8 فروری کے ناکام احتجاج سے PTI کی رہی سہی ساکھ بھی اڑ گئی

 

 

 

عوام نے 8 فروری کی احتجاج کی کال کو یکسر مسترد کرکے تحریک انصاف کے نام نہاد عوامی مقبولیت کے غبارے کو پنکچر کر دیا۔ بلند وبانگ دعوؤں کے ساتھ دی گئی ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر نہ صرف بازار کھلے رہے بلکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں نظر آئی تاہم اس ہڑتال کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ 8 فروری کو اپوزیشن قیادت منظر نامے سے مکمل طور پر غائب رہی۔ مبصرین کے مطابق 8 فروری کو پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے خلاف دیا گیا احتجاجی الٹی میٹم پی ٹی آئی کے سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ کئی ماہ کی تیاری اور بڑے دعوؤں کے باوجود یہ احتجاج نہ تو کوئی عوامی دباؤ پیدا کر سکا اور نہ ہی سیاسی نظام کو مفلوج کر پایا۔ ایسے میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ 8 فروری کی ناکام ہڑتال پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست، اس کے بیانیے اور مستقبل کے لیے کتنا سنگین دھچکا ثابت ہو سکتی ہے؟

خیال رہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی کال پر ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی تھی تاہم زیادہ تر علاقوں میں زندگی معمول کے مطابق جاری رہی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں احتجاج اور مظاہرے ہوئے، جن میں بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ تاہم پی ٹی آئی کے دعوؤں کے برعکس پشاور میں اکثر مارکیٹیں اور دکانیں کھلی رہیں اور ٹریفک کی روانی بھی بحال رہی۔ سرکاری ٹرانسپورٹ بی آر ٹی سروس بھی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

 

دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہی اور لوگ بسنت منانے میں مصروف رہے۔ کہیں بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج یا مظاہرے نہیں ہوئے۔ کراچی اور سندھ میں بھی زندگی معمول کے مطابق رہی۔ بازاروں میں رش بھی معمول کے مطابق رہا اور کسی بھی قسم کا احتجاج یا ہڑتال سامنے نہیں آئی۔ بلوچستان میں صورتحال کچھ مختلف رہی۔ کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں جزوی احتجاج دیکھنے کو ملا، جس کے دوران کچھ سڑکیں بند کی گئیں اور مظاہرین کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں  بھی کوئی احتجاج یا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اگرچہ حکومت نے میٹرو بس سروس بند کر رکھی تھی، مگر مارکیٹیں کھلی رہیں اور سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی برقرار رہی۔ تاہم 8فروری کے احتجاج کے دوران اپوزیشن قیادت مکمل طور پر منظر نامے سے غائب دکھائی دی اور صرف سوشل میڈیا پر بیانات جاری کرنے میں مصروف نظر آئی۔

مبصرین کے مطابق 8 فروری کی ناکام ہڑتال نے نہ صرف پی ٹی آئی کے احتجاجی اور مقبولیت کے بیانیے کا دھڑن تختہ کیا ہے بلکہ پارٹی کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کئی ماہ کی تیاری، بڑے دعوے اور احتجاج کے الٹی میٹم کے باوجود عوامی عدم دلچسپی اور قیادت کی غیر موجودگی نے پارٹی کے سیاسی اثر و رسوخ کو کمزور کر دیا ہے۔ سینئر صحافی نصرف جاوید کے مطابق نومبر 2024 میں اسلام آباد میں ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد پی ٹی آئی کا سیاسی مومینٹم کافی حد تک ختم ہو چکا ہے۔ تاہم 8 فروری کے احتجاج نے یہ واضح کر دیا کہ اب پارٹی کے پاس کارکنوں کو مکمل تحفظ دینے یا انہیں متحرک رکھنے کی صلاحیت بھی نہیں رہی۔ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز سوشل میڈیا پر تو متحرک نظر آتے ہیں تاہم عوامی حلقوں میں ان کی پذیرائی مفقود ہے، اسی وجہ سے پارٹی کارکن نہ تو پہلے کی طرح سڑکوں پر نکلے اور نہ ہی پہلے جیسا جذبہ دکھائی دیا کہ گرفتاری ہو بھی جائے تو اس کی پروا نہ کی جائے۔ نصرت جاوید کے مطابق 26 نومبر کا دھچکا ایسا تھا جس سے پارٹی آج تک سنبھل نہیں پائی۔ ویسے بھی موجودہ ملکی حالات میں احتجاجی سیاست کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ایسے میں پی ٹی آئی کو اپنی حکمتِ عملی پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

13 برس کے اقتدار کے باوجود PTI کی KP حکومت ناکام کیوں؟

بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق عوام آہستہ آہستہ احتجاجی سیاست سے دور ہو رہی ہے، جس پیمانے اور شدت کے احتجاج کی توقع کی جا رہی تھی، ویسی کوئی فضا بنتی نظر نہیں آئی۔ اگر پی ٹی آئی کے گزشتہ احتجاجات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عوام احتجاجی سیاست سے متنفر ہوچکے ہیں۔  اور خصوصا بسنت کے موقع پر زبردستی احتجاج کی کال، مارکیٹیں بند کرنے کے دعوے، اور سڑکوں پر ہڑتال عملی طور پر ناکام رہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عوامی عدم دلچسپی کی وجہ سے پی ٹی آئی کا مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے خیبرپختونخوا میں بھی احتجاج ناکام رہا۔ پشاور اور دیگر اضلاع میں دکانیں کھلی رہیں، گاڑیوں کی آمدورفت جاری رہی، جس پر کارکنان پارٹی قیادت اور ارکانِ پارلیمنٹ کے روئیے بارے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سخت تنقید کرتے نظر آئے۔

Back to top button