ایم کیو ایم کی سیاست کا مستقبل؟

 

 

 

 

تحریر : مظہر عباس

بشکریہ : روزنامہ جنگ

 

’نائن زیرو‘ سے شروع ہونے والا متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا سفر سیاسی طور پر تقریباً ’زیرو‘ رہ گیا ہے شاید یہی وجہ ہے 17سیٹوں کے ساتھ بھی ایم کیو ایم نہ متحد نظر آتی ہے نہ ہی حقیقی۔ اپنے وقت میں شہری سندھ کی نمائندہ جماعت اب سیاست کی بند گلی میں آ گئی ہے۔ اہم بات یہ نہیں ہے کہ ان کے نامزد کردہ گورنر کامران ٹیسوری کیسے لائے گئے اور کیسے گئے مگر ان کے جانے پر پارٹی کی معنیٰ خیز خاموشی ان گنت سوال چھوڑ گئی ہے۔ انکے متبادل کے طور پر آنے والے مسلم لیگ (ن) کے نہال ہاشمی کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے مگر کیا وہ اپنی جماعت کو جو عرصہ دراز سے سندھ میں ’لاپتہ‘ ہے دوبارہ متحرک کر پائیں گے۔ اس کیلئے یقینی طور پر ان کی کارکردگی کو دیکھنا پڑے گا۔ رہ گئی بات پاکستان پیپلزپارٹی کی تو اسکی سندھ میں مضبوط پوزیشن برقرار ہے اور صدر آصف علی زرداری نے ابھی سے آئندہ کی حکمت عملی پر کام شروع کردیا ہے۔

اب کسی کو ایم کیو ایم کی سیاست سے اتفاق ہو یا اختلاف حقائق یہی بتاتے ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی حیثیت اسی وقت تھی جب تک اس کی مرکزیت برقرار تھی۔ اس میں پڑنے والی دراڑوں میں ان کی اپنی سیاست، ریاست کی مداخلت اور یکے بعد دیگرے آپریشنز کا بڑا عمل دخل رہا۔ بانی متحدہ کو جہاں ان کی پر تشدد سیاست نے نقصان پہنچایا وہیں مختلف مواقع پر ان کے اسی طرز سیاست کو ریاستی اداروں نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے پی پی پی تو کبھی مسلم لیگ(ن) تو کبھی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف استعمال کیا۔ ایسا بھی ہوا کہ جب ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں نے ایک آواز ہونے کی کوشش کی اور اس کا اہتمام ایک ہوٹل میں کیا گیا تو آخری وقت میں’ نامعلوم افراد‘ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ ایم کیو ایم کی سیاست کا مرکز 90 عزیزآباد رہا اور اس کے باوجود کہ 1992 سے 2013 تک تین فوجی، نیم فوجی اور پولیس آپریشن کےبعد بھی نائن زیرو کی حیثیت برقرار رہی بانی متحدہ نے 2013 کے الیکشن کے بعد اور پھر 22؍اگست 2016 کو اپنے ہی پیروں پر خود کلہاڑی مار لی۔ مگر یہ سب باتیں اتنی سادہ نہیں ہیں جتنی نظر آتی ہیں اس کے بہت سے مرکزی غیر سیاسی کردار ہیں ۔ 2013 کے الیکشن میں کس طرح 90 کے حلقے سے ایم کیو ایم کے خلاف بڑی تعداد میں ووٹ پڑنا اور خود ایم کیو ایم کے سیکٹر کا اس میں کردار جیسے واقعات سے نظر آتا ہے کہ شہری سیاست میں ایم کیو ایم کا رول محدود کرنے کی تیاریاں شروع ہوگئی تھیں۔ 2014 میں مسلم لیگ(ن) کے خلاف سابق وزیراعظم عمران خان کی تحریک اور دھرنے میں نہ صرف ایم کیو ایم کو شامل کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ ان سے کراچی کو چند دن کیلئے بند کرنے کی بات ہوئی۔ تاہم بانی متحدہ نے اس بنا پر معذرت کرلی کہ ’پیغام‘ بہت واضح نہیں تھا اور اس وقت کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ذریعے آیا تھا۔

