نارِ جہنم

تحریر : عطا ء الحق قاسمی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
” شیخ صاحب بول رہے ہیں ؟”،”جی جی”،” میں ملک بشیر بول رہا ہوں !”،” جی ملک صاحب کیسے حال ہیں ؟”،”اللہ کا شکر ہے جی ۔ وہ دراصل میں نے فون اس لیے کیا تھا کہ آپ کی طرف کچھ پیسے نکلتے ہیں بہت ضرورت آن پڑی ہے ۔”،” میں تو چند دنوں تک مرنے والا ہوں ۔ ملک صاحب”،” یہ آپ کیا کہ رہے ہیں شیخ صاحب اللہ تعالی آپ کی عمر دراز کرے۔ "،”میں صحیح کہہ رہا ہوں میرا دل کہتا ہے کہ دو ہفتوں کے اندر اندر انتقال کر جاؤں گا ۔”،”آپ کو ایسی بات نہیں کرنا چاہیے شیخ صاحب ! آپ سے محبت کرنے والوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے!”، ” آپ کی اس بات سے میری بہت ڈھارس بندھی ہے اللہ تعالی آپ کو خوش رکھے ،آپ سنائیں آپ کے کاروبارکا کیا حال ہے !۔”،”اللہ کا شکر ہے کام چل رہا ہے ۔ آپ کا کاروبار کیسا جا رہا ہے”،”بہت اچھا جا رہا ہے۔ ان دنوں سیزن بھی ہے؟”۔ ” ہاں میں نے یہی سوچ کر فون کیا تھا اگر ہو سکے تو آج کچھ ادا ئیگی فرمادیں!”،”ایسی کون سی بات ہے؟ آپ خدانخواستہ بیمار و مار تو نہیں ہیں ؟”،” نہیں بیماری تو کوئی نہیں، لیکن میرا دل کہتا ہے کہ….”،” کیا منہ سے برے برے کلمے نکالتے ہیں آپ ! آپ یہ بتا ئیں بچوں کا کیا حال ہے؟”،” بچے بالکل ٹھیک ہیں۔ میں نے پچھلے ہفتے انہیں ایک ایک پلاٹ خرید کر دیاہے کہ ان پر اپنی اپنی کوٹھیاں خود بنوالیں ۔”،”ماشاء اللہ ۔ بہت بہت مبارک ہو !”،”خیر مبارک”،”آپ کی کارکیسی جارہی ہے؟”،”کون سی کار”،”ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا۔ میرا مطلب ہے کہ کاریں کیسی چل رہی ہیں؟”، "میں نے کل ایک نئی مرسڈیز کا آرڈر دیا ہے۔ آپ کسی دن بچوں کو لے کر آئیں نا! ۔بس ان شاء اللہ کسی دن حاضر ہوں گا۔ اس وقت تو میں نے ضرورت کے تحت فون کیا تھا۔ اگر ہو سکے تو کچھ پیسوں کا انتظام کر دیں!”،” میں نے تو چند دنوں تک مر جانا ہے۔ اب اس دنیا میں جی نہیں لگتا کچھ نہیں رکھا اس دنیا میں ! کوئی شخص میرا حال نہیں پوچھتا سب کو اپنے اپنے پیسوں کی فکرہے!”،”خدا کیلئے شیخ صاحب خدا کیلئے…!”،”میں صحیح کہہ رہا ہوں ملک صاحب میں تو ان لوگوں کی وجہ سے دفتر بھی بہت کم آتا ہوں میں نے سب کام بیٹوں کے سپرد کر دیئے ہیں اب تو کاروبار بھی وہی چلا رہے ہیں !”،”خیر یہ تو اچھی بات ہے کہ بیٹے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جا ئیں، لیکن آپ کو مایوسی کی باتیں نہیں کرنا چاہئیں۔”،”بڑی مہربانی ملک صاحب ! آپ کی باتوں نے مجھے بہت حوصلہ دیا ہے۔ میں ان دنوں سوچ رہا ہوں کہ دل بہلانےکیلئے یورپ کی سیاحت کو نکل جاؤں !”،”بہت اچھا خیال ہے اگر ہو سکے تو اس دفعہ ایک چکر امریکہ کا بھی لگا لیں۔”،”کیا رکھا ہے جی ! اس قوم کا کوئی کلچر ہی نہیں سب دولت ہی دولت ہے۔ اب دیکھیں نا دنیا میں صرف پیسہ ہی توسب کچھ نہیں ہے۔ پیسہ تو ہاتھ کی میل ہے؟”،”وہ تو ٹھیک ہے شیخ صاحب ، مگر اس میل کی بھی کبھی ضرورت پڑ ہی جاتی ہے میں نے آج اسی لیے فون کیا تھا ۔میں نے چند دنوں تک مر جانا ہے۔ اب تو اس دنیا میں جینے کو جی نہیں چاہتا۔ میں نے تو وصیت کے کاغذات بھی تیار کر والیے ہیں ؟”،”اللہ نہ کرے شیخ صاحب کہ آپ فوت ہوں…!”،” جی جی جی !”مگر دیکھیں نا! لین دین تو ساتھ ساتھ چلتا ہی ہے۔”،” بالکل بالکل مگر میں تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ بیٹھا ہوں بس چند دنوں کی بات ہے… !” یعنی کتنے دنوں تک آپ ادائیگی کر دیں گے؟”،”میں ادائیگی کی بات نہیں کر رہا ملک صاحب چند دنوں تک تو میں نے مر جانا ہے۔ مجھے کہاں ہوش ہے کہ میں نےکس سے کیا لینا ہے کس کا کیا دینا ہے۔ یہ دنیا فانی ہے۔ ملک صاحب !”،”آپ بجا فر ماتے ہیں شیخ صاحب لیکن جو دینا ہے وہ تو دینا ہی ہے !۔”،”مگر میں نے چند دنوں تک مر جانا ہے۔”،”پکی بات ہے۔”،”کون سی بات ؟”،”یہی کہ آپ نے چند دنوں تک فوت ہو جانا ہے !۔”،”یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ملک صاحب ! اظہار ہمدردی کی بجائے دوسروں کی طرح آپ بھی میری موت کی دعائیں مانگنے لگے ۔”،”میں ایسی دعا کیسے مانگ سکتا ہوں شیخ صاحب ! میں تو صرف یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ موت کے سلسلے میں آپ کااحساس واقعی بہت قوی ہے؟۔”،”جی ہاں آپ یقین کریں مجھے یہی لگتا ہے کہ بس دو چار دنوں تک مر جاؤں گا !”،”میں تو بس یہی پوچھنا چاہتا تھا۔ جہاں میں نے پیسوں کا اتنا عرصہ انتظار کیا تھا عام حالات میں دو چار مہینے اورانتظار کر لیتا لیکن اگر آپ کا دو چار دنوں میں فوت ہونا یقینی ہے تو میں ابھی آپ کی طرف پہنچ رہا ہوں تا کہ ایک تو آپ کاآخری دیدار ہو جائے اور رقم ڈوبنے سے بچ جائے یوں بھی میں چاہتا ہوں کہ میرا دوست خدا کے سامنے سرخرو ہو کر جائےدوسرں کی دولت دولت نہیں، جہنم ہے میری خواہش ہے کہ آپ نار جہنم ساتھ لے کر نہ جائیں۔ براہ کرم میرے آنے تک فوت نہ ہوں کچھ دیر انتظار فرمائیں میں حاضر ہورہا ہوں ۔ خدا حافظ "۔
