حکومت کو تو سیاسی آکسیجن مل گئی، عوام کی سانس کا کیا بنے گا ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ اوپر تلے ہونے والے آئینی ترامیم سے حکومت نے اپنے لیے سیاسی آکسیجن کا اہتمام کر لیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کے پانچ سال بھی پکے ہو گئے اور آرمی چیف کو بھی پانچ سال کی آکسیجن مل گئی، لیکن گہری سفید اسموگ کے بادلوں سے بھرے پنجاب کے مکینوں کو سانس کی سہولت فراہم کرنے کی طرف کسی کی توجہ نہیں جا رہی۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی معیادِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے، اگر اس میں ایک توسیع بھی شامل ہو جائے تو یہ ٹھیک دس سال بنتے ہیں، یعنی اتنا ہی عرصہ جتنا حکومت کو اسموگ پر قابو پانے کیلئے درکار ہے۔ حکومتیں اپنے اہم امور خوشی سے نبٹائیں، بس ہمیں سانس لینے کی سہولت فراہم کر دیں۔ چیف صاحب کی مدتِ ملازمت بڑھانے پر یہ حکومتی جواز سامنے آیا ہے کہ عمرانی حکومت نے تو توسیع کا قانون پاس کیا تھا اور چھ سالہ مدت کا راستہ کھول دیا تھا، جب کہ ہم نے ایک سال مدت گھٹا کر پانچ سال کر دی ہے۔ یہ موقف درست ہے، مگر حالیہ ترمیم نے توسیع کا راستہ تو نہیں روکا، یعنی اگر دونوں قوانین نافذالعمل رہیں تو پانچ جمع پانچ بعید از قیاس نہیں ہیں۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی معیادِ ملازمت میں یہ اضافہ حقیقت پسندانہ بتایا جا رہا ہے۔ جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف تو خود کو ہی توسیع دے دیا کرتے تھے، لہٰذا کل ملا کر ان آئین شکن جرنیلوں نے لگ بھگ 33 سال حکومت کی۔ مشرف کے بعد کیانی اور باجوہ چھ چھ سال اپنے عہدہ پرقائم رہے، راحیل شریف کو نواز شریف نے توسیع نہیں دی تو انہوں نے ایک جما جمایا نظام ہی الٹا دیا۔ اس تاب ناک ماضی کی روشنی میں اب کیا تبصرہ کیا جائے؟ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اس نئے قانون پر تبصرہ فرماتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ یہ فوج کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ ہے۔ کیا پتا وہ ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں ۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت اہم ہو گی، چھبیسویں آئینی ترمیم بھی اہم ہو گی، جوڈیشل کمیشن کی ہیئت بھی اہم ہو گی، نئے آئینی بنچ بھی اہم ہوں گے، حکومت صبح شام اپنی تمام تر توانائیاں ان پر صرف کرے، لیکن کیا ہی اچھا ہو اگر اس کے ساتھ حکومت اپنے پنجاب خصوصا لاہور کے باسیوں کو سانس لینے کی عیاشی بھی فراہم کر دے۔

