وفاقی حکومت کا آج ہر صورت آئینی ترمیم پاس کروانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے آج ہر صورت 26 آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا۔ اتحادی حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے ترمیم کی حمایت نہ کرنے کی صورت میں پلان بی بھی تیار کر لیا ہے
دوسری جانبآئینی ترمیم کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس کئی بار ملتوی کرنے کے بعد اب آج ڈھائی بجے طلب کرلیا گیا ہے جس میں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری دی جائے گی۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے ہوگا، اجلاس میں کابینہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں آئینی ترامیم کے بل کی منظوری دیے جانے کا امکان تھا۔
کابینہ اجلاس میں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے تمام وزرا پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے چیمبر میں موجود تھے، جبکہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے طویل ملاقات اور میڈیا سے گفتگو کے بعد کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعظم کے پارلیمنٹ چیمبر میں پہنچے۔
تاہم وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری نہ دی جاسکی، اجلاس کے دوران وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ ق، استحکام پاکستان پارٹی سمیت کابینہ کے ارکان کو 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس شروع ہوا، مسلم لیگ (ن) سینیٹر عرفاق صدیقی نے وفقہ سوالات مؤخر کرنے کی تحریک پیش کی جو منظور کرلی گئی۔
گزشتہ روز سینیٹ اجلاس رات 11 بجے شروع ہونے کے بعد ملتوی کردیا گیا تھا، سینیٹ اجلاس آج ساڑھے بارہ بجائے کہ بجائے سہ پہر تین بجے ہوگا، سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں آئینی ترمیم شامل نہیں کی گئی۔
آئینی ترمیم کے معاملے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں گذشتہ روز بار بار تبدیلی کی گئی، پہلے اجلاس رات سات بجے بلایا گیا۔ پھر اجلاس کا وقت ساڑھے نو بجے کیا گیا۔ بعد میں اجلاس رات گئے شروع ہوا۔
کئی گھنٹوں کی تاخیر کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت رات گئے شروع ہوا جو بغیر کسی کارروائی کے دوبارہ ملتوی کردیا گیا اور آج شام 6 بجے طلب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ترجمان قومی اسمبلی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کیلئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کے پیش نظر قومی اسمبلی کے اجلاس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، صرف میڈیا کے ان نمائندوں کو پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت ہو گی جن کو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف میڈیا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے فل سیشن پریس گیلری کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ون ڈے پریس گیلری کارڈ جاری کرنے پر سختی کی گئی ہے، آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے لیے ون ڈے پریس گیلری کارڈ جاری نہیں کیے جائیں گے، پارلیمنٹ کے گیٹ نمبر ایک پر کوریج کرنے والے کیمرہ مینوں کی انٹری مرتب کردہ لسٹ کے ذریعے ہو گی۔
ترجمان قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی وجوہات کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے تمام صحافی حضرات سے گزارش ہے اپنا پریس گیلری کارڈ ہمراہ رکھیں۔
