حکومت نے سولر استعمال نہ کرنے والوں کو بھی بڑا جھٹکا لگا دیا

 

 

 

وفاقی حکومت نے مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک اور بجلی بم گرا دیا۔ پہلے سولر صارفین کو نشانہ بنایا گیا اور اب چھوٹے گھریلو صارفین کو بھی رگڑا لگا دیا ہے۔ نیپرا نے ماہانہ100یونٹ استعمال کرنیوالے پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی 200روپے فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی جبکہ حکومت نے گھریلو بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرکے حاصل کردہ 132ارب روپےبطور سبسڈی صنعتوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔یعنی بوجھ غریب کے کندھوں پر اور ریلیف بڑے صنعتکاروں کے حصے میں۔۔۔ ناقدین کے مطابق حکومت نے فکسڈ چارجز میں اضافہ کر کے مہنگائی کے ستائے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے تاہم فیصلے سے لگتا ہے کہ حکومت نے غریبوں کے خون سے بڑے بڑے سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کوپالنے کا منصوبہ بنا لیا ہے جو عوام پر دوہرا ظلم ہے کہ ان کے خون پسینے کی کمائی سے بڑے بڑے مگرمچھوں کو بجلی سبسڈی کے نام پر نوازا جا رہا ہے، ناقدین کے مطابق عوام سے سالانہ 132 ارب روپے اضافی وصول کرنے کے اس منصوبے کو توانائی اصلاحات کا نام دیا جا رہا ہے، مگر حقیقت میں یہ کمزور ریگولیٹری نظام، ناقص معاہدوں اور کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ عام آدمی پر ڈالنے کی ایک اور کوشش دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ معاشی بحالی کا راستہ ہمیشہ غریب کی جیب سے ہی ہو کر کیوں گزرتاہے؟

خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی درخواست پر نیپرا نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے ماہانہ 100یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجز عائد کردئیے ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی بار انڈسٹری کے لیے کراس سبسڈی صفر کر دی گئی جبکہ اس کا سارا بوجھ گھریلو صارفین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ فکسڈ چارجز دونوں پروٹیکٹڈ اورنان پروٹیکٹڈ صارفین پر عائد کئے گئے ہیں جبکہ چھوٹے گھریلو صارفین پر پہلے سے عائد فکسڈ چارجز میں اضافہ جبکہ بڑے مگرمچھوں کے فکسڈ چارجز میں کمی بھی کی گئی ہے ۔نیپرا کے فیصلے کے مطابق ماہانہ 300 یونٹ تک کے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ہیں، ماہانہ 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ۔ماہانہ 200 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر 300 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز عائد کر دئیے گئے ۔

 

100 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 275 روپے ، ماہانہ 200 یونٹ تک  کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 300 روپے فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ہیں۔ماہانہ 300 یونٹ تک استعمال کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز عائد کئے گئے ہیں، ماہانہ 400 یونٹ تک کے نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فسکڈ چارجز 200 روپے اضافے سے 400 روپے کر دئیے گئے ۔اسی طرح ماہانہ 500 یونٹ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے 100 روپے اضافے سے فکسڈ چارجز 500 روپے اور ماہانہ 600 یونٹ استعمال پر فکسڈ چارجز 75 روپے اضافے سے 675 روپے کر دئیے گئے ۔نیپرا فیصلے کے مطابق ماہانہ 700 یونٹ تک استعمال پر فکسڈ چارجز 125 روپے کمی سے 675 روپے کر دئیے گئے ، ماہانہ 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز 325 روپے کمی سے 675 روپے کر دئیے گئے ہیں۔

الیکشن کے بعد بنگلہ دیشی حکومت پرو انڈیا ہوگی یا پرو پاکستان؟

نیپرا حکام کے مطابق اس نئے ڈھانچے سے فکسڈ چارجز کی مد میں سالانہ 132 ارب روپے اضافی حاصل ہوں گے، جس سے کل وصولی 223 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 355 ارب روپے تک پہنچ جائے گی‘اس اقدام سے مجموعی طور پر 101 ارب روپے کی رقم کراس سبسڈی کے لیے حاصل ہوگی جو بنیادی طور پر صنعتی شعبے کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ معاشی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔200یونٹس تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجزعائد کرنے سے ان سلیبز کو ملنے والی سبسڈی میں 51 ارب روپے کی کمی آئے گی۔واضح رہے کہ چند روز قبل انڈسٹری کیلئے بجلی سستی کر کے بنیادی ٹیرف میں رد و بدل کیا گیا تھا ۔ جس سے انڈسٹری کا بنیادی ٹیرف 33 روپے سے کم ہو کر 29 روپے 54 پیسے پر آ گیاتھا۔ صنعتوں کو سستی بجلی مہیا کرنے کیلئے اب حکومت نے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔

 

 

ناقدین کے مطابق ماضی میں کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تحفظ دیا جاتا تھا تاکہ وہ مہنگی بجلی کے بوجھ سے کسی حد تک محفوظ رہیں۔ اب پہلی بار پروٹیکٹڈ صارفین بھی فکسڈ چارجز کی زد میں آ گئے ہیں۔ اس اقدام سے بجلی کی بچت کا تصور بھی متاثر ہوگا کیونکہ صارف چاہے کم یونٹ خرچ کرے یا زیادہ، ایک مقررہ رقم ادا کرنا لازمی ہوگی۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے اور کیپسٹی پیمنٹس جیسے مسائل حل کرنے کیلئے کاسٹ ریکوری ناگزیر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان مالی مشکلات کی اصل وجہ کیا ہے؟ کیا یہ کمزور منصوبہ بندی، مہنگے اور طویل المدتی معاہدے، لائن لاسز اور ناقص ریکوری نظام کا نتیجہ نہیں؟ اگر نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے براہِ راست صارفین پر فکسڈ ٹیکس لگا دیا جائے تو یہ اصلاح کیسے کہلا سکتی ہے؟

Back to top button