لہٰذا ایم کیو ایم میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ہوگیا۔ اور پارٹی کے کئی سرکردہ لیڈر مصطفیٰ کمال ،انیس قائم خانی، رضا ہارون، انیس ایڈوکیٹ اور دیگر پارٹی چھوڑ گئے اور پھر جنوری یا فروری 2016 میں کراچی واپس آئے اور مصطفیٰ کمال نے ایک نئی سیاسی جماعت پاک سرز مین پارٹی کا اعلان کردیا۔ دوسرا ہدف 14سال تک گورنر رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد بنے۔ اور اُن کو پی ایس پی پر الزامات لگانے کی وجہ سے گورنر شپ چھوڑنا پڑی۔ ایم کیو ایم کی سیاست میں 1991 میں ایم کیو ایم (حقیقی) بننےکے بعد سب سے بڑی تقسیم 22؍اگست کی الطاف حسین کی متنازع تقریر اور پاکستان مخالف نعرے کے بعد سامنے آئی اور جس تیزی سے الطاف کے حامیوں اور 90کے خلاف کارروائی ہوئی اس کاجائزہ لینا بھی بہت ضرور ی ہے ۔ ایم کیو ایم (پاکستان ) کا ایم کیو ایم (لندن) سے الگ ہونا، فوری طور پر بانی متحدہ کو پارٹی سے نکالا جانا، پارٹی آئین میں تبدیلی کی بات اتنی تیزی سے آگے بڑھائی گئی اور اسمبلیوں سے قراردادیں لائی گئیں کہ خود ایم کیو ایم سے الگ ہونے والے بھی پریشان تھے۔ اور یہی بنیاد بنا ایم کیو ایم (بہادرآباد) اور ایم کیو ایم (پی آئی بی) کی اور کامران ٹیسوری کی انٹری کا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ۔کہتے ہیں جن لوگوں نے ان کی انٹری کروائی انہوں نے ہی پہلے ایم کیو ایم اور 2016 میں بننے والی پاک سرزمین پارٹی کو ایم کیو ایم (پاکستان) میں ضم کروایا۔ اور پھر ٹیسوری صاحب کو گورنر کے عہدے پر نامزد کروایا۔ ان کی رخصتی پر ماسوائے ڈاکٹر فاروق ستار بظاہر کوئی غم زدہ نظر نہیں آیا کم از کم پارٹی نے کوئی ٹھوس پوزیشن نہیں لی۔ نہ ہی پارٹی نے وزارتیں چھوڑیں نہ ہی حکومت تو آخر ایسے میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے خصوصی طور پر وزیر داخلہ محسن نقوی کو کراچی بلا کر ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی سے کیوں ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق زرداری صاحب کراچی کی سیاست میں کافی عرصہ سے دلچسپی لےرہے ہیں اور یہ ملاقات اسی سلسلےکی کڑی ہے۔وہ ایم کیو ایم اور اس کے دھڑوں کے بارے میں بعض معاملات کو اتنا جانتے ہیں جوشاید انکی پارٹی کی اپنے لوگ بھی نہیں جانتے۔انہوں نے ماضی میں اپنے اسکول کے ساتھی ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ذریعے 2008 میں بھر پور آپریشن بھی کروایا اور پھر ایم کیو ایم کی حکومت میں بھی لے آئے اور مرزا کو استعمال کرکے آؤٹ کردیا۔ انہوں نے الطاف حسین کے سیاسی اور بعض ذاتی معاملات بھی حل کروائے اور پھر مائنس لندن کے بعد ایم کیو ایم (پاکستان) کے معاملات بھی دیکھتے تھے۔ کہتے ہیں ان کے ذہن میں کراچی کا ایک خاص پلان ہے جو کم و بیش وہی ہے جو ایک زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا تھا لہٰذا یہاں مکمل امن و امان بھی چاہتے ہیںاور سیاسی معاملات پر کنٹرول بھی۔ ایم کیو ایم (لندن) کے ماضی کے دو رہنماؤں رضا ہارون اور انیس ایڈوکیٹ کو پی پی پی میں لانے میں بھی انہوں نےہی کردار ادا کیا حالانکہ کہتے ہیںکہ ان کو کچھ لوگ ایم کیو ایم (پاکستان) میں لے جانا چاہتے تھے ۔انہوں نے کوئی دو سال پہلے رضا ہارون سے ایک طویل ملاقات ڈاکٹر عاصم کے ساتھ کی تھی جس میں انہوں نے ’کراچی پلان‘ کے حوالے سے تفصیلی ٹاسک بھی سامنے رکھا تھا۔ زرداری صاحب شہر کو بڑی سڑکیں اور مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ اور پانی کے مسئلے کو آئندہ الیکشن سے پہلے حل کروانے میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ وہ مائنس پاکستان تحریکِ انصاف کی صورت میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کا اتحاد چاہتے ہیں۔ اور عین ممکن ہے ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی جائے۔

رہ گئی بات ایم کیو ایم کی تو وہ سیاست کی بند گلی میں پہنچ گئی ہے جہاں وہ نہ اپنی بات منوا سکتی ہے نہ ہی مزاحمت کی پوزیشن میں ہے۔

 

 

 

Back to top button