دو درجن افراد کی موت کے بعد ریسکیو آپریشن کس کام کا؟

مری میں دو درجن کے قریب سیاحوں کی المناک ہلاکت کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا حکومت ساری رات سو رہی تھی اور اس انتظار میں تھی کہ تفریح کی غرض سے مری اور گلیات میں پہنچے ہوئے لوگ موت کا شکار ہو جائیں تو ان کی لاشوں کو نکالنے کے لئے ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی بھی مہذب ملک میں کبھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا کیونکہ وہاں پر حکومتیں سوتی نہیں ہے بلکہ جاگ رہی ہوتی ہیں۔ انکامزیدکہنا ہے کہ اس المناک سانحے کی ذمے دار موجودہ حکومت ہے لہذا اسے فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہیے۔

دوسری جانب مری کی فضا سوگوار ہے جہاں خوشیاں منانے کی خاطر پہنچنے والوں کی لاشیں گاڑیوں سے نکالی جا رہی ہے۔ مری میں شدید برفباری کے بعد سڑکوں پر درخت اور بجلی کے کھمبے گرے ہوئے ہیں اور لوگ جگہ جگہ کھڑی گاڑیوں کے شیشوں پر دستک دے کر ان کی خیریت پوچھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب انہیں جواب نہیں ملتا تو وہ گاڑیوں کو کھول کر اندر موجود افراد کو طبی امداد دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اب تک کی اطلاعات کے مطابق 7 اور 8 جنوری کی رات شدید برفباری نے پھنسی گاڑیوں میں سوار دو درجن کے قریب لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔ یہ موست شدید سردی اور دم گھٹنے کے باعث ہوئی ہیں۔ مری کی انتظامیہ، ریسکیو 1122 کے اہلکار اور مقامی افراد محصور مسافروں اور بے ہوش ہونے والوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس وقت مری میں شدید برفباری کی وجہ سے سیاح ٹریفک میں محصور ہیں جبکہ گاڑیوں میں طویل وقت تک بیٹھے رہنے، شیشوں کو بند کرنے اور ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے بہت سے سیاحوں کے بیہوش ہو جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور فواد چوہدری نے اس واقعے سے پہلے مری میں ایک لاکھ سے زیادہ گاڑیاں داخل ہونے کی خبر بذریعہ ٹوئٹ دیتے ہوئے اسے پاکستانیوں کی خوشحالی سے تعبیر کر کے اپنے نمبر تو ٹانگ لیے لیکن یہ نہیں سوچا کی اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کو شدید برف باری میں بچانا کیسا ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ کیا حکومت ساری رات اس لیے سوئی رہی کہ برفباری میں پھنسے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں تو ان کی لاشوں کو نکالنے کے لئے ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے۔

مری ایکسپریس وے کلیئر کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں

دوسری جانب وزیر داخلہ شیخ رشید نے برفباری میں اب تک 19 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن راستوں کی بندش کے باوجود سیاح اب بھی مری جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیخ رشید نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ مری میں ایک وقت میں صرف چار ہزار گاڑیوں کے داخلے کی گنجائش ہوتی ہے جبکہ وہاں ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں پہنچ گئیں۔ ان کی اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ مری میں ہونے والی اموات کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہے۔

اسوقت اسلام آباد سے مری روڈ کی جانب جانے والے مرکزی راستوں پر حکام کی جانب سے چیکنگ کی جا رہی ہے اور راستہ مکمل طور پر بند ہے لیکن مری جانے والے ٹول پلازہ پر اب بھی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی دکھائی دے رہی ہیں۔
مری کے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ابھی یہاں پر ٹریفک بہت زیادہ ہے اور کم از کم تین سو گاڑیاں سترہ میل ٹول پلازہ پر کھڑی ہیں جبکہ موٹروے پر جانے والے راستے میں پانچ سو کے قریب گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

شفیق کے مطابق کچھ لوگ رات تین بجے سے یہاں کھڑے ہیں اور کچھ صبح پانچ بجے سے یہاں کھڑے ہیں۔ شفیق کہتے ہیں کہ مری کے راستے بند ہو جانے کی اطلاعات کے باوجود بھارہ کہو کی مین مری روڈ پر بہت سے لوگ گزرتی ہوئی گاڑیوں کو ہاتھ دے کر یہ پوچھ رہے ہیں کہ مری جائیں گے۔ شفیق جو کہ مری کے رہائشی ہیں، ایک کچے راستے سے اپنے گھر جو گھوڑا گلی کے قریب ہے، پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ایک کار سوار خاتون ثانیہ نے بتایا کہ وہ اپنے خاوند اور بچوں کے ساتھ جمعے کی شب مری کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ ہم لوگ اس وقت جھیکا چوک سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ یہاں واش روم کے لیے لائن لگی ہوئی ہے اور سڑک پر دور دور تک صرف گاڑیاں پھنسی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ ہم صبح بچوں کو تھوڑی سی واک کر کے ناشتہ کرانے لے گئے لیکن اب پتا چلا ہے کہ گیس بھی کم ہو چکی ہے۔ راستے میں پھسلن کی وجہ سے نہ گاڑی نکل سکتی ہے اور نہ ہی اب ہم لوگ کہیں نکل سکتے ہیں۔
ریحان جو جمعے کی شب اپنے آبائی علاقے بیروٹ جا رہے تھے، کا کہنا ہے کہ وہ کل شام چھ بجے سے برف میں پھنسے ہوئے ہیں۔ میں ابھی تک برف میں پھسا ہوا ہوں۔ لوگوں کی گاڑیوں میں ایندھن ختم ہو چکا ہے۔ انتہائی سردی ہے۔ میں نے اپنی گاڑی میں اس طرح وقت گزارا ہے۔ جیسے بس یہ سمجھ لیں کہ میں برف کی قبر میں دھنسا ہوا ہوں۔ قسمت تھی کہ بچ گیا ہوں۔

