نئے صوبے بنانے کا فیصلہ ہو گیا، کیا پاکستان ٹوٹ جائے گا ؟

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ طاقتور فیصلہ سازوں نے پاکستان کو کئی نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے لیکن انکے مطابق یہ قدم وفاق کے لئے زہر قاتل ثابت ہو گا اور اسکے نتائج ملک کو توڑنے اور اسکے حصے بخرے کرنے پر منتج ہونگے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کی تیاری تو بہت عرصے سے کی جارہی تھی مگر اب کھچڑی تیار ہے۔ بوتل سے جن باہر آنے ہی والا ہے۔ اہل حَکم اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر نئے صوبے نہیں بنتے تویہ ملک چل ہی نہیں سکتا۔ فوج میں یہ سوچ گزشتہ کئی برسوں کی بحث و تمحیص کے بعد پیدا ہوئی۔ نون ابھی ہاں اور ناں دونوں کے درمیان ہے جبکہ پیپلز پارٹی فی الحال اس تجویز کو نقصان دہ سمجھتی ہے۔ اہل حکم نئے صوبےبنانےکو اختیارات کے ارتکاز اور فنڈز کے نیچے تک پہنچنے کیلئے اکسیراعظم یعنی فائدہ مند سمجھتے ہیں جبکہ اس کے مخالف نئے صوبوں کی تشکیل کو ملک توڑنے کی پہلی آئینی سیڑھی قرار دیتے ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق نئے صوبے بنانے کے حامی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کا واحد راستہ نئے صوبوں کی تشکیل ہی سمجھتے ہیں۔ انکے خیال میں صوبے خود اور انکے وزیر اعلیٰ اس منصوبے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں سارا بجٹ وزیر اعلیٰ کی ذاتی صوابدید پر ہوتا ہے اور سارے اختیارات بھی اسی کے ماتحت ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ خاندانی وراثتوں اور بڑے خاندانوں کی چاندی ہے مالی وسائل بھی انکے پاس ہیں، سیاست بھی انکے گھر کی باندی ہے اور اختیارات بھی ان ہی کے چلتے ہیں۔
فیصلہ سازوں کے خیال میں اس ملک میں مڈل کلاس لیڈر شپ تبھی اوپر آ سکتی ہے جب اقتدار کے چار بڑے مرکز یعنی صوبے تقسیم ہوں اور انکی جگہ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز صوبے بنائے جائیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ڈویژنل کمشنر نئے صوبوں کے چیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی وہاں کے آئی جی بن جائیں جبکہ انکا منتخب نمائندہ بطور وزیر اعلیٰ انکا سربراہ ہو۔ اس فارمولے سے نئی قیادت ابھرے گی، لیڈر شپ کو تجربہ ملے گا، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہوگی اور یوں تاریخ میں پہلی بار ملک بھر میں یکساں ترقی ہوسکے گی۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ تخت لاہور یا تخت پشاور اور تخت کراچی کے علاوہ چھوٹے شہروں میں بھی ترقی کے ثمرات پہنچیں گے۔ ریاست اور صوبے کا کنٹرول موثر ہو جائے گا اور سیاست میں قومی سطح پر بھیڑ چال کا خاتمہ ہو گا۔ مقامی مسائل کو حل کرنے پر توجہ زیادہ ہوگی اور سیاست بازی میں وقت ضائع کرنے سے توجہ ہٹے گی۔ انکے مطابق نون میں کچھ لوگ اس آئیڈیا کے حامی ہیں جبکہ باقی متذبذب ہیں کہ پنجاب تقسیم ہوگیا تو نون لیگ کی سیاسی طاقت ختم ہوجائے گی۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی پنجاب کی تقسیم کی تو حامی ہے مگر دیگر صوبوں کی تقسیم کے خلاف ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق اب پیپلز پارٹی کی قیادت کو سمجھایا گیا ہے کہ نئے صوبے لسانی اور مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر تقسیم ہونگے اور پیپلز پارٹی کو اضافی طور پرپنجاب میں دوصوبوں کی وزارت اعلیٰ بھی مل سکتی ہے۔ آخری خبریں آنے تک پیپلز پارٹی کے تحفظات برقرار ہیں۔ سینئیر صحافی کے مطابق نئے صوبے بنانے کے مخالف اس تجویز کو ملک کے لئے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔ انکے خیال میں نئے صوبے بنانے کی سوچ رکھنے والے حکمران صاف نیت اور اچھے ارادے رکھنے کے باوجود اسکے کی تباہی کا باعث بنیں گے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ روسی صدر میخائل گورباچوف نے جب سوویت یونین میں شفافیت پر مبنی اصلاحات شروع کیں تو دنیا بھر میں انہیں سراہا گیا مگر ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوویت یونین جیسی عظیم طاقت ٹوٹ گئی۔ کام تو اصلاح اور شفافیت کا شروع کیا ہوا تھا لیکن اسکا نتیجہ انہدام کی صورت میں نکلا۔ نئے صوبوں کے مخالف اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح پر منتقلی کے آئیڈیا سے اتفاق کرتے ہوئے نئے صوبے بنائے بغیر اختیارات کو ضلعی سطح پر منتقل کرنے کی دلیل دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی دنیا میں انفرادی حیثیت ہے۔ باقی ریاستوں میں ملکوں نے صوبے بنائے ہیں جبکہ ہمارے ملک کو صوبوں نے مل کر بنایا ہے اور خدا کی طرف سے ایسی تقسیم ہے کہ فیڈریشن میں توازن قائم ہے۔
