حکومت نے NRO کی متلاشی PTI کو ٹھینگا دکھا دیا

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے حکومت کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش کے بعد حکومت بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات سے انکاری ہو گئی۔ حکومت نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ پی ٹی آئی دباو کیلئے جو مرضی راستہ اختیار کر لے عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا۔ عمران خان کو اپنی ماضی کی سیاہ۔کاریوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ عمران خان کی جیل سے رہائی صرف عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی ممکن ہے۔ سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر  سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے چار مطالبات خیالی غبارے ہیں، ان پر حکومت کسی طرح کے کوئی مذاکرات نہیں کر رہی ہے نہ پی ٹی آئی کو اس سلسلے میں کوئی رعایت دی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں فائنل احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ پی ٹی آئی کے دعووں کے مطابق مظاہرین عمران خان کی رہائی، 26ویں آئینی ترمیم اور مبینہ چوری شدہ مینڈیٹ کی واپسی اور جیلوں میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی اور مقدمات کے خاتمے تک اسلام آباد سے واپس نہیں آئینگے۔ تاہم دوسری جانب علیمہ خان  کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے پارٹی چئیرمین گوہر خان اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔

تاہم اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پی ٹی آئی کے مطالبات بارے سینیر لیگی رہنما عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے چاروں مطالبات نان سارٹر ہیں۔ پی ٹی آئی 24 نومبر کو احتجاج کا اعلان کرکے بند گلی میں آ چکی ہے۔ وہ اس سے نکلنے کے لئے کسی بہانے کی تلاش میں ہے۔ خود پی ٹی آئی کے سینئر رہنما رسوائی سے بچنے کے لئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے سامنے آنے والے مطالبات پر کوئی سنجیدہ مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ تاہم یہ بات کنفرم ہےکہ حکومت کسی بھی طرح کے دبائو میں آکر عمران خان یا پی ٹی آئی قیادت کو کوئی این آر او نہیں دے گی۔ عرفان صدیقی کے مطابق عمران خان نے اپنی حکومت کے دوران سیاسی مخالفین پر غداری، ایفی ڈرین، ہیروئن اور کرایہ داری جیسے جھوٹے اور مضحکہ خیز مقدمات بنا کر اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا جبکہ ہم نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ عمران خان اور ان کے تمام ساتھیوں پر ٹھوس مقدمات قائم ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا نوازشریف، عمران خان کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں؟ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ نوازشریف اس نوع کا سیاستدان نہیں۔ اُس نے تو لندن سے آتے ہی ماضی کو بھلا دینے کی بات کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے سنگین جرائم کی وجہ سے جیل میں ہیں اور مقدمات بھگت رہے ہیں۔ کیا توشہ خانہ کی گھڑیاں اور زیورات نوازشریف نے دبئی کے بازاروں میں بیچنے کے لئے کہا تھا؟ کیا 190 ملین پاﺅنڈ کے عوض زمین ہتھیانے اور نام نہاد القادر ٹرسٹ بنانے کے لئے نوازشریف نے کہا تھا؟ کیا اڑھائی سو فوجی تنصیبات پر حملے نوازشریف نے کرائے تھے۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر کوئی معقول مطالبات ہیں تو آئیں بات کریں لیکن چھبیس ویں ترمیم ختم کرنے، مینڈیٹ واپس کرنے، مقدمات ختم کرنے اور تمام قیدیوں کو رہا کردینے جیسے بے تُکے مطالبات پر بات نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہاکہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا اقرار تو جنرل باجوہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے کہا تھا کہ ”ہاں ہم نے عمران خان کو جتانا تھا لیکن مصالحہ کچھ زیادہ لگ گیا۔“سینیٹر عرفان صدیقی کہا کہ پی ٹی آئی 24 نومبر کی کال واپس لے لے تو اچھا ہے ورنہ حکومت آئین وقانون کے تحت عوام کی جان ومال کے تحفظ کے لئے اپنا فرض ادا کرے گی۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے مطالبات بارے گفتگو کرتےہوئےطوزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے تمام مطالبات مان لیے گئے تو اس کے نتیجے میں ہم سب کو اڈیالہ جیل جانا پڑے گا۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی مذاکرات پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہی ان سے مذاکرات کرے تو سوال یہ ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے کس سطح پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اگر مذاکرات کے ذریعے احتجاج ختم کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو ہوسکتا ہے کہ انہیں مذاکرات کی یقین دہانی کرا دی جائے۔

بشری بی بی کی آمریت کے خلاف PTI میں فارورڈ بلاک بن گیا

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ان کے مطالبات مانے جائیں تاکہ پھر وہ 24 نومبر کو جشن منائیں، ان کے مطالبات میں 26ویں ترمیم کی واپسی، ان سمیت پی ٹی آئی کے 9 مئی سانحے میں ملوث تمام کارکنوں کی رہائی اور ان کے مینڈیٹ کی واپسی ہے جس کے نتیجے میں انہیں حکومت میں بٹھایا جائے اور اس کے نتیجے میں ہم اڈیالہ جیل چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مطالبات کو تسلیم کرنا ناممکن ہے۔

Back to top button