وفاقی حکومت کا آئینی عدالت کو فیڈرل کورٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ

سینیر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے آئینی عدالت بنانے کے بعد آگے بڑھتے ہوئے اسے ایک خود مختار فیڈرل کورٹ یا وفاقی عدالت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا سٹیٹس سپریم کورٹ سے اوپر کا ہو گا۔ انکے مطابق اس منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے اور جلد عمل درآمد بھی ہو جائے گا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ کسی خبر یا واقعہ کو سمجھانا ہو تو تجزیاتی کالم لکھا جاتا ہے، کبھی کوئی بہت ہی پسند آجائے تو غالب اور اقبال کی طرح قصیدہ بھی لکھا جاتا ہے، طنزو مزاح تو خیر کالموں کا لازمی مرچ مسالہ ہے، لیکن یہ سب تو فروعات ہیں، اصل بات تو ابلاغ ہے، اظہار کا کوئی بھی طریقہ اپنایا جائے مقصد تو بات کو عاموں تک پہنچانا ہے۔ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ ان کی اج کی تحریر صرف خبروں پر مبنی ہے۔
چنانچہ پہلی خبر دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہتے ہیں کہ اس وقت عدلیہ کے بارے میں سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے بنایا گیا آئینی بینچ ریاست اور حکومت کیلئے ایک سمجھوتہ تھا، دراصل چارٹر آف ڈیموکریسی کے مطابق موجودہ حکومت کی اصل خواہش ایک خود مختار فیڈرل کورٹ بنانے کی تھی لیکن وہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے ایسا نہ کر سکی، چنانچہ اب اسکا اگلا ہدف فیڈرل کورٹ کا قیام ہے جس کیلئے پس پردہ تیاری کی جا رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ عمل شروع ہو گا تو ایک نیا سیاسی بھونچال آجائے گا، حامی اور مخالف پھر سے آمنے سامنے آجائینگے، حکومت جیتے گی یا پھر سے مصلحت کا گھونگھٹ نکال لے گی، اس معاملے کا اس وقت ہی پتہ چل پائے گا۔
اس کے بعد سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ریاست نے پی آئی اے کی نج کاری کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیکر اسے تقریباً سلجھا دیا ہے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کی طرف سے پی آئی اے کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کی گئی تھی اور یو اے ای کی طرف سے کافی بڑی پیشکش بھی آئی ہے لیکن ریاستی اداروں نے صلاح مشورے کے بعد طے کیا ہے کہ پی آئی اے کو کسی بیرونی کمپنی یا بیرونی ملک کو نہیں بیچا جائے گا کیونکہ اس سے منافع بیرون ملک چلا جائے گا۔ اب کراچی اور لاہور کے ٹاپ 20 صنعتکاروں اور تاجروں کا ایک کنسورشیم بنایا گیا ہے، اس میں دس پارٹنرز لاہور کے اور دس کراچی کے ہیں۔ حکومت نے پی آئی اے کی ریزرو پرائس 80 ارب روپے رکھی ہوئی ہے جبکہ اس کنسوریشم نے 100 ارب روپے کی پیشکش کر دی ہے، دیکھئے اب آگے کیا ہوتا ہے۔
سہیل وڑئچ کہتے ہیں کہ امریکہ کے حوالے سے بھی ریاست پاکستان اور حکومت اہم تبدیلیوں کے اشارے دے رہی ہیں۔ سب سے بڑی خبر یہ دی جا رہی ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ کی طرز کا ٹرمپ ٹاور بنانے کی پیشکش صدر ٹرمپ کے تجارتی ادارے کوکر دی گئی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں امریکی کانگریس کا ایک وفد پاکستان کا دورہ کرنے والا ہے۔ اپریل 2025 میں امریکہ میں پاکستان کے حامی امریکی کانگریس کے ارکان، پاکستانی کاکس Caucus کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔ یہ سرگوشیاں بھی سنائی دی ہیں کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورہ امریکہ کا بنیادی مقصد یہ لابنگ کرنا تھا کہ صدر ٹرمپ اپنی پہلی تقریر میں کہیں شکیل آفریدی کو رہا کروانے کا مطالبہ نہ کر دیں۔ حکومت مخالف کیمپ نے امریکہ میں یہ کوشش بھی کی تھی کہ عسکری ادارے کے اہم لوگوں پرسفری پابندیاں عائد کروائی جائیں۔ یہ مہم بھی ناکام بنائی گئی۔ رچرڈ گرینولر کو عمران کی رہائی کے مطالبے پر مبنی اپنے ٹویٹس واپس لینے پر بھی آمادہ کیا گیا۔ چنانچہ ریاست پاکستان ان اقدامات کی وجہ سے سمجھتی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے اب صدر ٹرمپ کوئی ڈرامائی مطالبہ نہیں کریں گے۔ اگر کبھی انکی جانب سے کوئی بات ہوئی بھی تو وہ علامتی ہو گی، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔
سہیل وڑائچ اگلی خبر کی طرف اتے ہوئے کہتے ہیں کہ پراپرٹی ٹائیکون کیساتھ کیا ہوا، یہ ایک بہت بڑا معمہ ہے۔ بظاہر صدر زرداری اور فوج کے بعض لوگوں کی وجہ سے کافی حد تک معاملات طے پا رہے تھے۔ ٹائیکون کی واپسی کی شرائط بھی طے ہو رہی تھیں، سرمایہ کار کا دل بھی پاکستان سے اداس تھا، ادھر بھی یہ احساس تھا کہ ٹائیکون کی واپسی سے عمومی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی اور بالخصوص رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کو فائدہ پہنچے گا۔ لیک یہ معاملہ خراب اس وقت ہوا جب القادر یونیورسٹی کے حوالے سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا ہو گئی۔ نون اور فوج دونوں اس سزا کو اپنے بیانیے میں بڑھ چڑھ کر بیان کر رہے تھے مگر اس میں ایک گڑبڑ تھی کہ اگر عمران کو سزا دی جا رہی ہے، جس نے ریاست کو برطانیہ سے لوٹائی گئی رقم پراپرٹی ٹائیکون کے جرمانے کے عوض سپریم کورٹ میں جمع کروائی اور اس کے بدلے القادر یونیورسٹی اور دوسری اراضی اپنے نام لگوائی، تو پھر پراپرٹی ٹائیکون کو کیسے اس معاملے سے الگ تھلگ رکھا جا سکتا ہے؟ نون کو اپنے سیاسی بیانیے میں زور لانے کیلئے پراپرٹی ٹائیکون کو نشانہ بنانے کی ضرورت تھی چنانچہ انہوں نے فوج کو بھی اس معاملہ میں قائل کرلیا، یوں پراپرٹی ٹائیکون بھی لفظی گولہ باری کی زد میں آ گئے۔ دوسری طرف خلیجی ریاست میں بیٹھے پراپرٹی ٹائیکون پہلے ہی وطن سے دوری پر بَھرے بیٹھے تھے۔ کچھ ان کے صلاح کار بھی حکومتی مخالف تھے، لہازا ان سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے خود پر ہونے والی تنقید کا ایک ٹویٹ کی صورت میں بہت سخت جوابی بیان دے دیا۔ یوں نون کا بیانیہ اور مضبوط ہو گیا اور وہ خوش ہو گئی کہ فوج اور پراپرٹی ٹائیکون میں ٹھن گئی ہے اور تحریک انصاف اور زیادہ ریڈار میں آ گئی، اس معاملے میں نقصان پراپرٹی ٹائیکون کا ہوا ہے۔ اب ریاست نے حوالگی مجرمان کے تحت ٹایئکون کو واپس لانے کے لیے زور لگانا شروع کر دیا ہے لہٰذا دیکھنا یہ ہو گا کہ آگ لگانے و الے کامیاب ہونگے یا آگ بجھانے والے۔ ٹائیکون کے بیان پر فوجی قیادت سخت ناراض ہے کیونکہ اسے یہ ایک سخت سیاسی بیان لگتا ہے اس لئے شائد وہ کسی ہلکی پھلکی وضاحت پر بھی مطمئن نہ ہو، معاملہ ٹھنڈا ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔
عمران نے جیل سے کوئی خط نہیں لکھا، اصل میں خط کس نے لکھا ؟
اگلی خبر دیتے ہوئے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ حکومتی سطح پر یوں لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف فوج کیلئے قابل قبول سے بڑھ کر اس وقت پسندیدگی کے درجے پر فائز ہو چکے ہیں، پہلے انکے پاس SPACE کم تھی اب انہیں تھوڑی اور SPACE ملی ہے۔ عدلیہ کی حالیہ ٹرانسفرز میں وزیر قانون اور وزیر داخلہ کی لاہور ہائیکورٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی چیف ججی کیلئے چوائس میں اختلاف تھا مگر بالآخر وزیر داخلہ کی چوائس فائنل ہو گئی۔ یہ بھی خبر ملی ہے کہ حکومت گری ہوئی رئیل اسٹیٹ کو اٹھانے کی کوشش میں لگی ہے شرح منافع میں کمی کے بعد مارکیٹ میں حرکت شروع ہوگئی ہے اس حوالے سے آئی ایم ایف کو اعتماد میں لیکر کوئی پیکیج بنایا جا رہا ہے۔ یہ خبر بھی گرم ہے کہ اسلام آباد کے دوسیکٹرز میں دوبئی کے جدید ترین امارات ہلز کی طرح کی ڈیولپمنٹ کی جارہی ہے کراچی بندرگاہ کیساتھ ایک نئی ہاؤسنگ سکیم لائی جا رہی ہے جس کیلئے قوانین تبدیل کئے جا رہے ہیں تاکہ اسے عالمی معیار دیا جاسکے ۔کیا ہوگا یا نہیں ہو گا یہ تو خیر بہت بعد میں ہی پتہ چلےگا کئی دنوں سےیہ خبریں، یہ راز اور یہ معاملات جمع تھے سوچا قارئین کے علم میں لے آؤں۔