نئے صوبوں کے مخالفین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگر کراچی ڈویژن کو صوبہ بنادیاجاتا ہے اور کل کلاں کو پھر الطاف حسین کے حامی جناح پور کی سٹی سٹیٹ بنانے کی کوشش کریں تو انہیں متوازن کرنے والی کوئی طاقت نہیں ہوگی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ دیہی سندھ میں اگر پیپلز پارٹی ہار گئی اور جئے سندھ جیت گئی تو سندھو دیش بنانا انکے لئے تو مشکل نہ ہو گا۔ صوبے میں اکثریت حاصل کرکے وہ قراردادپاس کرکے ملک آزاد کرسکتے ہیں۔ یہی دلیل بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کے لئے دی جاتی ہے کہ وہاں تو پہلے ہی امن وامان بہت خراب ہے انکو نیا صوبہ مل گیا تو آزاد بلوچستان کی راہ ہموار ہوگی۔ پنجاب کی تقسیم پر بھی بالخصوص صوبے کے بائیں بازو اور پنجابی شاؤنزم کے حامیوں کے شدید تحفظات ہیں وہ سندھ اور پنجاب کی تقسیم کو تاریخ اور ثقافت کا قتل قرار دیتے ہیں۔
یعنی اس معاملے پر دو متضاد نقطہ ہائے نظرہیں۔ اہل حکم انتظامی بیماریوں کی دوا یعنی اکسیر اعظم نئے صوبوں کی تشکیل کو سمجھتے ہیں جبکہ دوسری طرف اختلاف کرنے والے نئے صوبوں کو ایک نیا پواڑا یا زہر سمجھتے ہیں جس سے ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہوجائیں گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق ایک تیسری رائے بھی موجود ہے کہ جنرل مشرف کا بلدیاتی نظام لا کر نئے صوبے بنانے کی بجائے اضلاع کو صوبوں جیسے اختیار دیدیے جائیں۔ لیکن اس نظام پر اعتراض کرنے والوں کے نزدیک ضلع چھوٹا یونٹ ہے لہذا بہتر ہوگا کہ ڈویژن کو انتظامی تقسیم کی بنیاد بنایا جائے۔ انکے مطابق ڈویژن کو ایسے باصلاحیت افسروں، انجینئروں اور معاشی ماہرین کی ضرورت ہوگی جس سے کہیں بھی احساس محرومی نہ ہو اور سارے انتظامی یونٹ مساوی طور پر ترقی کرسکیں۔
سینیئر صحافی کے مطابق پیپلز پارٹی کو تیار کیا جارہا ہے کہ اگر ایک طرف وہ کراچی کو کھوتے ہیں تو پنجاب سے دو صوبے انہیں مل سکتے ہیں۔ تاحال پیپلز پارٹی کسی بھی صورت کراچی کو سندھ سے الگ کرنے پر تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ پر تو بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن سندھ میں نئے صوبے بنانے پر بالکل تیار نہیں۔ لیکن اہل حکم کے خیال میں کراچی کو الگ صوبہ بنانا یا وفاقی علاقہ بنانے سے وہاں رکی ہوئی ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ اہل حکم سے اختلاف کرنے والے متنبہ کرتے ہیں کہ صدیوں کے طے شدہ نظام کو توڑنے سے گورباچوف جیسی تباہی ہو سکتی ہے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک تکثیری ملک ہے جہاں مختلف قومیں مذاہب اور لسانی گروپ رہتے ہیں اور اتفاق سے اس وقت انہوں نے ایک دوسرے کو متوازن کر رکھا ہے۔
بھارت سے معاہدے کے بعد UAE پاکستانی ائیرپورٹ کی نجکاری سے آؤٹ
سندھ میں اردو بولنے والوں کو سندھی بولنے والوں نے متوازن کیا ہوا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون کا لسانی توازن ہے جس سے ملک مضبوط ہے۔ پختون خوا میں ہزارہ اور پشتون بیلٹ کا توازن ہے۔ پنجاب میں سرائیکی اور پنجابی ایک دوسرے کو متوازن کرتے ہیں۔ اس رائے کے حامی کہتے ہیں کہ اس قدرتی توازن کو چھیڑا گیا تو پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ سہیل وڑائچ کے مطابق فی الحال پنجاب میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے کوئی بڑا اختلاف نہیں لیکن 300 سال سے موجود خطہ پنجاب تقسیم ہوا تو اسکے سیاسی، نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہونگے۔ پنجاب کی طاقت اور بالا دستی دودھاری تلوار ہے۔ اگر اسکی بالادستی کی وجہ سے چھوٹے صوبوں کی طرف سے استحصال کا الزام لگتا ہے تو پنجاب کی قوت ہی نے ملک کو یکجا رکھا ہوا ہے۔ پنجاب کے اندر بھی اب ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو سندھ کی طرح پنجاب کو بھی ناقابل تقسیم تاریخی اکائی سمجھتی ہیں۔
لہٰذا سب تیار رہیں، نئے صوبوں کا معاملہ منظر عام پر آنے والا ہے۔
