امریکی صدر کا پہلا "سٹیٹ آف یونین” خطاب

تحریر : نصرت جاوید
بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت
میں بے وقوف کئی دہائیوں سے یہ طے کئے بیٹھا ہوں کہ کسی ملک کا صدر یا وزیر اعظم منتخب ہوجانے کے بعد متعصب ترین سیاستدان بھی یہ تاثر اجاگر کر نے کی کوشش کرتا ہے کہ اپنی نئی حیثیت میں وہ اب محض کسی ایک سیاسی جماعت یا مخصوص سوچ کے حامل گروہ کا نمائندہ نہیں رہا۔ اس کی تمام تر کوشش ہوگی کہ سیاسی تقسیم واختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک ومعاشرے کے اجتماعی استحکام پر توجہ مرکوز کردی جائے۔امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ۔ پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح سات بجے اپنے ملک کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے موصوف نے عمر کے آخری حصے میں داخل ہوئے مجھ سادہ لوح کے دل ودماغ میں برسوں سے جمع ہوئی خوش گمانیوں کو غلط ثابت کردیا۔
وائٹ ہائوس لوٹنے کے ایک سال بعد موصوف کا اپنے ملک کی پارلیمان سے پہلا خطاب تھا۔ امریکی اس خطاب کو ’’سٹیٹ آف دی یونین‘‘ پکارتے ہیں۔ ’’یونین‘‘ لفظ یہاں غور طلب ہے جو ریاست ومعاشرے میں ا تحاد ویکسوئی پر توجہ دلاتا ہے۔ اتحاد ویکسوئی کے تصورکو مگر بے دریغ انداز میں پسِ پشت ڈالتے ہوئے امریکی صدر نے نہایت حقارت سے اپنے خطاب کے ابتدائی 70سے زیادہ منٹ اس سوچ کو فروغ دینے کے لئے وقف کردئے کہ اس کی مخالف جماعت-ڈیموکریٹ پارٹی- نے ایسی پالیسیاں اپنائیں جن کے نتیجے میں اس کے ملک کی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں۔ دنیا کے غریب ممالک سے ’’جرائم پیشہ افراد‘‘ اور ’’ذہنی مریض‘‘ بلاروک ٹوک امریکہ میں غیر قانونی طورپر داخل ہونے کے بعد اس کی مذہبی اور ثقافتی شناخت تباہ کرنا شروع ہوگئے۔ غیر قانونی تارکین وطن نے امریکی شہروں میں درآنے کے بعد وہاں کے پرامن شہریوں کو منشیات کا عادی بنانے پر توجہ دی۔ محنت مزدوری کے بجائے لوگوں کے گھروں میں گھس کر انہیں قتل کرنا شروع کردیا۔ امریکی معاشرے کی ’’مذہبی اور ثقافتی‘‘ شناخت کا تحفظ ڈونلڈٹرمپ نے اپنا فرضِ اولین شمار کیا اور گزشتہ ایک برس میں ایسی پالیسیاں اپنائیں جن کی بدولت کوئی غیر ملکی امریکہ میں بلااجازت گھسنے کے امکانات سے قطعاََ محروم ہوچکا ہے۔
غیر ملکی تارکین وطن کی جبلت میں موجود ’’وحشت وبربریت‘‘ ثابت کرنے کے لئے اس نے چند امریکی کنبوں کو پا رلیمان کی گیلریوں میں خصوصی مہمانوں کی حیثیت میں بلارکھا تھا۔ اپنے خطاب کے دوران ان کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کے تذکرے کے بعد وہ انہیں اپنی نشستوں سے کھڑے ہونے کی دعوت دیتا اور تالیوں کی گونج میں ان کی مداح سرائی میں مصروف ہوجاتا۔ اس کے خطاب کا آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ محض غیر ملکی تارکینِ وطن ہی کو بدی کی علامتیں ثابت کرنا مقصود نہیں۔ نہایت مکاری سے امریکی صدر اپنی مخالف جماعت کوبھی بدی کی ان علامتوں کا شریک جرم ٹھہرارہا ہے۔ اس جماعت کے اقتدار میں لوٹنے کے امکانات معدوم تر بنانے کے لئے وہ پارلیمان سے ایسے قوانین منظور کروانے کو بھی بضد ہے جن کے نتیجے میں انتخابات کے دوران ووٹ ڈالتے ہوئے امریکی شہریوں کو دستاویزات کے پلندوں کے ساتھ اپنی شہریت اور ووٹ دینے کا حق ثابت کرنا ہوگا۔ امریکہ کو محفوظ بنانے کے نام پر تجویز کردہ قانون یہ سوچتے ہوئے تیار کئے گئے ہیں کہ ہر ’’محب وطن‘‘ اس ملک کی مذہبی وثقافتی شناخت برقرار رکھنے کے لئے صرف ری پبلکن پارٹ ہی کو ووٹ دینا چاہتا ہے۔ غیر ملکوں سے چیونٹیوں کی طرح امریکہ گھس آئے افراد مگر ووٹ ڈالنے کا حق حاصل کرلینے کے بعد ڈیموکریٹ امیدواروں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچادیتے ہیں۔
