افغان سٹیزنز کی فوری بےدخلی کا فیصلہ بنوں حملے کے بعد کیا گیا

پاکستان کی جانب سے افغان سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والے افغان تارکینِ وطن کو پاکستان چھوڑنے کے لیے 31 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دینے کا فیصلہ اس انکشاف کے بعد ہوا کہ 4 مارچ کو بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے افغان شہری بھی شامل تھے جنہوں نے امریکی ساخت کا اسلحہ استعمال کیا۔ اس سے پہلے صرف افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی لیکن اب افغان سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والوں کو بھی پاکستان چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا گیا ہے۔
بنوں حملے میں ملوث 16 دہشت گردوں میں سے چھ افغان تھے جنہوں نے جہنم رسید ہونے سے پہلے درجن بھر سے زائد معصوم شہریوں کی جانیں لیں۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کی لاشوں کی شناخت کے عمل کے دوران ثابت ہو گیا ہے کہ حملے میں افغان شہری بھی ملوث تھے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود خوارج نے کی تھی۔ یاد رہے کہ افغان شہریوں کو 31 مارچ تک پاکستان چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دینے کا فیصلہ افغان وزارت برائے مہاجرین کی اس درخواست کے باوجود سامنے آیا ہے جس میں پاکستان سے مہاجرین کی بیدخلی کے عمل کو سست کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پاکستان نے اکتوبر 2023 میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا جسکے تحت ہزاروں افغانوں کو واپس ان کے ملک بھجوایا جا چکا ہے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب ملک میں طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے مطابق پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ اسلام آباد اسکا الزام افغانستان سے آپریٹ کرنے والے طالبان پر لگا رہا ہے۔ بنوں حملے کے دو روز بعد پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغان سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والے بھی 31 مارچ تک ملک چھوڑ دیں ورنہ یکم اپریل سے اُن کی ملک بدری کا عمل شروع ہو جائے گا۔
اس فیصلے سے پاکستان میں مقیم 9 لاکھ افغان مہاجرین متاثر ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بدری مہم شروع ہونے سے لے کر اب تک آٹھ لاکھ 42 ہزار سے زیادہ افغان باشندے پاکستان چھوڑ چکے ہیں جن میں 40 ہزار سے زائد کو ڈی پورٹ کیا گیا۔پاکستانی وزارتِ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کی اُن کے ملک باوقار واپسی کے لیے پہلے ہی کافی وقت دیا جا چکا ہے۔ جنوری 2025 وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے افغان سٹیزن شپ کارڈ ہولڈرز کو وطن واپس بھیجنے کے منصوبے کی منظوری دی تھی لیکن اس پر عمل درآمد کی تاریخ نہیں بتائی تھی۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق 2025 کے آغاز سے پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی گرفتاریوں اور حراست میں لینے کے واقعات میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، خصوصاً اسلام آباد میں غیر دستاویزی اور سٹیزن شپ کارڈ رکھنے والے افغان باشندوں کی گرفتاریوں میں گزشتہ برس کی نسبت 45 گنا اضافہ ہوا۔ یہ رجحان وزیر داخلہ محسن نقوی کے نومبر 2024 کے حکم کے بعد سامنے آیا تھا جس میں افغان باشندوں سے سال کے آخر تک اسلام آباد اور اس کے پڑوسی شہر راولپنڈی سے نکل جانے کا کہا گیا تھا۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ میں پاکستان بھر سے 2600 سے زائد افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق ان میں 2300 غیر دستاویزی یا افغان سٹیزن شپ کارڈ ہولڈر تھے۔ 1200 کو اسلام آباد اور قرب و جوار سے گرفتار کیا گیا۔
پی ٹی آئی مولانا کو اپنے ساتھ ملانے میں ناکام کیوں ہو رہی ہے؟
جنوری میں پاکستان نے ایک ہزار افغان باشندوں کو ملک بدر کیا۔ ان میں 800 سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنہیں اسلام آباد اور راولپنڈی سے تحویل میں لیا گیا تھا۔ افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کرنے کے خلاف سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بنائی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اس صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم غیر ملکیوں بشمول افغانوں کو نکالنے کا بنیادی مقصد پاکستانی شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنانا ہے۔
