی لفظ-Etc(وغیرہ وغیرہ)- کا استعمال بذاتہی اشرافیہ کے رعونت بھرے ذہن کی عکاسی ہے جو ’’آزادی ا ظہار‘‘ کے ساتھ ’’وغیرہ‘‘ کا لاحقہ لگاکر اسے فروعی معاملہ ٹھہرادیتی ہے۔ صحافت کی آزادی کا ذکر کرتے ہوئے مذکورہ آرٹیکل یاد دلاتا ہے کہ صحافی کو کچھ لکھتے ہوئے ان معقول (Reasonable) محدودات/ قیود (Restrictions) کا احترام کرنا ہوگا جو عظمت اسلام یا پاکستان کے دفاع، تحفظ اور وحدت‘‘ یقینی بنانے کے لئے متعارف کروائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ صحافت کو پاکستان کے ’’دوست ممالک‘‘ کے ساتھ رشتے کمزور کرنے کے لئے بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
2008ء کے برس جنرل مشرف کی ایوان صدر سے رخصتی کے بعد ہمارے سیاستدان آئین کی ’’اصل شکل اور روح‘‘بحال کرنے کوبے قرار نظر آئے۔ ان دنوں کی پارلیمان میں موجودتمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک بھاری بھر کم کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ میرے قابل احترام دوست رضا ربانی اس کے سربراہ تھے۔ مذکورہ کمیٹی نے تقریباََ دو برس کے مسلسل غوروخوض کے بعد آئین میں 18ویں ترمیم متعارف کروائی۔ اس کی بدولت آئین کی شق 19کے اصل مسودے پر نظر ثانی نہیں ہوئی۔ 19-Aکے عنوان سے البتہ ایک ترمیم متعارف کروادی گئی جس نے ’’ہر شہری (فقط صحافی نہیں) کو یہ حق دیا کہ وہ عوامی مفاد کے کسی بھی معاملے پر قانونی حدودو قیود کا احترام کرتے ہوئے رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
یہ کالم لکھنے سے قبل اتوار کی رات آئین کے آرٹیکل 19کو ایک بار پھر غور سے پڑھا ہے۔ اسے پڑھنے کی وجہ آبنائے ہرمز کی مبینہ بندش تھی۔ ’’مبینہ‘‘ کا لفظ دانستہ طورپر استعمال کیا کیونکہ عالمی سطح پر مستند گردانی کئی خبر رساں ایجنسیاں اور نشریاتی ادارے یہ دعویٰ کررہے ہیں مشرق وسطیٰ سے تیل لاد کر ایران کے ساحل کے عین قریب واقع یہ آبنائے کاملاََ بند نہیں ہے۔ چین وہاں سے اپنی ضرورت کا تیل بدستور حاصل کررہا ہے۔ بنگلہ دیش تیل لے جانے والے ایک جہاز کو بھی وہاں سے گزرنے کی اجازت مل گئی۔ بھارت کی جانب سے بھی دو بحری جہاز وہاں سے گزارنے کا دعویٰ ہوا ہے۔ جو دعوے ہوئے ان کے تناظر میں ہفتے کی رات ایک ذمہ دار سرکاری افسر سے مجھے یہ اطلاع ملی کہ پاکستان کیلئے تیل لانے والا ایک جہاز بھی حال ہی میں اسی آبنائے سے گزرکر ہماری بندرگاہ پر لنگر انداز ہوچکا ہے۔ غالباََ اس کی آمد نے حکومتِ پاکستان کو یہ حوصلہ بخشا کہ پٹرول کے ایک لیٹر کی قیمت پر نظرثانی کرتے ہوئے گزرے جمعہ کی شام مزیداضافے کا اعلان نہ کرے۔
آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان آمد ہر حوالے سے وسیع تر عوامی مفاد میں ہے۔ تین سے زیادہ دہائیاں صحافت کی نذر کردینے کے باوجود مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کس وزیر یا محکمے سے یہ جاننے کے لئے رجوع کروں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ’’مکمل بندش‘‘ کے باوجود پاکستان کے لئے مذکورہ آبنائے سے تیل یا گیس لانے والے جہاز گزرسکتے ہیں یا نہیں۔ اگر مطلوبہ سہولت میسر ہے تو پٹرولیم مصنوعات کی قلت کا خوف اپنے اذہان پر کیوں طاری کریں۔ آبنائے ہرمز کا پاکستان سے تجارت کے لئے کھلارہنا اگرچہ خام تیل کی قیمت کو قابل برداشت بنانے کا یقین نہیں دلاتا۔ دنیا کی قابل بھروسہ سات کے قریب انشورنس کمپنیاں آبنائے ہرمز سے گزرتے جہازوں کا بیمہ کرنے سے انکاری ہیں۔ ان کے انکار کی وجہ سے ہم مشرق وسطیٰ کے برادر ممالک سے اپنی ضرورت کا خام تیل فقط ان جہازوں کے ذریعے ہی حاصل کرسکتے ہیں جو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی ملکیت ہیں اور ہمیں ہرگز خبر نہیں کہ پی این ایس سی کے پاس کتنے جہاز ہیں جو تیل برداری کے کام آسکتے ہیں اور ان کی اس ضمن میں اجتماعی صلاحیت کیا ہے۔ جاہلانہ تکا لگاتے ہوئے اگرچہ مجھے خدشہ لاحق ہے کہ فقط سرکاری جہاز وں کے ذریعے ہی پاکستان اپنی ضرورت کا خام تیل،گیس اور دیگر پٹرولیم مصنوعات تسلی بخش مقدار میں حاصل نہیں کرسکتا۔ غیر ملکی اور غیر سرکاری شپنگ کمپنیوں سے اس کے لئے رجوع کرنا لازمی ہے۔ اپنے ذہن میں اٹھے سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لئے مجھے آئین کے آرٹیکل 19-Aکے تحت پاکستان کے فراخ دل اور جمہوریت نواز سیاستدانوں کی جانب سے اجتماعی طورپر عطا فرمائے حق کو استعمال کرنا چاہیے۔ خدارا میری رہ نمائی فرمائیں کہ آبنائے ہرمز سے پاکستان آنے والے تیل کے حوالے سے ٹھوس حقائق پر مبنی تفصیلات میں کیسے جمع کرنے کے بعد قارئین تک پہنچاسکتا ہوں۔

Back to top button