حکومت اور تحریک انصاف نے معاہدے کی تردی کردی

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے معاہدے کی تردید کر دی ہے۔حکومت کی جانب سے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزارت داخلہ جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی چیئرمین عمران اور شاہ محمو د قریشی نے معاہدے کی تردید کی ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ حکومت اور تحریک انصاف میں معاہدہ طے پا گیا ہے ، جس کے مطابق تحریک انصاف کا اسلام آباد میں صرف جلسہ ہوگا اور کوئی لانگ مارچ نہیں ہوگا۔ تاہم حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ڈھائی گھنٹے جاری رہے،پی ٹی آئی کی جانب سے اسد عمر ،شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک جبکہ حکومت کی طرف سے ایاز صادق، یوسف رضا گیلانی ، اور اسد محمود نے مذاکرات میں شرکت کی۔
حکومت کی جانب سے وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا،حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات اور معاہدے کی خبر بےبنیاد ہے، پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والےمسلح جتھےکے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔
جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی جانب بڑھ رہے ہیں، حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
کراچی حملے میں خاتون کو استعمال کرنے کا اصل مقصد کیا تھا؟
واضح رہے کہ اکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت مانگی گئی تھی تاہم ضلعی انتظامیہ نے نقص عامہ اور سڑکیں بند ہونے کے باعث پی ٹی آئی کو دھرنے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی تھی،اس حوالے سے سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر ہے جس میں سپریم کورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا ہے کہ تحریک انصاف کو جلسے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے اور ٹریفک پلان ترتیب دیا جائے تاکہ جلسہ بھی ہو جائے اور سڑکیں بھی بند نہ ہوں۔