جس ڈھٹائی سے امریکی صدر نے غیر ملکی تارکین وطن کو بدی کی علامتیں بناکر اپنی پارلیمان کے روبرو پیش کیا اس نے مجھے حیران وپریشان کردیا۔ ایوان میں موجود فقط دو اراکینِ کانگریس نے بلند آوازوں سے اس کی سوچ پر سوالات اٹھائے۔ وہ دونوں خواتین ہونے کے علاوہ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے ا مریکہ منتقل ہوئے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان دو کے علاو ڈیموکریٹ پارٹی کے اراکین کانگریس حیرت سے منہ کھولے ٹرمپ کی تقریر کو بوکھلائے چہروں کے ساتھ سنتے رہے۔ ری پبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین البتہ پرجوش اور طویل تالیوں کے شور سے ٹرمپ کے تعصب بھرے خطاب کو سراہتے رہے۔
انسانوں کو متعصب نگاہ سے دیکھنے کی صلاحیت سے قطعاََ محروم ہوں۔ غیر ملکی تارک وطن کے طورپر امریکہ میں آباد ہونے کے بے شمار امکانات میسر ہونے کے باوجود ان کو آزمانے کے بارے میں ایک لمحے کو بھی نہیں سوچا۔ اس کے باوجود ا مریکہ میں آباد غیر ملکی تارکین وطن اور ڈیموکریٹ پارٹی کی ٹرمپ کے ہاتھوں بے دریغ دھلائی مجھ سے برداشت نہیں ہورہی تھی۔ٹرمپ کی تقریر سنتے ہوئے بلڈپریشر بھی تیزی سے بڑھتا محسوس ہوا۔ صحافی کا تجسس آڑے نہ آتا تو ریموٹ کا بٹن دباکر ٹی وی بند کردیتا اور کمرے سے باہر نکل جاتا۔ ٹرمپ کا طویل خطاب مگر سننے کو مجبور تھا۔
میری مجبوری کا کلیدی سبب یہ جاننا تھا کہ امریکی صدر ایران کے ساحلوں کے قریب دو جنگی جہاز بھیجنے کے بعد بھی سفارت کاری کو ترجیح دینا چاہ رہا ہے یا نہیں۔ ایران کے موضوع کی جانب پہنچتے ہوئے موصوف نے تاہم بہت دیر لگائی۔ اس کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرنے سے قبل ٹرمپ نے ایران کو ’’عالمی دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست‘‘ پکارا۔ اراکینِ کانگریس کو یاد دلایا کہ ایران نے مبینہ طورپر ’’بے تحاشہ امریکی شہریوں‘‘ کو بلاوجہ قتل کررکھا ہے۔ وہاں کی حکومت نے حال ہی میں مہنگائی کے خلاف احتجاج کرنے والے ایران کے ’’32ہزار شہریوں‘‘ کو قتل کیا۔ ایران کو ظالم ،جارح اور دہشتگردی کا سرپرست قرار دینے کے بعد امریکی صدر نے اس عہد کو دہرایا کہ وہ اسے ایٹمی قوت بننے نہیں دے گا۔ تھوڑی دیر بعد بات مگر ایران کے ایٹمی پروگرام تک ہی محدود نہ رہی۔ ٹرمپ نے تفصیل سے ایران کے میزائل پروگرام کا ذکر بھی چھیڑدیا۔ یہ دعویٰ کیا کہ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو ایران ایسے میزائل بھی تیار کرلے گا جو محض یورپ اور مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈے ہی نہیں بلکہ امریکہ کے شہروں کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔
نفرت وحقارت بھرے جس لہجے میں امریکی صدر نے ایران کا ذکر کیا اسے سننے کے بعد مجھ میں ہمت نہیں کہ اعتماد سے یہ دعویٰ کرسکوں کہ ڈونلڈٹرمپ سفارت کاری اور مذاکرات کو جنگ پر ترجیح دینا چاہے گا۔ ایران کے ذکر کے فوری بعد اس نے امریکہ کی جنگی صلاحیتوں کو نمایاں کرنے کے لئے حال ہی میں وینزویلا پر ہوئے حملے کا ذکر کیا اور اس کی قیادت کرنے والے ایک ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو مہمان خصوصی کی حیثیت میں بلواکر اعلیٰ ترین اعزازسے نوازا۔ وینزویلا پر حملے کے دوران زخمی ہوئے پائلٹ کو اپنے خطاب کے دوران اعزاز سے نوازتے ہوئے امریکی صدر درحقیقت ایران کو یہ پیغام دیتا سنائی دیا کہ اگر ٹرمپ کی خواہش کے مطابق وہ اپنے ایٹمی اور میزائل پروگرام سے دستبردار ہونے کو آمادہ نہ ہوا تو اس کے ساتھ بھی وینزویلا والا سین دہرایا جاسکتا ہے۔
علم سفارت کاری کی مبادیات ذہن میں رکھتے ہوئے اس پیغام کا جائزہ لیں تو بدھ کی صبح صدر ٹرمپ کے اپنی پارلیمان سے خطاب کے بعد ایران کے لئے مذاکرات کے ذریعے امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنا بہت مشکل نظر آرہا ہے۔ جو رویہ،لہجہ اور الفاظ صدر ٹرمپ نے استعمال کئے وہ ایران کو ’’میری بات مان لو-وگرنہ…‘‘ والی تڑی لگاتے سنائی دئے ہیں۔ ایران ان کے استعمال کے بعد ’’جھکتا‘‘ نظر آتا دکھائی نہیں دینا چاہے گا۔ یہ لکھنے کے باوجود نہایت عاجزی سے ربّ کریم سے فریاد کرنا ہوگی کہ امریکہ ایران پر جارحانہ حملے سے باز رہے کیونکہ اس پر ہوا حملہ فقط ایران ہی نہیں پاکستان کے لئے بھی ناقابل برداشت عدم استحکام کا باعث ہوسکتا ہے۔
