وفاق نے 10 ارب میں PIA بیچا جبکہ مریم نے 11 ارب کا جہاز خریدا

پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعلی مریم نواز کے آرام دہ سفر کے لیے 11 ارب روپے سے زائد مالیت کا وی وی آئی پی لگژری جہاز خریدنے کا فیصلہ ان کے گلے پڑ گیا ہے اور وہ مسلسل سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔ ناقدین کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ نتیجہ نکال کر کہ فضائی سروس چلانا حکومت کے لیے گھاٹے کا سودا ہے، پی آئی اے کو دس ارب روپے میں فروخت کر دیا، تو پھر مریم کی حکومت نے 12 ارب روپے کا جہاز خرید کر یہ اعلان کیوں کر دیا کہ وہ دراصل ’ایئر پنجاب‘ شروع کرنے جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے امریکی طیارہ ساز کمپنی گلف سٹریم ایرو سپیس کے تیار کردہ ماڈل گلف سٹریم G 500 طرز کا ایک لگژری بزنس جیٹ حاصل کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً ساڑھے چار کروڑ امریکی ڈالر یعنی گیارہ سے بارہ ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ یہ طیارہ فروری 2026 سے پنجاب کے مختلف ہوائی اڈوں کے درمیان پروازیں کر رہا ہے اور اس کے لیے ’پنجاب ٹو‘ کا کال سائن استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ سرکاری کال سائن ہے اور وزیراعلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ طیارہ پہلی مرتبہ دسمبر کے اواخر میں لاہور پہنچا اور بعد ازاں مقامی پروازوں میں دیکھا گیا۔ دستیاب دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ تاحال امریکی رجسٹریشن کے تحت ہے اور پاکستان میں باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں کیا گیا۔ ہوا بازی کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں رجسٹر ہونے والے طیاروں کے رجسٹریشن نمبر مخصوص قومی سابقے سے شروع ہوتے ہیں، جبکہ اس جہاز کا نمبر امریکی فارمیٹ میں ہے۔
ابتدا میں جب اس جہاز کی خریداری کی خبر سامنے آئی تو پنجاب حکومت نے خاموشی اختیار کی، تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ جہاز مجوزہ ایئر پنجاب کے فلیٹ fleet کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت ایک فضائی بیڑا تشکیل دے رہی ہے، جس کے لیے کچھ طیارے خریدے جائیں گے اور کچھ لیز پر لیے جائیں گے، اور G 500 جہاز اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔ تاہم ناقدین اس دعوے کو ایک بھونڈا مذاق قرار دے رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ 18 نشستوں پر مشتمل ایک لگژری بزنس جیٹ کو کمرشل سروس کے لیے استعمال کرنے کا دعویٰ سفید جھوٹ ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے طیارے عموماً اعلیٰ سرکاری شخصیات یا کاروباری شخصیات استعمال کرتے ہیں اور انہیں روایتی مسافر ایئر لائن کے طور پر چلانا معاشی طور پر قابل عمل نہیں۔
جیو نیوز سے وابستہ سینئر اینکر شاہزیب خانزادہ نے اس حوالے سے سوال اٹھایا کہ اگر ’ایئر پنجاب‘ ایک باقاعدہ ایئر لائن منصوبہ ہے تو اس ائیر لائینز کی رجسٹریشن، آپریٹنگ لائسنس، دفتر اور انتظامی ڈھانچے کی تفصیلات کیوں سامنے نہیں لائی گئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر یہ جہاز کمرشل مقاصد کے لیے خریدا گیا ہے تو اسے وزیر اعلیٰ کے سرکاری دوروں میں کیوں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کے لیے پہلے سے سرکاری طیارے موجود ہیں۔
اس معاملے نے تب شدت اختیار کی جب ایک سرکاری سمری سامنے آئی جس میں مالی سال 2026 کے دوران وی آئی پی پروازوں کے لیے ضمنی گرانٹ کی منظوری کا ذکر تھا۔اس دستاویز کے مطابق نئے طیارے کے آپریشنل اور دیکھ بھال کے اخراجات کے لیے تقریباً ایک ارب روپے سالانہ درکار ہوں گے۔ ان اخراجات میں پائلٹس اور انجینیئرز کی بیرون ملک تربیت، ایندھن، انشورنس اور دیگر ضروریات شامل ہیں۔
کیا گنڈاپور وزارت اعلی واپس لینے کے لیے متحرک ہوئے ہیں؟
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت قومی ایئر لائن کو مسلسل خسارے کے باعث فروخت کرنے پر مجبور ہو گئی تھی تو صوبائی سطح پر ایک نئی ایئر لائن کو منافع میں چلانا مزید مشکل ہوگا۔ ناقدین کے مطابق ابھی تک ’ایئر پنجاب‘ کے قیام کے لیے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی، جبکہ اربوں روپے مالیت کا جہاز وزیر اعلیٰ کو لے کر ملک کے مختلف شہروں کے دورے کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز مختلف مواقع پر سادگی اور کفایت شعاری کا پیغام دیتی رہی ہیں، تاہم اپوزیشن اور مبصرین کے مطابق عوامی وسائل سے ایک پرتعیش بزنس جیٹ کی خریداری اس بیانیے سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبے زیادہ ترجیح کے مستحق تھے۔
دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کی اعلیٰ قیادت کے لیے محفوظ اور معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا ریاستی ذمہ داری ہے اور ’ایئر پنجاب‘ مستقبل میں صوبے کے لیے ایک اہم منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم جب تک خریداری کے طریقہ کار، مالی شفافیت اور منصوبے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آتیں، یہ سوال برقرار رہے گا کہ آیا 11 ارب روپے کا یہ لگژری طیارہ واقعی ایک عوامی فضائی منصوبے کی ضرورت ہے یا پھر وی آئی پی کلچر کی ایک اور مثال۔