اپنی تازہ تحریر میں حماد غزنوی کہتے ہیں لاہور کو تو پلاٹ مافیا کھا گیا، شہر کے گرد باغ، درختوں کے جھنڈ، کھیت کھلیان ہوا کرتے تھے، لاہور کے پھیپھڑے ہوا کرتے تھے، وہ پھیپھڑے کاٹ دیے گئے، اب ہم کہتے ہیں لاہور شہر میں سانس کیوں نہیں آتا۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے۔ آج لاہور کے چاروں اطراف میں بھی لاہور ہے، ہاؤسنگ کالونیاں ہیں، ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، ہاؤسنگ اتھارٹیاں ہیں۔ قلبِ شہر میں کچھ زمین میسر آئی تو وہاں سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ بنا یا جارہا ہے، لاہور کے تابوت میں آخری کیل کے طور پر راوی کے دونوں طرف روڈا ایک نیا شہر بسا رہی ہے، ایک ماڈل شہر، لاہور سے جڑا ہوا، ایک اور لاہور۔ پچھلی حکومت نے یہ منصوبہ شروع کیا تھا اور یہ حکومت تن دہی سے اس کی تکمیل میں مصروف ہے۔ بلا شبہ، ہمارے ہاں سرکاری دیوانگی جنیٹک ہوا کرتی ہے، ایک حکومت سے اگلی حکومت میں منتقل ہو جاتی ہے۔ ہر مسئلے پر ایک دوسرے سے اختلاف کرنے والی حکومتوں میں ’دیہاڑیاں‘ لگانے پر کامل اتفاق پایا جاتا ہے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ لاہور کے ڈیڑھ کروڑ باسیوں کو سانس آئے نہ آئے، یہ طاقت وروں کا مسئلہ نہیں ہے، کہتے ہیں دنیا کے آلودہ ترین شہر لاہور میں اوسطً عمریں چار سال کم ہو جاتی ہیں، اور یہ بات بڑی سہولت سے کہہ دی جاتی ہے، زندگی کا ایک ایک دن انمول ہے، اور کمال ڈھٹائی سے زندگی کے چار سال کی کمی کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ حساب لگائیے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے چار چار سال کل ملا کر کتنے بنتے ہیں؟ بس یہی کوئی چھ کروڑ سال۔ حماد کہتے ہی سقوطِ ڈھاکا سے اسموگ تک، ہم پر ٹوٹنے والی ہر آفت کا ذمہ دار ہندوستان ہے، ہمارا تو ان تباہ کاریوں میں کوئی ہاتھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا لاہور میں باغوں کو کاٹ کر نت نئی ہاؤسنگ اتھارٹیز ہندوستان نے بنائی ہیں؟ کیا ہمارے درخت انڈیا کاٹ کر لے گیا ہے؟ ہمیں الیکٹرک گاڑیاں چلانے سے بھارت نے منع کیا ہے؟ کیا ہماری گاڑیاں برہمن دھواں چھوڑتی ہیں؟

آرمی چیف کے ماسٹر سٹروک نے ججز کے منصوبے کیسے ناکام بنائے؟

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کم از کم پندرہ سال سے تو اسموگ کا مسئلہ سنجیدگی اختیار کر چکا ہے، اس دوران کیا کیا ہے ہماری حکومتوں نے؟ شہر کا یہ حال ایک رات میں تو نہیں ہوا، لاہور دنیا کا پہلا شہر تو نہیں ہے جسے اسموگ کا سامنا کرنا پڑا ہے، لندن نے تو یہ صورتِ حال پچاس کی دہائی میں دیکھی، لاس اینجلس نے ساٹھ اور ستر کی دہائی میں، بعد ازاں بیجنگ سے میکیسکو تک، بہت سے شہر یہ بھگت چکے ہیں اور اس پر قابو پا چکے ہیں۔ ہمارے سامنے مثالیں موجود تھیں، اینٹی اسموگ پالیسیاں موجود تھیں، مگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم مراجعت فرما رہے ہیں، پہلے ہم روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتے تھے، اب ہم صاف ہوا اور پانی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

حماد غزنوی کے بقول ماہرین کہہ رہے ہیں اگر آج سے بھرپور کوشش آغاز کی جائے تو اسموگ کے مسئلے پر قابو پانے کےلیے لگ بھگ ایک دہائی صرف ہو گی۔لہٰذا، ایئر کوالٹی انڈکس کی ایپ فون میں ڈاؤن لوڈ کریں، ائیر پیوری فائر کے پیسوں کا بندوبست کیجیے، گھر سے نکلتے ہوئے ماسک لگائیے، اور ہاں زیرِ ماسک طاقت وروں پر تبرا بھیجنا نہ بھولیے گا۔

Back to top button