انصاف کے دروازے بند نہ کیے جائیں، پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا انکار، خصوصاً کمزور اور محروم طبقات کے معاملات میں، اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے، جو نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو شدید متاثر کرتا ہے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جاری کیا، جس کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے، جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان شامل تھے۔ یہ فیصلہ 30 صفحات پر مشتمل ہے اور سیتا رام کی جیل اپیل کے تناظر میں دیا گیا، جسے عمرکوٹ میں قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

پنجاب اسمبلی: پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی پر حکومت و اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا

اطہر من اللہ نے فیصلے میں کہا کہ پولیس اسٹیشن کے انچارج کی جانب سے فوجداری قانون کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر درج نہ کرنا یا اس میں تاخیر کرنا قانونی اختیار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا “یہ رویہ صرف قانونی ذمہ داری کی ادائیگی سے انکار نہیں، بلکہ انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان ہے۔”

 

فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے رویے دراصل پولیس اسٹیٹ کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ ایک ایسی آئینی ریاست کی، جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس اگر طاقتور طبقے کے مفادات کی محافظ بن جائے، تو عام شہری اسے ریاست کے بجائے طاقتوروں کا آلہ کار سمجھنے لگتا ہے۔

عدالت نے سیتا رام کو مقدمے میں ناقابلِ حتمی شواہد اور طریقہ کار کی سنگین بے ضابطگیوں کے باعث بری کر دیا۔ فیصلے میں اسے "برف کی چوٹی” قرار دیا گیا جو پورے نظامِ انصاف کی خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

عدالت نے سندھ پولیس چیف اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار پر ملنے والے جواز — جیسے ثقافتی روایات، مدعی کی رضامندی، مصالحت، مذہبی عقائد یا طبی وجوہات — کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ یہ جواز قبائلی یا غیر جمہوری نظاموں میں تو دیے جا سکتے ہیں، لیکن ایک آئینی ریاست میں ان کی کوئی گنجائش نہیں۔

پنجاب اسمبلی: پی ٹی آئی ارکان کی نااہلی پر حکومت و اپوزیشن مذاکرات کا دوسرا دور آج ہوگا

 

عدالت نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں بلاجواز تاخیر سے نہ صرف متاثرہ فریق کے حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ ملزم بھی خطرے میں آ جاتا ہے، کیونکہ شواہد ضائع ہو سکتے ہیں یا جعلی مقدمات بنائے جا سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت دی کہ وہ ایسے ایس او پیز وضع کریں جن سے پولیس کے غیر ضروری تاخیر یا انکار کی روک تھام ممکن ہو۔
ساتھ ہی پراسیکیوٹر جنرلز کو مشورہ دیا گیا کہ وہ پولیس کو فوجداری قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کی تربیت دیں۔

عدالت نے آخر میں کہا کہ حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پولیس کو دباؤ کا آلہ نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ادارہ بنائے۔

Back to top button