وفاقی وزیر قانون نے پیکا ترمیمی بل پر نظرثانی کا عندیہ دے دیا

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیکا ترمیمی بل پر نظرثانی کا عندیہ دیتے ہوئے کہاکہ پیکا پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت جاری ہے، اگر تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہوئےتو اس ایکٹ پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔کوئی بھی قانون مستقل نہیں ہوتا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پیکا پر تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت جاری ہے،وزارت داخلہ،اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مابین پیکا پر مشاورت ہورہی ہے ۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ قانون کوئی بھی ہمیشہ کےلیے نہیں ہوتا،یہ پارلیمان کا اختیار ہےکہ اس میں تبدیلیاں آتی رہیں،اگر تمام اسٹیک ہولڈرز متفق ہوئےتو اس ایکٹ پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔
یاد رہےکہ رواں سال 23 جنوری کو قومی اسمبلی نے پیکا ایکٹ ترمیمی کی منظوری تھی ،صحافتی تنظیمیں اور اپوزیشن اس کو کالا قانون،آزادی اظہار رائے اور میڈیا پر حملہ قرار دے رہی تھیں، تاہم صدر مملکت نے اس بل پر دستخط کر دیے تھے جس کےبعد یہ بل قانون بن گیا تھا۔
ایک جج نے جرنیلوں کی پتلونیں اتارنے کی خواہش کیوں ظاہر کی؟
بل کےمطابق ایسا مواد جو نظریہ پاکستان کےخلاف اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کےلیے اشتعال دلائے یا عوام، افراد،گروہوں، کمیونٹیز،سرکاری افسران اور اداروں کو خوف میں مبتلا کرے،ایسا مواد غیرقانونی ہے،قانونی تجارت یا شہری زندگی میں خلل ڈالنا بھی ممنوع ہوگا۔نفرت انگیز،توہین آمیز، فرقہ واریت ابھارنے اور فحاشی پر مبنی کانٹینٹ کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
ہر وہ شخص جو جان بوجھ کر ایسی معلومات پھیلائےگا جو جھوٹ یا فیک ہوں یا جس سےخوف و ہراس پھیلے یا عوام میں افرا تفری اور انتشار پیدا ہو اس شخص کو 3سال قید یا 20 لاکھ جرمانہ کیا جاسکے گا یا یہ دونوں سزائیں دی جاسکیں گی، بل کےتحت قائم کی جانے والی ریگولیٹری اتھارٹی،تحقیقاتی ایجنسی،ٹربیونل اور کمپلینٹ کونسل کیا کام کریں گے؟
