آئینی ترمیم کا بل کل پیش ہوگا،حکومتی ترجمان بیرسٹرعقیل کی تصدیق

حکومت لیگل ریفارمز سےمتعلق آئینی ترمیم کابل کل پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، مشیر وزارت قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نےتصدیق کردی۔
بیرسٹر عقیل ملک کانجی ٹی وی سےگفتگو میں کہنا تھاکہ ججوں کی عمر سے متعلق پوائنٹ زیرِغور ہے۔اطلاق تمام ججوں کی عمرپرہوگا۔آئینی ترمیم کسی فردِ واحد کےلیےنہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نےدعویٰ کیا کہ حکومت کےپاس قومی اسمبلی میں نمبرز پورے ہیں۔لیگل ریفارمز سےمتعلق مثبت سوچ سے آگے بڑھرہےہیں۔پہلے بھی کئی بار آئینی ترامیم لائی گئی ہیں۔آئندہ بھی لائی جائیں گی۔لاریفارم اور لیگل ریفارم سے متعلق مسودہ تیار کیا ہے۔جوڈیشل اصلاحات سےمتعلق مثبت سوچ کے ساتھ حکومت کام کررہی ہے۔
مشیر وزارتِ قانون و انصاف نےکہا کہ تین چارآپشن حتمی شکل میں ہیں۔کون سے آپشن حکومت نےمتعارف کروانے ہیں یہ فائنل نہیں کیا، آئینی ترمیم کسی فرد واحد کےلیے نہیں۔ہمارے پاس قومی اسمبلی میں نمبرز پورے ہیں۔سینیٹ اور اراکین قومی اسمبلی نےہی ووٹ دیناہے۔اپوزیشن نوٹ کرےگی کون کون ووٹ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر نمبرز پورے نہیں تو آپ کے سامنے آجائے گا۔انتظار کریں اور دیکھیں،حکومت کی نیت صاف ہے۔حکومت صاف نیت سے لیگل اور جوڈیشل ریفارمز پر کام کر رہی ہے۔
متنازعہ ایکس پوسٹ،عمران خان کیخلاف بغاوت پراکسانے کامقدمہ درج
بیرسٹر عقیل ملک نےکہا کہ مولانا فضل الرحمان نےبھی کہاہےچیف جسٹس کی تعیناتی کیلئےصرف سنیارٹی کو نہیں دیکھنا چاہیے، تمام ججز کی ملازمت کی عمر میں اضافہ ہوگا۔حکومت ماورائے آئین ترمیم نہیں لائے گی۔لیگل ریفارمز سے متعلق جوڈیشل ریفامرز پر بھی کام ہو رہا ہے، سپریم کورٹ نےاپنےفیصلے میں41 ارکان کو آزاد قراردیا ہے۔
