حامد میر امن مذاکرات کا مستقبل روشن کیوں دیکھتے ہیں ؟

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے باوجود اچھی خبر یہ ہے کہ امریکی اور ایرانی وفود نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور سیز فائر کو توسیع دیتے ہوئے ایک دوسرے سے بات چیت بھی جاری رکھی جائے گی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان 21 گھنٹے طویل اور غیر معمولی اہمیت کے حامل مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہیں ہو سکے، تاہم یہ عمل خود ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی اور طویل نشستوں کے دوران ایک دوسرے کے مؤقف کو تفصیل سے سنا گیا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس خصوصی طور پر اسلام آباد پہنچے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف بھی اس عمل کا حصہ بنے۔ مذاکرات کے اختتام پر جے ڈی وینس نے پاکستان کی میزبانی اور سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ فریقین کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، جبکہ ایران کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ امریکہ نے مطلوبہ لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔

 

حامد میر کے مطابق ان مذاکرات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ دونوں ممالک نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جو کسی بھی بڑے تنازعے کے حل کی جانب پہلا اور ناگزیر قدم ہوتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نوعیت کے پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی، کیونکہ تاریخی طور پر ایسے مذاکرات ہفتوں اور مہینوں پر محیط ہوتے ہیں۔

 

انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1990 کے بعد دنیا بھر میں 2146 امن معاہدے ہوئے، لیکن ان میں سے صرف 6 فیصد پر مکمل عمل درآمد ہو سکا۔ اس تناظر میں اسلام آباد مذاکرات کو ایک ابتدائی مگر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح 2020 میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والا دوحہ معاہدہ بھی تاحال مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا، جو اس عمل کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں نہایت متوازن اور فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں کیں تو پاکستان نے اس کی مخالفت کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی۔ 28 فروری 2026 کو ہونے والے نئے حملوں کے بعد پاکستان نے مزید متحرک کردار ادا کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ابتدائی طور پر صرف سہولت کار تھا، لیکن مختصر عرصے میں وہ ثالث کے کردار میں آ گیا، جو اس کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔

 

ان کے مطابق پاکستان کی کوشش ہونی چاہیے کہ سیز فائر کو مزید مستحکم کیا جائے، اس میں توسیع کی جائے اور دیگر اہم فریقین جیسے لبنان کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ حامد میر کے بقول یہ امن عمل درحقیقت امریکہ کی بھی ضرورت ہے، جو ایک سپر پاور ہونے کے باوجود اس وقت سفارتی اور سیاسی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے۔ امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کی خواہاں ہے، جو اس عمل کو مزید اہم بنا دیتا ہے۔

 

وہ پاکستان کی بطور ثالث کوششوں پر بھارتی ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جہاں بھارتی میڈیا کے ایک بڑے حصے نے ان مذاکرات کا مذاق اڑایا، وہیں کچھ سنجیدہ صحافتی حلقوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا۔ دی وائر کی سینئر ایڈیٹر عارفہ خانم شیروانی اور سینئر صحافی نیروپوما سبرامنین کے درمیان گفتگو اس حوالے سے خاصی اہم رہی۔ نیروپوما سبرامنین، جو دی ہندو اور دی ٹریبیون سے وابستہ رہی ہیں، نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان نے نہ صرف جنگ بندی کی کوششوں میں کردار ادا کیا بلکہ امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر ایک بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس پیش رفت پر پاکستان کو مبارکباد بھی دی۔

 

اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا، جس پر نئی دہلی کے بعض حلقوں، خصوصاً جے شنکر جیسے پالیسی سازوں میں تشویش پائی گئی۔

حامد میر کے مطابق یہ تمام ردعمل اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں بدلتی ہوئی سفارتی صف بندیوں کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کو اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں کیونکہ بالآخر امریکہ اور ایران کو ایک نہ ایک دن مذاکرات کے ذریعے ہی کسی پائیدار امن معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔

Back to top button