مری کے رہائشی مہتاب کہتے ہیں کہ میں نے اپنی پوری زندگی میں برفباری کے دوران ایسی صورتحال نہیں دیکھی۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت وہ سنی بینک میں مرکزی شاہراہ پر موجود ہیں جبکہ ان کی گاڑی گذشتہ روز سے گلڈنہ سے دو کلومیٹر پیچھے پھنسی ہوئی ہے۔ مہتاب نے بتایا کہ رات کو تو انتظامیہ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن اب امدادی اداروں کے اہلکار پیدل جا کر گاڑیوں میں محصور سیاحوں کی مدد کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو رات کو ہی ریسکیو آپریشن شروع کر دینا چاہئے تھا تاکہ لوگوں کی جان بچائی جا سکتیں۔ اب تو صرف گاڑیوں سے لاشیں نکالی جا رہی ہیں اور اسے ریسکیو آپریشن کا نام دیا جا رہا ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں شریک ایک مقامی شخص نے بتایا کہ مقامی لوگوں نے اپنے گھروں میں سیاحوں کو جگہ دی ہے جبکہ ہوٹلوں میں بھی لوگوں کو رہائش دی جا رہی ہے اس کے علاوہ دختران اسلام نامی اکیڈمی میں بھی سیاحوں کو رہائش دی گئی ہے۔ مقامی صحافی زبیر خان کے مطابق مری روڈ پر امدادی کاموں میں شریک لوگ اب بھی گاڑیاں پر دستک دے کر چیک کر رہے ہیں کہ ان میں موجود لوگ زندہ ہیں یا گزر گئے لہٰذا ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

امدادی کاموں میں شریک اور ایک شخص محسن کا کہنا ہے کہ ہمیں تو لگتا ہے کہ جو صورتحال بتائی جا رہی ہے، حقیقت اس سے زیادہ بری ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سے امدادی کارکناں مصروف عمل ہیں اور مقامی لوگ بھی مصروف ہیں مگر یہ سرگرمیاں بہت کم ہیں۔ ہمیں امدادی سرگرمیوں میں انتہائی تیزی پیدا کرنا ہو گی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں برف پڑنے سے پہلے تنبیہ جاری کی جاتی ہے کہ اس علاقے میں موسم کبھی بھی خراب ہوسکتا ہے اس لیے گھر میں رہیں لیکن مری میں الرٹ جاری کرنے میں بہت دیر کر دی گئی۔ اس بارے میں ماہر ماحولیات توفیق پاشا معراج نے بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا کہ برفباری کی صورت میں انتظامیہ کو سب سے پہلے مری جانے والی سڑکیں بند کرنی چاہیے تھیں۔ وہ اس حوالے سے چند احتیاطی تدابیر بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے برفباری میں پھنسے سیاح مزید نقصان سے بچ سکتے ہیں: جو لوگ گاڑیوں میں اپنے بچوں یا گھر والوں کے ساتھ بند ہیں وہ مدد آنے تک اپنی گاڑی کا پیٹرول یا ڈیزل بچانے کے لیے اسے بند کر دیں۔ گاڑی کو کسی کی مدد سے سڑک کے کنارے پر پارک کریں نہ کہ بیچ راستے میں، ٹائر پر لوہے کی زنجیر لگا دیں اور ہو سکے تو گاڑی کو گرم رکھنے کے لیے ہیٹر نہ چلائیں۔ لوگ بھری گاڑی میں بھی ہیٹر چلا دیتے ہیں جس سے گاڑی میں گھٹن ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک گاڑی میں دو سے تین لوگ ہیں تو ویسے ہی انسانی جان کی گرمی سے گاڑی اندر سے گرم ہی رہے گی۔ کسی بھی صورت اپنی گاڑی کو چھوڑ کر پیدل نہ نکلیں کیونکہ آپ جہاں کھڑے ہیں اس سے آگے موسم کی کیا صورتحال ہے اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔ سڑک پر تنہا پھنسے سے گاڑی کے اندر بیٹھنا قدرے بہتر ہے۔

Back to top button